سنن النسائي حدیث نمبر: 1936
Sunan an-Nasa'i 1936
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
50: بَابُ : الثَّنَاءِ
باب: مردے کی تعریف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قال: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ , ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثِ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا شَرًّا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، فَقُلْتُ: وَمَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قال: قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ قَالُوا خَيْرًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ" , قُلْنَا: أَوْ ثَلَاثَةٌ , قَالَ: أَوْ ثَلَاثَةٌ , قُلْنَا: أَوِ اثْنَانِ , قَالَ: أَوِ اثْنَانِ.
ابو اسود دیلی کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا ، تو اس کی تعریف کی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : واجب ہو گئی ، پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا ، تو اس کی ( بھی ) تعریف کی گئی ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : واجب ہو گئی ، پھر ایک تیسرا جنازہ لے جایا گیا ، تو اس کی مذمت کی گئی ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : واجب ہو گئی ، تو میں نے پوچھا : امیر المؤمنین ! کیا واجب ہو گئی ؟ انہوں نے کہا : میں نے وہی بات کہی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی : ” جس مسلمان کے لیے بھی چار لوگوں نے خیر کی گواہی دی تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا “ ، ہم نے پوچھا : ( اگر ) تین گواہی دیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین ہی سہی “ ، ( پھر ) ہم نے پوچھا : ( اگر ) دو گواہی دیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو ہی سہی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1936]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 85 (1368)، والشھادات 6 (2643)، سنن الترمذی/الجنائز 63 (1059)، (تحفة الأشراف: 10472)، مسند احمد 1/21، 22، 45، 30، 46 (صحیح)