كتاب الصيام
کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
کتاب #26 • کل احادیث: 345
|
44: بَابُ : ثَوَابِ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ فِي الْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: اللہ کی راہ میں ایک دن کے روزہ رکھنے کا ثواب، اور اس سلسلہ کی روایت میں سہیل بن ابوصالح پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ بِذَلِكَ الْيَوْمِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ کی راہ ( یعنی جہاد یا اس کے سفر ) میں ایک دن کا روزہ رکھا ، اللہ تعالیٰ اسے اس دن کے بدلے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2246]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/فضائل الجھاد 3 (1622)، سنن ابن ماجہ/الصوم 34 (1718)، (تحفة الأشراف: 18624) حم2/300، 357 (صحیح) (مزی نے تحفة الاشراف میں ابن حیویہ کی روایت پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث کو مراسیل میں ذکر کیا ہے (18624) اس لیے کہ اس کے نسخہ (ہ) میں ’’عن أبي هريرة‘‘ ساقط ہے، اور ابن الاحمر اور ابن سیار نیز سنن صغریٰ سب میں ’’عن ابی ہریرة“ موجود ہے، اور مسند میں بھی ایسے ہی ہے) (ملاحظہ ہو: السنن الکبریٰ: 2564)
|
|
|
أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ بِذَلِكَ الْيَوْمِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اس کے اور جہنم کی آگ کے درمیان ستر سال کی دوری کر دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2247]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 4289 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ عزوجل اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2248]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 12659، مسند احمد 2/357 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ مِنْ جَهَنَّمَ سَبْعِينَ عَامًا".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2249]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 4078، مسند احمد 3/45 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا بَعَّدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس شخص نے بھی اللہ عزوجل کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا ، اللہ عزوجل اس دن کے بدلے اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2250]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 36 (2840)، صحیح مسلم/الصوم 31 (1153)، سنن الترمذی/الجہاد 3 (1623)، سنن ابن ماجہ/الصوم 34 (1717)، تحفة الأشراف: 4388، مسند احمد 3/26، 59، 83، سنن الدارمی/الجہاد 10 (2444)، و یأتي عند المؤلف بأرقام: 2251-2255) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَهُ اللَّهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا ، اللہ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2251]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2250 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَسُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے آگ سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2252]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2247 (صحیح)
|
|
|
45: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ فِيهِ
باب: اس حدیث میں سفیان ثوری پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ نَيْسَابُورِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْعَدَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ تَعَالَى بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بندہ بھی اللہ کی راہ میں کسی دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اسے جہنم کی آگ سے ستر سال دوری پر کر دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2253]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2250 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ حَرَّ جَهَنَّمَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے بدلے اس سے جہنم کی گرمی کو ستر سال کی دوری پر کر دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2254]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2250 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي: حَدَّثَكُمُ ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اس سے جہنم کی آگ کو ستر سال دور کر دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2255]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2247 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَ اللَّهُ مِنْهُ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ مِائَةِ عَامٍ".
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے جہنم کو سو سال کی مسافت کی دوری پر کر دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2256]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 9947 (حسن)
|
|
|
46: بَابُ : مَا يُكْرَهُ مِنَ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ".
کعب بن عاصم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2257]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصوم11 (1664)، مسند احمد 5/434، سنن الدارمی/الصوم15 (1751) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ ابْنَ كَثِيرٍ عَلَيْهِ.
( تابعی ) سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ غلط ہے ، صحیح روایت وہ ہے جو پہلے گزری ہے ۔ ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس پر ابن محمد بن کثیر کی متابعت کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2258]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، جس کی وضاحت خود مؤلف نے کر دی ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر اصل حدیث صحیح ہے)
|
|
|
47: بَابُ : الْعِلَّةِ الَّتِي مِنْ أَجْلِهَا قِيلَ ذَلِكَ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فِي ذَلِكَ
باب: حدیث میں محمد بن عبدالرحمٰن پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نَاسًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى رَجُلٍ , فَسَأَلَ فَقَالُوا: رَجُلٌ أَجْهَدَهُ الصَّوْمُ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک شخص کو گھیرے ہوئے دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ( کیا بات ہے ؟ کیوں لوگ اکٹھا ہیں ؟ ) تو لوگوں نے کہا : ایک شخص ہے جسے روزہ نے نڈھال کر دیا ہے ، تو آپ نے فرمایا : ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی و تقویٰ نہیں ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2259]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2590)، مسند احمد 3/352 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ يُرَشُّ عَلَيْهِ الْمَاءُ , قَالَ: " مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ هَذَا؟" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَائِمٌ , قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ، وَعَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّتِي رَخَّصَ لَكُمْ فَاقْبَلُوهَا" ,
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک درخت کے سایہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اس پر پانی چھڑکا جا رہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تمہارے اس ساتھی کو کیا ہو گیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ روزہ دار ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ نیکی و تقویٰ نہیں ہے کہ تم سفر میں روزہ رکھو ، اللہ نے جو رخصت تمہیں دی ہے اسے قبول کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2260]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا نَحْوَهُ.
یحییٰ کہتے ہیں مجھے محمد بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں : مجھ سے جس شخص نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اسی طرح بیان کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2261]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2259 (صحیح)
|
|
|
48: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ
باب: علی بن مبارک پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ، عَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاقْبَلُوهَا".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ، اللہ عزوجل کی دی گئی رخصت ( اجازت ) کو لازم پکڑو اور اسے قبول کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2262]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2259 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ".
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2263]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2259 (صحیح)
|
|
|
49: بَابُ : ذِكْرِ اسْمِ الرَّجُلِ
باب: اوپر والی جابر رضی الله عنہ کی حدیث میں مبہم راوی کے نام کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ , عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فِي السَّفَرِ , فَقَالَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ".
محمد بن عبدالرحمٰن نے محمد بن عمرو بن حسن سے روایت کی ، اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ سفر میں اس کے اوپر سایہ کیا گیا ہے ، تو آپ نے فرمایا : ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2264]
💡 وضاحت:
۱؎: اوپر والی روایت میں مذکور «عن رجل» میں رجل سے مراد یہی محمد بن عمرو بن حسن ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 36 (1946)، صحیح مسلم/الصوم 15 (1115)، سنن ابی داود/الصوم 43 (2407)، (تحفة الأشراف: 2645)، مسند احمد 3/ 299، 317، 319، 398، سنن الدارمی/الصوم 15 (1750) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ، فَبَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ، فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنَ الْمَاءِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ وَصَامَ بَعْضٌ فَبَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا , فَقَالَ: " أُولَئِكَ الْعُصَاةُ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کے لیے نکلے ، تو آپ نے روزہ رکھا ، یہاں تک کہ آپ کراع الغمیم پر پہنچے ، تو لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا ، تو آپ کو خبر ملی کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہو گیا ہے ، تو آپ نے عصر کے بعد پانی سے بھرا ہوا پیالہ منگایا ، پھر پانی پیا ، اور لوگ دیکھ رہے تھے ، تو ( آپ کو دیکھ کر ) بعض لوگوں نے روزہ توڑ دیا ، اور بعض رکھے رہ گئے ، آپ کو یہ بات پہنچی کہ کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـ : ” یہی لوگ نافرمان ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2265]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم15 (1114)، سنن الترمذی/الصوم18 (710)، (تحفة الأشراف: 2598) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ , فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: " أَدْنِيَا فَكُلَا"، فَقَالَا: إِنَّا صَائِمَانِ، فَقَالَ: " ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمُ اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مرالظہران ( مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے ) میں کھانا لایا گیا ، تو آپ نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا : ” تم دونوں قریب آ جاؤ اور کھاؤ “ ، انہوں نے عرض کیا : ہم روزہ سے ہیں ، تو آپ نے لوگوں سے کہا : ” اپنے دونوں ساتھیوں کے کجاوے کس دو ، اور اپنے دونوں ساتھیوں کے کام کر دو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2266]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے سفر میں روزہ رکھنے کا جواز ثابت ہوا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ روزہ دار کو سہولت پہنچائی جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن وهو مدلس،والصواب أنه مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج دارالدعوہ:
مسند احمد 2/336 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَدَّى بِمَرِّ الظَّهْرَانِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ , فَقَالَ: الْغَدَاءَ مُرْسَلٌ.
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے ، آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا : ” آؤ کھانا کھاؤ “ یہ روایت مرسل ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2267]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، السند مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، جیسا کہ مؤلف نے بیان فرمایا اس لیے ابوسلمہ تابعی نے صحابی کا ذکر نہیں کیا لیکن اصل حدیث سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ , كَانُوا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ مُرْسَلٌ.
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما مرالظہران میں تھے یہ روایت مرسل ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2268]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (2267) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وانظر رقم2266 (صحیح) (اس سند میں بھی ارسال ہے جیسا کہ اوپر والی روایت میں گزرا، لیکن اصل حدیث سے سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے، اور یہ واضح رہے کہ مؤلف رحمہ اللہ اس طرح کی روایتوں کو ان کی علت اور ضعف بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں، کبھی صراحة اور کبھی صحیح اور غیر صحیح روایات کو پیش کر کے ان کی اصل اور ان کے اختلافات کا تذکرہ کرتے ہیں)
|
|
|
50: بَابُ : ذِكْرِ وَضْعِ الصِّيَامِ عَنِ الْمُسَافِرِ، وَالاِخْتِلاَفِ، عَلَى الأَوْزَاعِيِّ فِي خَبَرِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ فِيهِ
باب: مسافر کے روزہ نہ رکھنے کا بیان اور عمرو بن امیہ رضی الله عنہ کی حدیث میں اوزاعی پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، فَقَالَ: " انْتَظِرِ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ" , فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , فَقَالَ: " تَعَالَ ادْنُ مِنِّي حَتَّى أُخْبِرَكَ عَنِ الْمُسَافِرِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ".
عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا ، آپ نے فرمایا : ” اے ابوامیہ ! ( بیٹھو ) صبح کے کھانے کا انتظار کر لو “ ، میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آؤ میرے قریب آ جاؤ ، میں تمہیں مسافر سے متعلق بتاتا ہوں ، اللہ عزوجل نے اس سے روزے معاف کر دیا ہے اور آدھی نماز بھی “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2269]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سفر کی حالت میں مسافر پر روزہ رکھنا ضروری نہیں، قرار دیا، بلکہ اسے اختیار دیا ہے کہ وہ چاہے تو روزہ رکھ لے (اگر اس کی طاقت پاتا ہے تو) یا چاہے تو ان کے بدلہ اتنے ہی روزے دوسرے دنوں میں رکھ لے، لیکن مسافر سے روزہ بالکل معاف نہیں ہے، ہاں چار رکعت والی نماز میں سے دو رکعت کی چھوٹ دی ہے، چاہے تو چار رکعت پڑھے اور چاہے تو دو رکعت، اور پھر اس کی قضاء نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا تَنْتَظِرُ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ" , قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , فَقَالَ: " تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الْمُسَافِرِ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ".
عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھ سے فرمایا : ” اے امیہ ! تم کیوں نہیں دوپہر کے کھانے کا انتظار کر لیتے “ ، میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ۔ تو آپ نے فرمایا : ( میرے قریب ) آ جاؤ ۔ ” میں مسافر کے سلسلے میں تمہیں ( شریعت کا حکم ) بتاتا ہوں : اللہ تعالیٰ نے اس سے روزہ کی چھوٹ دے دی ہے ، اور نماز آدھی کر دی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2270]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10702) (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا ذَهَبْتُ لِأَخْرُجَ , قَالَ: " انْتَظِرِ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ"، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ! قَالَ: " تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الْمُسَافِرِ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ" ,
ابوامیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا ، تو میں نے آپ کو سلام کیا ، پھر جب میں نکلنے لگا تو آپ نے فرمایا : ” اے ابوامیہ ! دوپہر کے کھانے کا انتظار کر لو “ ۔ میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں روزے سے ہوں ، آپ نے فرمایا : ” آؤ میں تمہیں مسافر کے بارے میں بتاتا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اس سے روزے کی چھوٹ دے دی ہے ، اور نماز آدھی کر دی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2271]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10708، سنن الدارمی/الصوم 16 (1753) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْمُهَاجِرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَيَّةَ يَعْنِي الضَّمْرِيَّ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ابوالمہاجر کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوامیہ یعنی ضمری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2272]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ، أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ حَدَّثَهُمْ , أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، فَقَالَ: " انْتَظِرِ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ". قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ: " ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنِ الْمُسَافِرِ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ".
ابوقلابہ جرمی کا بیان ہے کہ ان سے ابوامیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ نے ان سے کہا : ” ابوامیہ ! دوپہر کے کھانے کا انتظار کر لو “ ( کھا کر چلے جانا ) میں نے کہا : میں روزے سے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب آؤ ، میں مسافر کے بارے میں تمہیں بتاتا ہوں : اللہ نے اس سے روزے کی چھوٹ دے دی ہے ، اور نماز آدھی کر دی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2273]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10704) (صحیح)
|
|
|
51: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ وَعَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں معاویہ بن سلام اور علی بن المبارک کے یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا تَنْتَظِرِ الْغَدَاءَ" , قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الصِّيَامِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصِّيَامَ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ".
ابوامیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور وہ روزے سے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : ” ( تم جانا چاہتے ہو ) کیا ، تم دوپہر کے کھانے کا انتظار نہیں کرو گے “ ، انہوں نے کہا : میں روزے سے ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آؤ میں روزے سے متعلق تمہیں بتاتا ہوں ۔ اللہ عزوجل نے مسافر کو روزے کی چھوٹ دی ہے اور نماز آدھی کر دی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2274]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ، أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ نَحْوَهُ.
ابوامیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفر سے آئے ، آگے راوی نے پوری روایت اسی طرح ذکر کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2275]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10709) (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ التَّلِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ، وَالصَّوْمَ وَعَنِ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ".
انس ( قشیری ) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے اور ، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی “ ( روزے کی چھوٹ دی ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2276]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم43 (2408)، سنن الترمذی/الصوم21 (715)، سنن ابن ماجہ/الصوم12 (1667)، (تحفة الأشراف: 1732)، مسند احمد 4/347 و5/29، وانظر الأرقام التالیة، 2277، إلی 2280، 2284، 2317 (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ قُشَيْرٍ، عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنَا، ثُمَّ أَلْفَيْنَاهُ فِي إِبِلٍ لَهُ , فَقَالَ لَهُ أَبُو قِلَابَةَ حَدِّثْهُ , فَقَالَ الشَّيْخُ: حَدَّثَنِي عَمِّي، أَنَّهُ ذَهَبَ فِي إِبِلٍ لَهُ فَانْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ، أَوْ قَالَ: يَطْعَمُ , فَقَالَ: " ادْنُ فَكُلْ"، أَوْ قَالَ: " ادْنُ فَاطْعَمْ" , فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامَ وَعَنِ الْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ".
ایوب قبیلہ قشیر کے ایک شیخ سے ، اور وہ قشیری اپنے چچا ۱؎ سے روایت کرتے ہیں ، ( ایوب کہتے ہیں ) ہم سے حدیث بیان کی گئی ، پھر ہم نے انہیں ( شیخ قشیری کو ) ان کے اونٹوں میں پایا ، تو ان سے ابوقلابہ نے کہا : آپ ان سے ( ایوب سے ) حدیث بیان کیجئے تو ( قشیری ) شیخ نے کہا : مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا کہ وہ اپنے اونٹوں میں گئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ، آپ کھانا کھا رہے تھے ( راوی کو شک ہے «یا ٔکل» کہا یا «یطعم» کہا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب آؤ اور کھانا کھاؤ “ ( راوی کو شک ہے «ادن فکل» کہا یا «ادن فاطعم» کہا ) تو میں نے کہا : «مںَ صائم» ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دے دی ہے ، اور حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2277]
💡 وضاحت:
۱؎: ان کا نام انس بن مالک قشیری ہے۔ ۲؎: حاملہ اور مرضعہ کو روزے کی چھوٹ دی ہے، نہ کہ آدھی نماز کی، جیسا کہ متبادر ہو رہا ہے، ترمذی کی عبارت واضح ہے ”مسافر کو روزہ اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ و مرضعہ کو روزے کی“۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر رقم2276 (حسن) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، ثُمّ قَالَ: هَلْ لَكَ فِي صَاحِبِ الْحَدِيثِ , فَدَلَّنِي عَلَيْهِ فَلَقِيتُهُ , فَقَالَ: حَدَّثَنِي قَرِيبٌ لِي , يُقَالُ لَهُ: أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلٍ كَانَتْ لِي أُخِذَتْ فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ فَدَعَانِي إِلَى طَعَامِهِ , فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: " ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ".
ایوب کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوقلابہ نے یہ حدیث بیان کی ، پھر مجھ سے کہا : کیا آپ اس حدیث کے بیان کرنے والے سے ملنا چاہیں گے ؟ پھر انہوں نے ان کی طرف میری رہنمائی کی ، تو میں جا کر ان سے ملا ، انہوں نے کہا : مجھ سے میرے ایک رشتہ دار نے جنہیں انس بن مالک کہا جاتا ہے نے بیان کیا کہ میں اپنے اونٹوں کے سلسلے میں جو پکڑ لیے گئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں پہنچا تو آپ کھانا کھا رہے تھے ، تو آپ نے مجھے اپنے کھانے میں شریک ہونے کے لیے بلایا ۔ میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاتا ہوں ، ( سنو ) اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ ، اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2278]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم: 2276، 2277 (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ فَإِذَا هُوَ يَتَغَدَّى , قَالَ: " هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ" , فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ: " هَلُمَّ أُخْبِرْكَ عَنِ الصَّوْمِ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمَ وَرَخَّصَ لِلْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ".
ایک صحابی کہتے ہیں : میں ایک ضرورت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اتفاق کی بات آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے ، آپ نے کہا : آؤ کھانا میں شریک ہو جاؤ ، میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ، آپ نے فرمایا : آؤ میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے ، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی چھوٹ دی ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2279]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر ان کے روزہ رکھنے سے پیٹ کے بچہ کو یا شیرخوار بچہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اوہ روزہ نہ رکھیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2276و2277 (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ نَحْوَهُ.
ابو العلاء بن شخیر بھی ایک شخص سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2280]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2276 (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْحَرِيشٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا صَائِمٌ وَهُوَ يَأْكُلُ , قَالَ: " هَلُمَّ" , قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ: " تَعَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ" , قُلْتُ: وَمَا وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ , قَالَ: " الصَّوْمَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ".
ہانی بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور میں روزے سے تھا ، اور آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” آؤ “ ( کھانے میں شریک ہو جاؤ ) میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ” ادھر آؤ ، کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے “ ۔ میں نے کہا : اللہ نے مسافر کو کیا چھوٹ دی ہے ؟ آپ نے فرمایا : روزے کی ، اور آدھی نماز کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2281]
💡 وضاحت:
۱؎: بلحریش بنی الحریش کا مخفف ہے جیسے بلحارث بنی الحارث کا مخفف ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 5353 (صحیح) (سابقہ متابعت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ھانی بن الشخیر‘‘ لین الحدیث ہیں، نیز اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْحَرِيشٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ مَا شَاءَ اللَّهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَطْعَمُ، فَقَالَ: " هَلُمَّ فَاطْعَمْ"، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُحَدِّثُكُمْ عَنِ الصِّيَامِ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ".
ہانی بن عبداللہ بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا ہم سفر کرتے رہے ، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” آؤ کھانا کھاؤ “ ، میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں : اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزے کی چھوٹ دی ہے ، اور آدھی نماز کی بھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2282]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح) (دیکھئے پچھلی روایت پر کلام)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ، وَأَنَا صَائِمٌ , فَقَالَ: " هَلُمَّ"، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ: " أَتَدْرِي مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ؟" , قُلْتُ: وَمَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ؟ قَالَ: " الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ کھانا کھا رہے تھے اور میں روزے سے تھا ، آپ نے فرمایا : آؤ ( کھانا کھا لو ) میں نے کہا : میں روزے سے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہیں وہ چیز معلوم ہے جس کی اللہ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ؟ ، میں نے کہا : کس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ؟ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزے اور آدھی نماز کی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2283]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2281 (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ھانی‘‘ لین الحدیث ہیں)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُوسَى هُوَ ابْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ غَيْلَانَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي قِلَابَةَ فِي سَفَرٍ فَقَرَّبَ طَعَامًا، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي سَفَرٍ فَقَرَّبَ طَعَامًا , فَقَالَ لِرَجُلٍ: " ادْنُ فَاطْعَمْ" , قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامَ فِي السَّفَرِ فَادْنُ فَاطْعَمْ" , فَدَنَوْتُ فَطَعِمْتُ.
غیلان کہتے ہیں : میں ابوقلابہ کے ساتھ ایک سفر میں نکلا ( کھانے کے وقت ) انہوں نے کھانا میرے آگے بڑھایا تو میں نے کہا : میں تو روزے سے ہوں ، اس پر انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں نکلے ، آپ نے کھانا آگے بڑھاتے ہوئے ایک شخص سے کہا : ” قریب آ جاؤ کھانا کھاؤ “ ، اس نے کہا : میں روزے سے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـ : ” اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے آدھی نماز کی اور سفر میں روزے کی چھوٹ دی ہے “ ۔ تو اب آؤ کھاؤ ، تو میں قریب ہو گیا ، اور کھانے لگا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2284]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2276 (صحیح) (سند میں ضعف ارسال کی وجہ سے ہے، اس لیے کہ ابو قلابہ نے راوی صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، متابعات سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
52: بَابُ : فَضْلِ الإِفْطَارِ فِي السَّفَرِ عَلَى الصِّيَامِ .
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنا رکھنے سے بہتر ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَنَزَلْنَا فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَاتَّخَذْنَا ظِلَالًا فَسَقَطَ الصُّوَّامُ، وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَسَقَوْا الرِّكَابَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ، ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے تھے اور کچھ لوگ بغیر روزے کے تھے ، ہم نے ایک گرم دن میں پڑاؤ کیا ، اور ہم ( چھولداریاں اور خیمے لگا لگا کر ) سایہ کرنے لگے ، تو روزہ دار ( سخت گرمی کی تاب نہ لا کر ) گر گر پڑے ، اور روزہ نہ رہنے والے اٹھے ، اور انہوں نے سواریوں کو پانی پلایا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آج غیر روزہ دار ثواب مار لے گئے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2285]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد71 (2890)، صحیح مسلم/الصوم16 (1119)، (تحفة الأشراف: 1607) (صحیح)
|
|
|
53: بَابُ : ذِكْرِ قَوْلِهِ الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ .
باب: حدیث نبوی ”سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے“ کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: " يُقَالُ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ كَالْإِفْطَارِ فِي الْحَضَرِ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں : کہا جاتا ہے سفر میں روزہ رکھنا ایسا ہے جیسے حضر میں افطار کرنا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2286]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1666) أبو سلمة لم يسمع من أبيه كما قال يحيي بن معين (المراسيل لإبن أبى حاتم: ص 255 وسنده صحيح) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصوم 11 (1666) مرفوعا (ضعیف) (ابوسلمہ کا اپنے والد ”عبدالرحمن بن عوف‘‘ سے سماع نہیں ہے (لیکن حمید کا سماع ہے، ان کی روایت آگے آ رہی ہے، اور ابن ماجہ کی روایت جو مرفوعاً ہے اس میں یہی انقطاع ہے، نیز اس میں ایک ضعیف راوی بھی ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ الْخَيَّاطِ، وَأَبُو عَامِرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: " الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں : سفر میں روزہ رکھنے والا ایسا ہی ہے جیسے حضر میں روزہ نہ رکھنے والا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2287]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1666) أبو سلمة لم يسمع من أبيه كما قال يحيي بن معين (المراسيل لإبن أبى حاتم: ص 255 وسنده صحيح) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی روایت پر کلام)
|
|
|
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں : سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2288]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جس طرح حضر میں افطار کرنا گناہ ہے اس طرح سفر میں روزہ رکھنا بھی باعث گناہ ہے، مگر یہ صحابی کا قول ہے جو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہے (یعنی مسافر کو چھوٹ ہے چاہے رکھے، چاہے نہ رکھے اور قضاء کرے)۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، الزهري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9719-ألف) (ضعیف)
|
|
|
54: بَابُ : الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ .
باب: سفر میں روزہ رکھنے کا بیان اور اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا، ثُمَّ أُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ وَأَفْطَرَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں سفر پر نکلے ، تو آپ روزے سے رہے ۔ یہاں تک کہ آپ قدید پہنچے ، تو آپ کے سامنے دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا ، تو آپ نے پیا ، اور آپ نے اور آپ کے صحابہ نے روزہ توڑ دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2289]
💡 وضاحت:
۱؎: ”قدید“ مدینہ سے سات منزل کی دوری پر ”عسفان“ کے قریب ایک گاؤں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6479)، مسند احمد 1/244، 341، 344، 350 (صحیح) (آنے والی احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا، ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں روزہ رکھا ، ( اور چلے ) یہاں تک کہ آپ قدید آئے ، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا ، اور مکہ پہنچنے تک بغیر روزہ کے رہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2290]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 6388 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَامَ فِي السَّفَرِ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا یہاں تک کہ آپ قدید آئے ، پھر آپ نے دودھ کا ایک پیالہ منگایا اور ( اسے ) پیا ، اور آپ نے اور آپ کے اصحاب نے روزہ توڑ دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2291]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2289 (صحیح)
|
|
|
55: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مَنْصُورٍ
باب: اس حدیث میں منصور پر رواۃ کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى أَتَى عُسْفَانَ، فَدَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ قَالَ شُعْبَةُ فِي رَمَضَانَ، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: مَنْ شَاءَ صَامَ , وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لیے نکلے ، آپ روزہ رکھے ہوئے تھے ۔ یہاں تک کہ آپ عسفان ۱؎ پہنچے ، تو ایک پیالہ منگایا اور پیا ۔ شعبہ کہتے ہیں : یہ واقعہ رمضان کے مہینے کا ہے ، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے : سفر میں جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2292]
💡 وضاحت:
۱؎: عسفان کے پاس ہی قدید ہے، یہ واقعہ وہی ہے جس کا تذکرہ اوپر روایتوں میں ہے، کسی راوی نے قدید کہا اور کسی نے عسفان۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصوم 10 (1661) مختصراً، (تحفة الأشراف: 6425)، مسند احمد 1/340 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ نَهَارًا يَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سفر کیا ، اور آپ روزہ رکھے ہوئے تھے ، یہاں تک کہ عسفان پہنچے تو آپ نے ایک برتن منگایا ، تو دن ہی میں پی لیا ، لوگ اسے دیکھ رہے تھے ، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2293]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 38 (1948)، صحیح مسلم/الصوم 15 (1113)، سنن ابی داود/الصوم 42 (2404)، (تحفة الأشراف: 5749، مسند احمد 1/259، 291، 325 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِمُجَاهِدٍ: الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ وَيُفْطِرُ".
عوام بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں روزہ رکھتے تھے اور نہیں بھی رکھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2294]
💡 وضاحت:
۱؎: اپنی آسانی دیکھ کر جیسا مناسب سمجھے کرے، اللہ نے نہ رکھنے کی رخصت دی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2292 (صحیح) (اس کے راوی عوام ضعیف ہیں، لیکن اگلی سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُجَاهِدٌ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ , وَأَفْطَرَ فِي السَّفَرِ".
مجاہد کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں روزے رکھے ، اور سفر میں بغیر روزے کے رہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2295]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2292 (صحیح) (یہ سند مرسل ہے، اس لیے کہ تابعی مجاہد نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، لیکن متابعت کی بنا پر صحیح ہے)
|
|
|
56: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ فِي حَدِيثِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو فِيهِ
باب: اس حدیث میں حمزہ بن عمرو کی حدیث میں سلیمان بن یسار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ , قَالَ: " إِنْ"، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، " إِنْ شِئْتَ صُمْتَ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْطَرْتَ".
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” چاہو تو روزہ رکھو ، اور چاہو تو نہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2296]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 17 (1121)، سنن ابی داود/الصوم 42 (2402)، مسند احمد 3/494، سنن الدارمی/الصوم 15 (1714)، وانظر الأرقام التالیة إلی2307، وأیضاً رقم 2308-2310 (صحیح) (مؤلف کی اس سند میں ’’سلیمان‘‘ اور ’’حمزہ‘‘ رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن حدیث رقم2304 کی سند متصل ہے، نیز اس کی دیگر سند میں بھی متصل ہیں)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مِثْلَهُ مُرْسَلٌ.
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آگے اوپر والی حدیث کے مثل ہے اور یہ حدیث مرسل ۲؎ ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2297]
💡 وضاحت:
۱؎: مرسل سے مراد منقطع ہے کیونکہ سلیمان بن یسار اور حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کے درمیان ابو مرواح کا واسطہ چھوٹا ہوا ہے جیسا کہ حدیث نمبر ۲۳۰۴ (جو آگے آ رہی ہے) کی سند سے واضح ہے (واللہ اعلم)۔
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر رقم 2296 (مرسل)
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ , قَالَ: " إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2298]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ , وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو ، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2299]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ، فَذَكَرَ آخَرَ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، قَالَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں سفر میں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں ( تو کیا میں روزہ رکھوں ؟ ) آپ نے فرمایا : ” اگر چاہو تو رکھو ، اور چاہو تو نہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2300]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، قَالَ: " إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا : تو آپ نے فرمایا : ” اگر رکھنا چاہو تو رکھو ، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2301]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَحَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَانِي جَمِيعًا، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَسْرُدُ الصِّيَامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَسْرُدُ الصِّيَامَ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلسل روزہ رکھتا تھا ، تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سفر میں مسلسل روزہ رکھوں ؟ تو آپ نے فرمایا : ” اگر چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2302]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ حَمْزَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصِّيَامَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ، قَالَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں مسلسل روزہ رکھنے والا آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی برابر روزہ رکھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر چاہو تو رکھو ، اور اگر چاہو تو نہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2303]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مُرَاوِحٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ رَجُلًا يَصُومُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو سفر میں روزہ رکھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر چاہو تو رکھو ، اور اگر چاہو تو نہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2304]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)
|
|
|
57: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عُرْوَةَ فِي حَدِيثِ حَمْزَةَ فِيهِ
باب: حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کی حدیث میں عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو، وَذَكَرَ آخَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجِدُ فِيَّ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ قَالَ: " هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : میں اپنے اندر سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں ، تو کیا ( اگر میں روزہ رکھوں تو ) مجھ پر گناہ ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اللہ عزوجل کی جانب سے رخصت ہے ، تو جس نے اس رخصت کو اختیار کیا تو یہ اچھا ہے ، اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی حرج نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2305]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)
|
|
|
58: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں ہشام بن عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : میں سفر روزہ میں رکھوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر چاہو تو رکھو ، اور اگر چاہو تو نہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2306]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ اللَّانِيُّ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں ، کیا میں سفر میں روزہ رکھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر چاہو تو رکھو ، اور اگر چاہو تو نہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2307]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ , قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سفر میں روزہ رکھوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2308]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم33 (1943)، صحیح مسلم/الصوم17 (1121)، (تحفة الأشراف: 17162، موطا امام مالک/الصیام 7 (24)، مسند احمد 6/46، 93، 202، 207، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم 17 (1121)، سنن ابی داود/الصوم 42 (2402)، سنن الترمذی/الصوم 19 (711)، سنن ابن ماجہ/الصوم 10 (1662) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! سفر میں روزہ رکھوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر چاہو تو رکھو ، اور اگر چاہو تو نہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2309]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17238) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، وَكَانَ رَجُلًا يَسْرُدُ الصِّيَامَ، فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو مسلسل روزہ رکھتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر چاہو تو رکھو ، اور اگر چاہو تو نہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2310]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصوم 19 (711)، (تحفة الأشراف: 17071) (صحیح)
|
|
|
59: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي نَضْرَةَ الْمُنْذِرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ قُطَعَةَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں ابونضرہ منذر بن مالک بن قطعہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: " كُنَّا نُسَافِرُ فِي رَمَضَانَ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، لَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا يَعِيبُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رمضان میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ) سفر کرتے تھے ۔ ہم میں سے کوئی روزہ سے ہوتا تھا ، اور کوئی بغیر روزہ کے ، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والوں کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے کو معیوب سمجھتا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2311]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم15 (1116)، سنن الترمذی/الصوم19 (713)، (تحفة الأشراف: 4325)، مسند احمد 3/12، 45، 50، 74، 87 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ , عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، وَلَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا يَعِيبُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے ، تو ہم میں بعض روزہ دار ہوتے تھے اور بعض بغیر روزہ کے ، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا ، اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو عیب کی نظر سے دیکھتا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2312]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 15 (1116)، سنن الترمذی/الصوم 19 (712)، (تحفة الأشراف: 4344)، مسند احمد 3/12، 50 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَامَ بَعْضُنَا وَأَفْطَرَ بَعْضُنَا".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو ہم میں سے بعض نے روزہ رکھے اور بعض نے نہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2313]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم15 (1117)، (تحفة الأشراف: 3102)، مسند احمد 3/316 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، " أَنَّهُمَا سَافَرَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصُومُ الصَّائِمُ وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ، وَلَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ".
ابو سعید خدری اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا ، تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا ، اور نہ رکھنے والا کھاتا پیتا ، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے کو معیوب نہیں سمجھتا ، اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو معیوب نہیں سمجھتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2314]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
60: بَابُ : الرُّخْصَةِ لِلْمُسَافِرِ أَنْ يَصُومَ بَعْضًا وَيُفْطِرَ بَعْضًا .
باب: مسافر کو اجازت ہے کہ کسی دن روزے سے رہے اور کسی دن کھائے پیئے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ صَائِمًا فِي رَمَضَانَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں فتح مکہ کے سال روزہ کی حالت میں نکلے ۔ یہاں تک کہ جب کدید ۱؎ میں پہنچے تو آپ نے روزہ توڑ دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2315]
💡 وضاحت:
۱؎: کَدِید یا قُدید یہ دونوں مقامات عسفان کے پاس ہیں، اس لیے رواۃ کبھی عسفان کہتے ہیں اور کبھی قُدید اور کبھی کَدِید، واقعہ ایک ہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 34 (1944)، الجہاد 106 (2953)، المغازي 48 (4275، 4276)، صحیح مسلم/الصوم 15 (1113)، (تحفة الأشراف: 5843)، موطا امام مالک/الصیام 7 (21)، مسند احمد 1 (219، 266، 315، 334، 348، 366، سنن الدارمی/الصوم15 (1749) (صحیح)
|
|
|
61: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي الإِفْطَارِ لِمَنْ حَضَرَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَصَامَ ثُمَّ سَافَرَ .
باب: جو رمضان کے مہینے میں روزہ رکھ کر سفر کرے اس کے لیے روزہ توڑنے کی رخصت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ فَافْتَتَحَ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا تو روزہ رکھا یہاں تک کہ عسفان پہنچے ، پھر آپ نے ( پانی سے بھرا ) ایک برتن منگایا ، اور دن ہی میں پیا ، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ لیں ، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے ، یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے ۔ تو آپ نے مکہ کو رمضان میں فتح کیا ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا ، اور روزہ توڑ بھی دیا ہے ، تو جس کا جی چاہے روزہ رکھے ، اور جس کا جی چاہے نہ رکھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2316]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2293 (صحیح)
|
|
|
62: بَابُ : وَضْعِ الصِّيَامِ عَنِ الْحُبْلَى، وَالْمُرْضِعِ، .
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٌ مِنْهُمْ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ"، فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ لِلْمُسَافِرِ الصَّوْمَ، وَشَطْرَ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ".
انس بن مالک ( قشیری ) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” آؤ کھانا کھاؤ “ ۔ انہوں نے عرض کیا : میں روزہ دار ہوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اللہ عزوجل نے مسافر کو روزہ کی ، اور آدھی نماز کی چھوٹ دے دی ہے ، نیز حاملہ اور مرضعہ کو بھی روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ دی گئی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2317]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2276 (صحیح)
|
|
|
63: بَابُ : تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ }
باب: آیت کریمہ: ”جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہوں (اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں“ کی تفسیر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 , كَانَ مَنْ أَرَادَ مِنَّا أَنْ يُفْطِرَ، وَيَفْتَدِيَ حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا".
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ : «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ” جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ( اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں ) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں “ ( البقرہ : ۱۸۴ ) نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص چاہتا کہ وہ افطار کرے ( کھائے پئے ) اور فدیہ دیدے ( تو وہ ایسا کر لیتا ) یہاں کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اسے منسوخ کر دیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2318]
💡 وضاحت:
۱؎: بعد والی آیت سے مراد سورۃ البقرہ کی یہ آیت ہے «فمن شہد منکم الشھر فلیصمہ» یعنی ”تم میں سے جو بھی آدمی رمضان کا مہینہ پائے وہ روزہ رکھے“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر البقرة 26 (4507)، صحیح مسلم/الصوم25 (1155)، سنن ابی داود/الصوم2 (2315)، سنن الترمذی/الصوم75 (798)، (تحفة الأشراف: 4534)، سنن الدارمی/الصوم29 (1775) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 يُطِيقُونَهُ: يُكَلَّفُونَهُ , فِدْيَةٌ: طَعَامُ مِسْكِينٍ وَاحِدٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا سورة البقرة آية 184 طَعَامُ مِسْكِينٍ آخَرَ لَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ سورة البقرة آية 184 لَا يُرَخَّصُ فِي هَذَا إِلَّا لِلَّذِي لَا يُطِيقُ الصِّيَامَ، أَوْ مَرِيضٍ لَا يُشْفَى".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ : «وعلى الذين يطيقونه» میں « يطيقونه» کی تفسیر میں کہتے ہیں معنی یہ ہے کہ جو لوگ روزہ رکھنے کے مکلف ہیں ، ( تو ہر روزہ کے بدلے ) ان پر ایک مسکین کے (دونوں وقت کے) کھانے کا فدیہ ہے ، ( اور جو شخص ازراہ ثواب و نیکی و بھلائی ) ایک سے زیادہ مسکین کو کھانا دے دیں تو یہ منسوخ نہیں ہے ، ( یہ اچھی بات ہے ، اور زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ روزہ ہی رکھے جائیں ) یہ رخصت صرف اس شخص کے لیے ہے جو روزہ کی طاقت نہ رکھتا ہو ، یا بیمار ہو اور اچھا نہ ہو پا رہا ہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2319]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیرالبقرة25 (4505)، (تحفة الأشراف: 5945)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم3 (2318) (صحیح)
|
|
|
64: بَابُ : وَضْعِ الصِّيَامِ عَنِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ کو روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، " أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ إِذَا طَهُرَتْ؟ قَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَطْهُرُ فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّوْمِ، وَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ".
معاذہ عدویہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا عورت جب حیض سے پاک ہو جائے تو نماز کی قضاء کرے ؟ انہوں نے کہا : کیا تو حروریہ ۱؎ ہے ؟ ہم عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حیض سے ہوتی تھیں ، پھر ہم پاک ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روزہ کی قضاء کا حکم دیتے تھے ، اور نماز کی قضاء کے لیے نہیں کہتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2320]
💡 وضاحت:
۱؎: حروریۃ حروراء کی طرف منسوب ہے، جو کوفہ کے قریب ایک جگہ ہے، چونکہ خوارج یہیں جمع تھے اس لیے اسی کی طرف منسوب کر کے حروری کہلاتے تھے، یہ لوگ حیض کے دنوں میں فوت شدہ نمازوں کی قضاء کو واجب قرار دیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 382 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصِّيَامُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَقْضِيهِ حَتَّى يَجِيءَ شَعْبَانُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھ پر رمضان کے روزہ ہوتے تھے تو میں قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2321]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم40 (1950)، صحیح مسلم/الصوم26 (1146)، سنن ابی داود/الصوم40 (2399)، سنن ابن ماجہ/الصوم13 (1696)، (تحفة الأشراف: 17777)، موطا امام مالک/الصوم20 (54)، مسند احمد 6/124، 179 (صحیح)
|
|
|
65: بَابُ : إِذَا طَهُرَتِ الْحَائِضُ أَوْ قَدِمَ الْمُسَافِرُ فِي رَمَضَانَ هَلْ يَصُومُ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ
باب: رمضان میں حائضہ پاک ہو جائے یا مسافر واپس آ جائے تو کیا دن کے باقی حصہ میں روزہ رکھے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ أَبُو حَصِينٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ: " أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَكَلَ الْيَوْمَ؟"، فَقَالُوا: مِنَّا مَنْ صَامَ، وَمِنَّا مَنْ لَمْ يَصُمْ، قَالَ: " فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ، وَابْعَثُوا إِلَى أَهْلِ الْعَرُوضِ، فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ".
محمد بن صیفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن فرمایا : ” کیا تم میں سے کسی نے آج کے دن کھایا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن ہوں نے روزہ رکھا ہے ، اور کچھ لوگوں نے نہیں رکھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا باقی دن ( بغیر کھائے پیئے ) پورا کرو ۱؎ ، اہل عروض ۲؎ کو خبر کرا دو کہ وہ بھی اپنا باقی دن ( بغیر کھائے پئے ) پورا کریں ۔“ [سنن نسائي/حدیث: 2322]
💡 وضاحت:
۱؎: اپنا باقی دن بغیر کھائے پیئے پورا کرو، اسی جملہ سے ترجمۃ الباب پر استدلال ہے، اس میں روزہ رکھنے والوں اور روزہ نہ رکھنے والوں دونوں کو اتمام کا حکم ہے۔ ۲؎: عروض کا اطلاق مکہ، مدینہ اور اس کے اطراف پر ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصوم41 (1735)، (تحفة الأشراف: 11225)، مسند احمد 4/388 (صحیح)
|
|
|
66: بَابُ : إِذَا لَمْ يُجْمِعْ مِنَ اللَّيْلِ هَلْ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ مِنَ التَّطَوُّعِ .
باب: اگر کسی نے رات میں روزہ کی نیت نہیں کی تو کیا وہ اس دن نفلی روزہ رکھ سکتا ہے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: " أَذِّنْ يَوْمَ عَاشُورَاءَ مَنْ كَانَ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ".
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا : ” لوگوں میں عاشوراء کے دن اعلان کر دو : جس نے کھا لیا ہے وہ باقی دن ( بغیر کھائے پیئے ) پورا کرے ، اور جس نے نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھے ۔“ [سنن نسائي/حدیث: 2323]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم21 (1924)، 69 (2007)، أخبارالآحاد (7265)، صحیح مسلم/الصوم21 (1135)، (تحفة الأشراف: 4538)، مسند احمد 4/47، 48، سنن الدارمی/الصوم46 (1768) (صحیح)
|
|
|
67: بَابُ : النِّيَّةِ فِي الصِّيَامِ وَالاِخْتِلاَفِ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ فِي خَبَرِ عَائِشَةَ فِيهِ .
باب: روزہ میں نیت کا بیان اور اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا والی حدیث میں طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟" , فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَإِنِّي صَائِمٌ"، ثُمَّ مَرَّ بِي بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ حَيْسٌ فَخَبَأْتُ لَهُ مِنْهُ، وَكَانَ يُحِبُّ الْحَيْسَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَخَبَأْتُ لَكَ مِنْهُ، قَالَ: " أَدْنِيهِ أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَأَكَلَ مِنْهُ"، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّمَا مَثَلُ صَوْمِ الْمُتَطَوِّعِ مَثَلُ الرَّجُلِ يُخْرِجُ مِنْ مَالِهِ الصَّدَقَةَ، فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا، وَإِنْ شَاءَ حَبَسَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے ، اور پوچھا : ” کیا تمہارے پاس کچھ ( کھانے کو ) ہے ؟ “ تو میں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” تو میں روزہ سے ہوں “ ، اس دن کے بعد پھر ایک دن آپ میرے پاس سے گزرے ، اس دن میرے پاس تحفہ میں حیس ۱؎ آیا ہوا تھا ، میں نے اس میں سے آپ کے لیے نکال کر چھپا رکھا تھا ، آپ کو حیس بہت پسند تھا ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے حیس تحفے میں دیا گیا ہے ، میں نے اس میں سے آپ کے لیے چھپا کر رکھا ہے ، آپ نے فرمایا : ” لاؤ حاضر کرو ، اگرچہ میں نے صبح سے ہی روزہ کی نیت کر رکھی ہے “ ( مگر کھاؤ گا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا ، پھر فرمایا : ” نفلی روزہ کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو اپنے مال میں سے ( نفلی ) صدقہ نکالتا ہے ، جی چاہا دے دیا ، جی چاہا نہیں دیا ، روک لیا ۔“ [سنن نسائي/حدیث: 2324]
💡 وضاحت:
۱؎: حیس ایک کھانا ہے جو کھجور، پنیر، گھی اور آٹے سے بنایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصوم 26 (1701)، (تحفة الأشراف: 17578)، مسند احمد 6/49، 207، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم32 (1154)، سنن ابی داود/الصوم72 (2455)، سنن الترمذی/الصوم35 (234) (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَارَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَوْرَةً، قَالَ: " أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟"، قَالَتْ: لَيْسَ عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ: " فَأَنَا صَائِمٌ"، قَالَتْ: ثُمَّ دَارَ عَلَيَّ الثَّانِيَةَ وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ فَعَجِبْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! دَخَلْتَ عَلَيَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ، ثُمَّ أَكَلْتَ حَيْسًا، قَالَ: " نَعَمْ يَا عَائِشَةُ إِنَّمَا مَنْزِلَةُ مَنْ صَامَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، أَوْ غَيْرِ قَضَاءِ رَمَضَانَ، أَوْ فِي التَّطَوُّعِ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ أَخْرَجَ صَدَقَةَ مَالِهِ، فَجَادَ مِنْهَا بِمَا شَاءَ، فَأَمْضَاهُ وَبَخِلَ مِنْهَا بِمَا بَقِيَ فَأَمْسَكَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوم کر میرے پاس آئے اور پوچھا : ” تمہارے پاس کوئی چیز ( کھانے کی ) ہے ؟ “ میں نے عرض کیا ، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں “ ، پھر ایک اور بار میرے پاس آئے ، اس وقت ہمارے پاس حیس ہدیہ میں آیا ہوا تھا ، تو میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوئی تو آپ نے اسے کھایا ، تو مجھے اس بات سے حیرت ہوئی ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ہمارے پاس آئے تو روزہ سے تھے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیس کھا لیا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں عائشہ ! جس نے کوئی روزہ رکھا لیکن وہ روزہ رمضان کا یا رمضان کی قضاء کا نہ ہو ، یا نفلی روزہ ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنے مال میں سے ( نفلی ) صدقہ نکالا ، پھر اس میں سے جتنا چاہا سخاوت کر کے دے دیا اور جو بچ رہا بخیلی کر کے اسے روک لیا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2325]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے نفلی روزے کے توڑنے کا جواز ثابت ہوا، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ نفلی روزہ توڑ دینے پر اس کی قضاء واجب نہیں، جمہور کا مسلک یہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ وَيَقُولُ: " هَلْ عِنْدَكُمْ غَدَاءٌ؟"، فَنَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: " إِنِّي صَائِمٌ"، فَأَتَانَا يَوْمًا وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟"، قُلْنَا: نَعَمْ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، قَالَ: " أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ فَأَكَلَ" , خَالَفَهُ قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تھے اور پوچھتے تھے : ” کیا تمہارے پاس کھانا ہے ؟ “ میں کہتی تھی : نہیں ، تو آپ فرماتے تھے : ” میں روزہ سے ہوں “ ، ایک دن آپ ہمارے پاس تشریف لائے ، اس دن ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا تھا ، آپ نے کہا : ” کیا تم لوگوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے ؟ “ ہم نے کہا : جی ہاں ہے ، ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے ، آپ نے فرمایا : ” میں نے صبح روزہ رکھنے کا ارادہ کیا تھا “ ، پھر آپ نے ( اسے ) کھایا ۔ قاسم بن یزید نے ان کی یعنی ابوبکر حنفی کی مخالفت کی ہے ۱؎ ، ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2326]
💡 وضاحت:
۱؎: سند میں مخالفت اس طرح ہے کہ ابوبکر والی روایت میں طلحہ بن یحییٰ اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے درمیان مجاہد کا واسطہ ہے اور قاسم کی روایت میں عائشہ بنت طلحہ کا، نیز دونوں روایتوں کے متن کے الفاظ بھی مختلف ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2324 (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقُلْنَا: أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ قَدْ جَعَلْنَا لَكَ مِنْهُ نَصِيبًا، فَقَالَ: " إِنِّي صَائِمٌ فَأَفْطَرَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، ہم نے عرض کیا : ہمارے پاس حیس کا تحفہ بھیجا گیا ، ہم نے اس میں آپ کا ( بھی ) حصہ لگایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں روزہ سے ہوں “ ، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2327]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 32 (1154)، سنن ابی داود/الصوم 72 (2455)، سنن الترمذی/الصوم 35 (733، 734)، (تحفة الأشراف: 17872)، مسند احمد 6/49، 207 (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ، فَقَالَ: " أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ تُطْعِمِينِيهِ؟" فَنَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: " إِنِّي صَائِمٌ"، ثُمَّ جَاءَهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ، فَقَالَ: " مَا هِيَ؟"، قَالَتْ: حَيْسٌ، قَالَ: " قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تھے اور آپ روزہ سے ہوتے تھے ( اس کے باوجود ) پوچھتے تھے : ” تمہارے پاس رات کی کوئی چیز ہے جسے تم مجھے کھلا سکو ؟ “ ہم کہتے نہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” میں نے روزہ رکھ لیا “ پھر اس کے بعد ایک بار آپ ان کے پاس آئے ، تو انہوں نے کہا : ہمارے پاس ہدیہ آیا ہوا ہے آپ نے پوچھا : ” کیا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : حیس ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے صبح روزہ کا ارادہ کیا تھا “ پھر آپ نے کھایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2328]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2327 (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟"، قُلْنَا: " لَا، قَالَ: " فَإِنِّي صَائِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا : ” تمہارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے ؟ “ ہم نے کہا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” تو میں روزہ سے ہوں ۔“ [سنن نسائي/حدیث: 2329]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2327 (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى , عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، وَمُجَاهِدٍ , عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهَا، فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ؟"، فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: " إِنِّي صَائِمٌ"، ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَدَعَا بِهِ، فَقَالَ: " أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ، پوچھا : ” کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے ؟ “ میں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” تو میں روزہ سے ہوں “ ، پھر آپ ایک اور دن تشریف لائے ، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے ، تو آپ نے اسے منگوایا ، اور فرمایا : ” میں نے صبح روزہ کی نیت کی تھی “ ، پھر آپ نے کھایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2330]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2324 (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَأُمِّ كُلْثُومٍ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ؟" نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ رَوَاهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ.
مجاہد اور ام کلثوم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے ، اور ان سے پوچھا : ” کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے ؟ “ آگے اسی طرح ہے جیسے اس سے پہلی روایت میں ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : اور اسے سماک بن حرب نے بھی روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں : مجھ سے ایک شخص نے روایت کی اور اس نے عائشہ بنت طلحہ سے روایت کی ہے ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2331]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2324 (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ طَعَامٍ؟"، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " إِذًا أَصُومُ"، قَالَتْ: وَدَخَلَ عَلَيَّ مَرَّةً أُخْرَى، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَقَالَ: " إِذًا أُفْطِرُ الْيَوْمَ، وَقَدْ فَرَضْتُ الصَّوْمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا : ” کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں “ ، پھر دوسری بار آپ میرے پاس تشریف لے آئے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب تو میں آج روزہ توڑ دوں گا حالانکہ میں نے روزہ کی نیت کر لی تھی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2332]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17884) (صحیح) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
68: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ حَفْصَةَ فِي ذَلِكَ
باب: اس باب میں حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ لَمْ يُبَيِّتِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَلَا صِيَامَ لَهُ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص طلوع فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہ ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2333]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حکم فرض روزوں کے سلسلہ میں ہے یا قضاء اور کفارہ کے روزوں کے سلسلہ میں، نفلی روزے کے لیے رات میں نیت ضروری نہیں، جیسا کہ ابھی عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث سے معلوم ہوا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1700) عبد اللّٰه بن أبى بكر لم يسمعه من سالم. وانظر الحديث الآتي (2334) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم71 (2454)، سنن الترمذی/الصوم33 (730)، سنن ابن ماجہ/الصوم26 (1700)، (تحفة الأشراف: 15802)، مسند احمد 6/287، سنن الدارمی/الصوم10 (1740)، وانظر الأرقام التالیة إلی 2345 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ لَمْ يُبَيِّتِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہیں کی تو اس کا روزہ نہیں ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2334]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2454) ترمذي (730) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ أَشْهَبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , وَذَكَرَ آخَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حَدَّثَهُمَا , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَلَا يَصُومُ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص روزہ کا پختہ ارادہ طلوع فجر سے پہلے نہ کر لے تو وہ روزہ نہ رکھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2335]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2454) ترمذي (730) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ لَمْ يُبَيِّتِ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا صِيَامَ لَهُ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے روزہ کی نیت رات ہی میں نہ کر لی ہو تو اس کا روزہ نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2336]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2454) ترمذي (730) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: " مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا يَصُومُ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی تھیں کہ جس نے رات ہی میں روزہ کی پختہ نیت نہ کر لی ہو تو وہ روزہ نہ رکھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2337]
قال الشيخ الألباني:
صحيح موقوف وهو في حكم المرفوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2454) ترمذي (730) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعْ قَبْلَ الْفَجْرِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2338]
قال الشيخ الألباني:
صحيح موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: " لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعْ قَبْلَ الْفَجْرِ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2339]
قال الشيخ الألباني:
صحيح موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَمَعْمَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: " لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2340]
قال الشيخ الألباني:
صحيح موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: " لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2341]
قال الشيخ الألباني:
صحيح موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: " لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ" , أَرْسَلَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ.
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے ۔ مالک بن انس نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2342]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مالک نے اسے منقطعاً روایت کیا ہے، کیونکہ زہری نے عائشہ رضی الله عنہا کو نہیں پایا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)
|
|
|
قَالَ قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ مِثْلَهُ: " لَا يَصُومُ إِلَّا مَنْ أَجْمَعَ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ".
ام المؤمنین عائشہ و ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہما سے اسی کے مثل روایت ہے کہ صرف وہی شخص روزہ رکھے جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت کر لے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2343]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، السند ضعيف، لإنقطاعه. والحديث الموقوف المتقدم (2338) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " إِذَا لَمْ يُجْمِعِ الرَّجُلُ الصَّوْمَ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا يَصُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آدمی نے رات ہی میں روزہ کی پختہ نیت نہ کی ہو تو وہ روزہ نہ رکھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2344]
قال الشيخ الألباني:
صحيح موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)
|
|
|
قَالَ قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " لَا يَصُومُ إِلَّا مَنْ أَجْمَعَ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ روزہ صرف وہی رکھے جس نے فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت کر لی ہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2345]
قال الشيخ الألباني:
صحيح موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)
|
|
|
69: بَابُ : صَوْمِ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ
باب: اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ عزوجل کو روزوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے تھے ۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے ، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب نماز بھی داود علیہ السلام کی نماز تھی ، وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات قیام کرتے تھے ، اور رات کے چھٹویں حصہ میں پھر سوتے تھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2346]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1631 (صحیح)
|
|
|
70: بَابُ : صَوْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي - وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُفْطِرُ أَيَّامَ الْبِيضِ فِي حَضَرٍ، وَلَا سَفَرٍ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضر میں ہوں یا سفر میں ایام بیض میں بغیر روزہ کے نہیں رہتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2347]
💡 وضاحت:
۱؎: قمری مہینہ کی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخ کو ایام بیض (روشن راتوں والے دن) کہا جاتا ہے، کیونکہ ان راتوں میں چاند ڈوبنے کے وقت سے لے کر صبح تک پوری رات رہتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5470) (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 580، وتراجع الالبانی 404)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ، وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا غَيْرَ رَمَضَانَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے : آپ روزے رکھنا بند نہیں کریں گے ، اور آپ بغیر روزے کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے ۔ اور آپ جب سے مدینہ آئے رمضان کے علاوہ آپ نے کسی بھی مہینہ کے مسلسل روزے نہیں رکھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2348]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم53 (1971)، صحیح مسلم/الصوم34 (1157)، سنن الترمذی/الشمائل42 (283)، سنن ابن ماجہ/الصوم30 (1711)، (تحفة الأشراف: 5447)، مسند احمد 1/227، 231، 241، 271، 301، 321 سنن الدارمی/الصوم36 (1784) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَرْوَانَ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے : آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں ، اور بغیر روزہ کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2349]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17602) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " لَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا قَطُّ كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو ، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ آپ نے کبھی پوری رات صبح تک قیام کیا ہو ، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ رمضان کے علاوہ آپ نے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ رکھا ہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2350]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1632 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَمَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا : آپ روزہ رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ( برابر ) روزہ ہی رکھا کریں گے ، اور آپ افطار کرتے ( روزہ نہ رہتے ) تو ہم کہتے کہ آپ برابر بغیر روزہ کے رہیں گے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آنے کے بعد سوائے رمضان کے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ نہیں رکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2351]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 34 (1156)، سنن الترمذی/الصوم 57 (768)، (تحفة الأشراف: 16202) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ: " كَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانُ بَلْ كَانَ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک روزہ رکھنے کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ مہینہ شعبان کا تھا ، بلکہ آپ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2352]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم 56 (2431)، (تحفة الأشراف: 6280)، مسند احمد 6/188 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُمَا، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ بغیر روزے کے نہیں رہیں گے ، اور بغیر روزہ کے رہتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں ، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے مہینے سے زیادہ کسی اور مہینے میں روزہ رکھتے نہیں دیکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2353]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 52 (1969)، صحیح مسلم/الصیام 34 (1156)، سنن ابی داود/الصیام 59 (2434)، (تحفة الأشراف: 17710)، موطا امام مالک/الصوم 2 (56)، مسند احمد 6/101، 153، 242 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے شعبان اور رمضان کے مسلسل دو مہینے روزہ نہیں رکھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2354]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2177 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا، إِلَّا شَعْبَانَ وَيَصِلُ بِهِ رَمَضَانَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی بھی مہینہ میں پورا روزہ نہیں رکھتے تھے سوائے شعبان کے ، آپ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2355]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2178 (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِشَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ لِشَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ أَوْ عَامَّتَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزہ نہیں رکھتے تھے ، آپ شعبان کے پورے یا اکثر دن روزہ رہتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2356]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17750) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزہ رکھتے تھے سوائے چند دنوں کے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2357]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17778) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزہ رکھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2358]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16051) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو الْغُصْنِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَمْ أَرَكَ تَصُومُ شَهْرًا مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ , قَالَ: " ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جتنا میں آپ کو شعبان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں اتنا کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا ، آپ نے فرمایا : ” رجب و رمضان کے درمیان یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں ، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال رب العالمین کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں ، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2359]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 120)، مسند احمد 5/201 (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو الْغُصْنِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ تَصُومُ حَتَّى لَا تَكَادَ تُفْطِرُ، وَتُفْطِرُ حَتَّى لَا تَكَادَ أَنْ تَصُومَ، إِلَّا يَوْمَيْنِ إِنْ دَخَلَا فِي صِيَامِكَ وَإِلَّا صُمْتَهُمَا، قَالَ: " أَيُّ يَوْمَيْنِ؟" , قُلْتُ: يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، قَالَ: " ذَانِكَ يَوْمَانِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ روزہ رکھتے ہیں یہاں تک کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ روزہ بند ہی نہیں کریں گے ، اور بغیر روزہ کے رہتے ہیں یہاں تک کہ لگتا ہے کہ روزہ رکھیں گے ہی نہیں سوائے دو دن کے ۔ کہ اگر وہ آپ کے روزہ کے درمیان میں آ گئے ( تو ٹھیک ہے ) اور اگر نہیں آئے تو بھی آپ ان میں روزہ رکھتے ہیں ۔ آپ نے پوچھا : ” وہ دو دن کون ہیں ؟ “ میں نے عرض کیا : وہ پیر اور جمعرات کے دن ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ دو دن وہ ہیں جن میں اللہ رب العالمین کے سامنے ہر ایک کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں ، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2360]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 119)، مسند احمد 5/201، 206، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم60 (2436)، سنن الدارمی/الصوم41 (1791) (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ الْغِفَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْرُدُ الصَّوْمَ فَيُقَالُ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ فَيُقَالُ لَا يَصُومُ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر روزہ رکھتے جاتے تھے ، یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں ، اور ( مسلسل ) بغیر روزہ کے رہتے یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2361]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 124)، مسند احمد 5/201 (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَحَرَّى صِيَامَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو شنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے روزہ کا اہتمام فرماتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2362]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16052) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے دن ( کے روزہ ) کا اہتمام فرماتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2363]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2189 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے دن ( کے روزہ ) کا اہتمام فرماتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2364]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16056)، مسند احمد 6/80، 106 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے دن ( کے روزہ ) کا اہتمام فرماتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2365]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16063) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2366]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16140) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ مِنْ هَذِهِ الْجُمُعَةِ وَالِاثْنَيْنِ مِنَ الْمُقْبِلَةِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے : پہلے ہفتہ کے دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کو ، اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ ( پیر ) کو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2367]
قال الشيخ الألباني:
حسن لكن الأصح بلفظ وخميس
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18161) (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَيَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَمِنَ الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کی جمعرات اور دوشنبہ ( پیر ) کو اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ ( پیر ) کو روزہ رہتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2368]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم 69 (2451)، (تحفة الأشراف: 15796)، مسند احمد 6/287 (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ جَعَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ، وَكَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنی داہنی ہتھیلی اپنے دائیں گال کے نیچے رکھ لیتے ، اور دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2369]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15811) حم6/287 (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أَبِي , أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ، وَقَلَّمَا يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کے ابتدائی تین دنوں میں روزہ رکھتے تھے اور کم ہی ایسا ہوتا کہ آپ جمعہ کے دن روزہ سے نہ رہے ہوں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2370]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری کی ایک حدیث (صوم/۱۹۸۴) میں خاص جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے صراحت کے ساتھ ممانعت آئی ہے، تو اس حدیث کا مطلب بقول حافظ ابن حجر یہ ہے کہ اگر ان تین ایام بیض میں جمعہ آ پڑتا تو جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کے وجہ سے آپ روزہ نہیں توڑتے تھے، بلکہ رکھ لیتے تھے، ممانعت تو خاص ایک دن جمعہ کو روزہ رکھنے کی ہے، یا بقول حافظ عینی: ایک دن آگے یا پیچھے ملا کر جمعہ کو روزہ رکھتے تھے، لیکن قابل قبول توجیہ حافظ ابن حجر کی ہی ہے، کیونکہ آپ تین دن ایام بیض کے روزہ تو رکھتے ہی تھے، اور پھر دو دن جمعہ کی مناسبت سے بھی رکھتے ہوں، یہ کہیں منقول نہیں ہے، یا پھر یہ کہا جائے کہ خاص اکیلے جمعہ کے دن کی ممانعت امت کے لیے ہے، اور روزہ رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم68 (2450)، سنن الترمذی/الصوم41 (742)، سنن ابن ماجہ/الصوم37 (1725) مختصرا (تحفة الأشراف: 9206)، مسند احمد 1/406 (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ , وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چاشت کی دونوں رکعتوں کا حکم دیا ، اور یہ کہ میں وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں ، اور ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کروں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2371]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12190)، مسند احمد 2/331 ویأتي عند المؤلف بأرقام: 2407، 2408، 2409) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ عَاشُورَاءَ، قَالَ: " مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ، إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ، يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے عاشوراء کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا : مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دن کا روزہ اور دنوں سے بہتر جان کے رکھا ہو ، سوائے اس دن کے ، یعنی ماہ رمضان کے اور عاشوراء کے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2372]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم69 (2006)، صحیح مسلم/الصوم19 (1132)، (تحفة الأشراف: 5866)، مسند احمد 1/213، 222، 367 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ! أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذَا الْيَوْمِ: " إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ".
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن منبر پر کہتے سنا : ” اے مدینہ والو ! تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن میں کہتے ہوئے سنا کہ میں روزہ سے ہوں تو جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2373]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم69 (2003)، صحیح مسلم/الصوم19 (1125)، (تحفة الأشراف: 11408)، موطا امام مالک/الصوم11 (34)، مسند احمد 4/95، 97 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي بَعْضُ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَتِسْعًا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ ( ام المؤمنین رضی الله عنہا ) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کے روز ، ذی الحجہ کے نو دنوں میں ، ہر مہینے کے تین دنوں میں یعنی : مہینہ کے پہلے دوشنبہ ( پیر ) کو اور پہلے اور دوسرے جمعرات کو روزہ رکھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2374]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم61 (2437)، (تحفة الأشراف: 18297)، مسند احمد 5/271، 6/288، 289، 310، 423، یأتی عند المؤلف فی باب83 بأرقام: 2419، 2420، 2421 (صحیح)
|
|
|
71: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَطَاءٍ فِي الْخَبَرِ فِيهِ
باب: اس حدیث میں عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَطِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ہمیشہ روزے رکھے ، تو اس نے روزے ہی نہیں رکھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2375]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7330، 8601) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ، عَنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ روزے رکھے ، اور نہ افطار کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2376]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، وَعُقْبَةُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ہمیشہ روزے رکھے تو اس نے روزے ہی نہیں رکھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2377]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2375 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے روزے ہی نہیں رکھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2378]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2375 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَائِذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ" ,
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ تو روزے ہی رکھے اور نہ ہی کھایا پیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2379]
💡 وضاحت:
۱؎: سند میں مبہم راوی ابو العباس الشاعر ہیں جن کے نام کی صراحت اگلی روایت میں آئی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم57 (1977)، 59 (1979)، صحیح مسلم/الصوم35 (1159)، سنن الترمذی/الصوم 57 (770)، سنن ابن ماجہ/الصوم 28 (1706)، (تحفة الأشراف: 8635، 8972)، مسند احمد 2/164، 188، 189، 190، 199، 212، 321، ویأتی عند المؤلف 2399 إلی 4203 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: سَمِعْتُ عَطَاءً، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: لَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں ، پھر مسلسل روزہ رکھتا ہوں ، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عطاء نے کہا : مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے «صیام ابد» کا ذکر کیسے کیا ، مگر اتنا یاد ہے کہ انہوں نے یوں کہا : ” اس شخص نے «صیام» ( روزے ) نہیں رکھے جس نے ہمیشہ «صیام» ( روزے ) رکھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2380]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
72: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ، وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ، عَلَى مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فِي الْخَبَرِ فِيهِ
باب: صیام الدھر (ہمیشہ روزہ رکھنے) کی ممانعت، اور اس سلسلہ کی حدیث میں مطرف بن عبداللہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ فُلَانًا لَا يُفْطِرُ نَهَارًا الدَّهْرَ , قَالَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ".
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! فلاں شخص کبھی دن کو افطار نہیں کرتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے نہ روزہ رکھا ، نہ افطار کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2381]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10858)، مسند احمد 4/426، 431، 433 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَذُكِرَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يَصُومُ الدَّهْرَ , قَالَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ".
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا تھا جو ہمیشہ روزہ رکھتا تھا تو آپ نے فرمایا : ” اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2382]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصوم28 (1705)، (تحفة الأشراف: 5350)، مسند احمد 5/24، 25، 26، سنن الدارمی/الصوم37 (1785) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صَوْمِ الدَّهْرِ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ".
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صیام الدھر رکھنے والے کے بارے میں فرمایا : ” نہ اس نے روزہ رکھا ، اور نہ ہی افطار کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2383]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
73: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں غیلان بن جریر پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَيْلَانُ وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! هَذَا لَا يُفْطِرُ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ".
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، تو ہم سب کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ، ( اس کے بارے میں ) لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! یہ شخص ایسا ہے جو اتنی مدت سے افطار نہیں کر رہا ہے ( یعنی برابر روزے رکھ رہا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ اس نے روزہ رکھا ، نہ ہی افطار کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2384]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10665) (صحیح) (اگلی روایت سے تقویت پا کر یہ بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ابو ہلال راسبی‘‘ ذرا کمزور راوی ہیں)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ فَغَضِبَ , فَقَالَ عُمَرُ: " رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا" , وَسُئِلَ عَمَّنْ صَامَ الدَّهْرَ , فَقَالَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ ناراض ہو گئے ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم اللہ کے رب ( حقیقی معبود ) ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے پر ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر ، راضی ہیں ، نیز آپ سے ہمیشہ روزہ رکھنے والے کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” اس نے نہ روزہ رکھا ، نہ ہی افطار کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2385]
قال الشيخ الألباني:
سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 36 (1162)، سنن ابی داود/الصوم53 (2426)، سنن الترمذی/الصوم 56 (767)، (سنن ابن ماجہ/الصوم 31 (1713)، 40 (1730)، 41 (1738)، (تحفة الأشراف: 12117)، مسند احمد 5/295، 296، 297، 299، 303، 308، 310، ویأتی عند المؤلف برقم: 2389 (صحیح)
|
|
|
74: بَابُ : سَرْدِ الصِّيَامِ
باب: مسلسل روزے رکھنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: " صُمْ إِنْ شِئْتَ، أَوْ أَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں ایک ایسا آدمی ہوں جو مسلسل روزے رکھتا ہو ، تو کیا سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2386]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 17 (1121)، سنن ابی داود/الصوم 42 (2402)، (تحفة الأشراف: 16857)، سنن الدارمی/الصوم 15 (1748) (صحیح)
|
|
|
75: بَابُ : صَوْمِ ثُلُثَىِ الدَّهْرِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَجُلٌ يَصُومُ الدَّهْرَ , قَالَ: " وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ"، قَالُوا: فَثُلُثَيْهِ، قَالَ: " أَكْثَرَ"، قَالُوا: فَنِصْفَهُ، قَالَ: " أَكْثَرَ"، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
عمرو بن شرجبیل ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : ایک آدمی ہے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” میری خواہش ہے کہ وہ کبھی کھاتا ہی نہیں “ ۱؎ ، لوگوں نے عرض کیا : دو تہائی ایام رکھے تو ؟ ۲؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ بھی زیادہ ہے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اور آدھا رکھے تو ؟ ۳؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ بھی زیادہ ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں اتنے روزوں نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دیں ، یہ ہر مہینے کے تین دن کے روزے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2387]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نہ دن میں نہ رات میں یہاں تک کہ بھوک سے مر جائے، اس سے مقصود اس کے اس عمل پر اپنی ناگواری کا اظہار ہے اور یہ بتانا ہے کہ یہ ایک ایسا مذموم عمل ہے کہ اس کے لیے بھوک سے مر جانے کی تمنا کی جائے۔ ۲؎: یعنی دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟ ۳؎: یعنی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15652) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ شَيْئًا"، قَالَ: فَثُلُثَيْهِ، قَالَ: " أَكْثَرَ"، قَالَ: فَنِصْفَهُ، قَالَ: " أَكْثَرَ"، قَالَ: " أَفَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ"، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو صیام الدھر رکھے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تو یہ چاہوں گا کہ کبھی کچھ کھائے ہی نہ “ ، اس نے کہا : اس کا دو تہائی رکھے تو ؟ آپ نے فرمایا : ” زیادہ ہے “ ، اس نے کہا : آدھے ایام رکھے تو ؟ آپ نے فرمایا : ” زیادہ ہے “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دے “ ، لوگوں نے کہا : جی ہاں ( ضرور بتائیے ) آپ نے فرمایا : ” یہ ہر مہینے میں تین دن کا روزہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2388]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، پچھلی روایت سے تقویت پاکر صحیح ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ قَالَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ، أَوْ لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: " أَوَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ"، قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: " ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام"، قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ: " وَدِدْتُ أَنِّي أُطِيقُ ذَلِكَ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ هَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو صیام الدھر رکھتا ہو ؟ آپ نے فرمایا : ” اس نے نہ روزے رکھے ، اور نہ ہی افطار کیا “ ۔ ( راوی کو شک ہے «لاصيام ولا أفطر» کہا ، یا «لم يصم ولم يفطر» کہا ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” کیا اس کی کوئی طاقت رکھتا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : ( اچھا ) اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے “ ، انہوں نے کہا : اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے ؟ آپ نے فرمایا : ” میری خواہش ہے کہ میں اس کی طاقت رکھوں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا ، اور رمضان کے روزے رکھنا یہی صیام الدھر ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2389]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2385 (صحیح)
|
|
|
76: بَابُ : صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ فِي ذَلِكَ لِخَبَرِ عَبْدِ
باب: ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کا بیان اور اس سلسلہ میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
قَالَ وَفِيمَا قَرَأَ عَلَيْنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ , عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الصِّيَامِ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزوں میں سب سے افضل داود علیہ السلام کے روزے ہیں ، وہ ایک دن روزہ رکھتے ، اور ایک دن افطار کرتے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2390]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 58 (1978)، وفضائل القرآن34 (5052)، (تحفة الأشراف: 8916)، مسند احمد 2/158، 188، 192، 210 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: أَنْكَحَنِي أَبِي امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ، فَكَانَ يَأْتِيهَا فَيَسْأَلُهَا عَنْ بَعْلِهَا , فَقَالَتْ: نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يَطَأْ لَنَا فِرَاشًا، وَلَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُنْذُ أَتَيْنَاهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ائْتِنِي بِهِ"، فَأَتَيْتُهُ مَعَهُ , فَقَالَ: " كَيْفَ تَصُومُ؟" , قُلْتُ: كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ: " صُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ"، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ يَوْمَيْنِ وَأَفْطِرْ يَوْمًا"، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام صَوْمُ يَوْمٍ وَفِطْرُ يَوْمٍ".
مجاہد کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا : میرے والد نے میری شادی ایک اچھے خاندان والی عورت سے کر دی ، چنانچہ وہ اس کے پاس آتے ، اور اس سے اس کے شوہر کے بارے میں پوچھتے ، تو ( ایک دن ) اس نے کہا : یہ بہترین آدمی ہیں ایسے آدمی ہیں کہ جب سے میں ان کے پاس آئی ہوں ، انہوں نے نہ ہمارا بستر روندا ہے اور نہ ہم سے بغل گیر ہوئے ہیں ، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے میرے پاس لے کر آؤ “ ، میں والد کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ، تو آپ نے پوچھا : ” تم کس طرح روزے رکھتے ہو ؟ “ میں نے عرض کیا : ہر روز ، آپ نے فرمایا : ” ہفتہ میں تین دن روزے رکھا کرو “ ، میں نے کہا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” اچھا دو دن روزہ رہا کرو اور ایک دن افطار کرو “ ، میں نے کہا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا سب سے افضل روزے رکھے کرو جو داود علیہ السلام کے روزے ہیں ، ایک دن روزہ اور ایک دن افطار “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2391]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: زَوَّجَنِي أَبِي امْرَأَةً، فَجَاءَ يَزُورُهَا , فَقَالَ: كَيْفَ تَرَيْنَ بَعْلَكِ؟ فَقَالَتْ: نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَا يَنَامُ اللَّيْلَ، وَلَا يُفْطِرُ النَّهَارَ، فَوَقَعَ بِي وَقَالَ: زَوَّجْتُكَ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَعَضَلْتَهَا , قَالَ: فَجَعَلْتُ لَا أَلْتَفِتُ إِلَى قَوْلِهِ مِمَّا أَرَى عِنْدِي مِنَ الْقُوَّةِ وَالِاجْتِهَادِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَكِنِّي أَنَا أَقُومُ وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، فَقُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ"، قَالَ: " صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ"، فَقُلْتُ: أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا" قُلْتُ: أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ: " اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ، ثُمَّ انْتَهَى إِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ، وَأَنَا أَقُولُ أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد نے میری شادی ایک عورت سے کر دی ، وہ اس سے ملاقات کے لیے آئے ، تو اس سے پوچھا : تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا ؟ اس نے کہا : کیا ہی بہترین آدمی ہیں نہ رات میں سوتے ہیں اور نہ دن میں کھاتے پیتے ہیں ، ۱؎ تو انہوں نے مجھے سخت سست کہا اور بولے : میں نے تیری شادی ایک مسلمان لڑکی سے کی ہے ، اور تو اسے چھوڑے رکھے ہے ۔ میں نے ان کی بات پر دھیان نہیں دیا اس لیے کہ میں اپنے اندر قوت اور ( نیکیوں میں ) آگے بڑھنے کی صلاحیت پاتا تھا ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا : ” میں رات میں قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، روزہ بھی رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں ، تو تم بھی قیام کرو اور سوؤ بھی ۔ اور روزہ رکھو اور افطار بھی کرو ، ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو “ میں نے کہا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” تو پھر تم «صیام داودی» رکھا کرو ، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن کھاؤ پیو “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” ہر مہینہ ایک مرتبہ قرآن پڑھا کرو “ ، پھر آپ ( کم کرتے کرتے ) پندرہ دن پر آ کر ٹھہر گئے ، اور میں کہتا ہی رہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2392]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی رات میں قیام کرتے ہیں اور دن میں روزے سے رہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2390 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجْرَتِي , فَقَالَ: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ" قَالَ: بَلَى، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلَنَّ نَمْ وَقُمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجَتِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِصَدِيقِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّهُ عَسَى أَنْ يَطُولَ بِكَ عُمُرٌ، وَإِنَّهُ حَسْبُكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثًا، فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا" , قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ , قَالَ: " صُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ قَالَ: " صُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام" , قُلْتُ: وَمَا كَانَ صَوْمُ دَاوُدَ؟ قَالَ: " نِصْفُ الدَّهْرِ".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں داخل ہوئے اور فرمایا : ” کیا مجھے یہ خبر نہیں ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو اور دن میں روزہ رکھتے ہو ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، ہاں ایسا ہی ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” تم ایسا ہرگز نہ کرو ، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو ، روزہ سے بھی رہو اور کھاؤ پیو بھی ، کیونکہ تمہاری آنکھ کا تم پر حق ہے ، اور تمہارے بدن کا تم پر حق ہے ، تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے ، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے ، اور تمہارے دوست کا تم پر حق ہے ، توقع ہے کہ تمہاری عمر لمبی ہو ، تمہارے لیے بس اتنا کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو ، یہی صیام الدھر ہو گا کیونکہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے ، میں نے عرض کیا : میں اپنے اندر طاقت پاتا ہوں ، تو میں نے سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی ، آپ نے فرمایا : ” ہر ہفتے تین دن روزہ رکھا کرو “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، تو میں نے سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی ، آپ نے فرمایا : ” تم اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزے رکھو “ ، میں نے کہا : داود علیہ السلام کا روزہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک دن روزہ ایک دن افطار “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2393]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 54 (1974) مختصراً، 55 (1975)، الأدب 84 (6134)، النکاح 89 (5199)، صحیح مسلم/الصوم 35 (1159)، (تحفة الأشراف: 8960)، مسند احمد 2/188، 198، 200 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يَقُولُ: لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ، وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ" , فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَنَمْ وَقُمْ، وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ" , قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ" , فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا، وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ" , قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ" , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلَاثَةَ الْأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا کہ میں کہتا ہوں کہ میں جب تک زندہ رہوں گا ہمیشہ رات کو قیام کروں گا ، اور دن کو روزہ رکھا کروں گا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تم ایسا کہتے ہو ؟ میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جی ہاں میں نے یہ بات کہی ہے ، آپ نے فرمایا : ” تم ایسا نہیں کر سکتے ، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو ، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو ، اور مہینے میں تین دن روزہ رکھو کیونکہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے ، اور یہ صیام الدھر ( پورے سال کے روزوں ) کے مثل ہے “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو “ ، پھر میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” اچھا ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو ، یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ، یہ بہت مناسب روزہ ہے “ ، میں نے کہا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” اس سے بہتر کچھ نہیں “ ۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اگر میں نے مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات قبول کر لی ہوتی تو یہ میرے اہل و عیال اور میرے مال سے میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہوتی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2394]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 56 (1976)، الأنبیاء 38 (3418)، صحیح مسلم/الصوم 35 (1159)، سنن ابی داود/الصوم 53 (2427)، (تحفة الأشراف: 8645) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قُلْتُ: أَيْ عَمِّ حَدِّثْنِي عَمَّا , قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَجْمَعْتُ عَلَى أَنْ أَجْتَهِدَ اجْتِهَادًا شَدِيدًا، حَتَّى قُلْتُ لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ، وَلَأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانِي، حَتَّى دَخَلَ عَلَيَّ فِي دَارِي , فَقَالَ: " بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ، وَلَأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ" , فَقُلْتُ: قَدْ قُلْتُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " فَلَا تَفْعَلْ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ" , قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: " فَصُمْ مِنَ الْجُمُعَةِ يَوْمَيْنِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ" , قُلْتُ: فَإِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ , قَالَ: " فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِنَّهُ أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمًا صَائِمًا وَيَوْمًا مُفْطِرًا، وَإِنَّهُ كَانَ إِذَا وَعَدَ لَمْ يُخْلِفْ، وَإِذَا لَاقَى لَمْ يَفِرَّ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ۔ میں نے عرض کیا : چچا جان ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے جو کہا تھا اسے مجھ سے بیان کیجئے ۔ انہوں نے کہا : بھتیجے ! میں نے پختہ عزم کر لیا تھا کہ میں اللہ کی عبادت کے لیے بھرپور کوشش کروں گا یہاں تک کہ میں نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا ، اور ہر روز دن و رات قرآن پڑھا کروں گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا تو میرے پاس تشریف لائے یہاں تک کہ گھر کے اندر میرے پاس آئے ، پھر آپ نے فرمایا : ” مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور قرآن پڑھوں گا ؟ “ میں نے عرض کیا : ہاں اللہ کے رسول ! میں نے ایسا کہا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا مت کرو ( بلکہ ) ہر مہینے تین دن روزہ رکھ لیا کرو “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” ہر ہفتہ سے دو دن دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کو روزہ رکھ لیا کرو “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” داود علیہ السلام کا روزہ رکھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سب سے زیادہ بہتر اور مناسب روزہ ہے ، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے ، اور وہ جب وعدہ کر لیتے تو وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے ، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تھی تو بھاگتے نہیں تھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2395]
قال الشيخ الألباني:
منكر بزيادة الموعد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2393 (منکر) (جمعرات اور سوموار کا تذکرہ منکر ہے، باقی حصے صحیح ہیں)
|
|
|
77: بَابُ : ذِكْرِ الزِّيَادَةِ فِي الصِّيَامِ وَالنُّقْصَانِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِيهِ
باب: روزہ میں زیادتی و کمی کا بیان اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” ایک دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا “ ۔ انہوں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” دو دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا اجر ملے گا “ ، انہوں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ” تین دن روزہ رکھو اور باقی دنوں کا ثواب ملے گا “ ۔ انہوں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” چار دن روزہ رکھو اور تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملے گا ، انہوں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : تو پھر داود علیہ السلام کے روزے رکھو جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل روزے ہیں ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2396]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 35 (1159)، (تحفة الأشراف: 8896)، مسند احمد 2/205، 225 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: ذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْمَ , فَقَالَ: " صُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ التِّسْعَةِ" , فَقُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " صُمْ مِنْ كُلِّ تِسْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ الثَّمَانِيَةِ" , قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مَنْ ذَلِكَ , قَالَ: " فَصُمْ مِنْ كُلِّ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ السَّبْعَةِ" , قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى , قَالَ: " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : ” ہر دس دن پر ایک دن روزہ رکھو ، تمہیں ان باقی نو دنوں کا اجر و ثواب ملے گا “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” ہر نو دن پر ایک دن روزہ رکھو اور تمہیں ان آٹھ دنوں کا بھی ثواب ملے گا “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” ہر آٹھ دن پر ایک دن روزہ رکھ اور تجھے باقی سات دنوں کا بھی ثواب ملے گا “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ برابر اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : ” ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2397]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8971)، مسند احمد 2 224 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وأَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ عَشَرَةِ" , فَقُلْتُ: زِدْنِي , فَقَالَ: " صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ" , قُلْتُ: زِدْنِي , قَالَ: " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ ثَمَانِيَةٍ" , قَالَ: ثَابِتٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُطَرِّفٍ , فَقَالَ: مَا أُرَاهُ إِلَّا يَزْدَادُ فِي الْعَمَلِ، وَيَنْقُصُ مِنَ الْأَجْرِ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک دن روزہ رکھ تمہیں دس دن کا ثواب ملے گا “ ، میں نے عرض کیا : میرے لیے کچھ اضافہ فرما دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” دو دن روزہ رکھ تمہیں نو دن کا ثواب ملے گا “ ، میں نے عرض کیا : میرے لیے کچھ اور بڑھا دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” تین دن روزہ رکھ لیا کرو تمہیں آٹھ دن کا ثواب ملے گا “ ۔ ثابت کہتے ہیں : میں نے مطرف سے اس کا ذکر کیا ، تو انہوں نے کہا : میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ کام میں تو بڑھ رہے ہیں لیکن اجر میں گھٹتے جا رہے ہیں ، یہ الفاظ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم کے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2398]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8655، مسند احمد 2/165، 209 (صحیح)
|
|
|
78: بَابُ : صَوْمِ عَشْرَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِيهِ
باب: مہینے میں دس دن کا روزہ اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ، وَتَصُومُ النَّهَارَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا أَرَدْتُ بِذَلِكَ إِلَّا الْخَيْرَ , قَالَ: " لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ وَلَكِنْ أَدُلُّكَ عَلَى صَوْمِ الدَّهْرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " صُمْ خَمْسَةَ أَيَّامٍ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " فَصُمْ عَشْرًا" , فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا" ,
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے خبر ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو ، اور دن کو روزہ رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اس سے خیر کا ارادہ کیا ہے ، آپ نے فرمایا : ” جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا اس نے روزہ ہی نہیں رکھا ، لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ہمیشہ کا روزہ کیا ہے ؟ یہ مہینہ میں صرف تین دن کا روزہ ہے “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” پانچ دن رکھ لیا کرو “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” تو دس دن رکھ لیا کرو “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” تم داود علیہ السلام کے روزے رکھا کرو “ ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2399]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2379 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ وَكَانَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَكَانَ شَاعِرًا وَكَانَ صَدُوقًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2400]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2379و2390 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ هُوَ الشَّاعِرُ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو! إِنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتِ الْعَيْنُ، وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، صَوْمُ الدَّهْرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” عبداللہ بن عمرو ! تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات میں کرتے ہو ، جب تم ایسا کرو گے تو آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور نفس تھک جائے گا ، جو ہمیشہ روزہ رہے گا اس کا روزہ نہ ہو گا ، ہر مہینے میں تین دن کا روزہ پورے سال کے روزہ کے برابر ہے “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” صوم داود رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے ، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2401]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2379 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ: " فِي خَمْسَةِ أَيَّامٍ"، وَقَالَ: " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ، فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ: " صُمْ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” قرآن ایک مہینہ میں پڑھا کرو “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، اور پھر میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا ، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : ” پانچ دن میں پڑھا کرو ، اور مہینہ میں تین دن روزہ رکھو “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، تو میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : ” داود علیہ السلام کا روزہ رکھو ، جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے ، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2402]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2390 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ، وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ وَإِمَّا لَقِيَهُ قَالَ: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ، فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا، وَلِأَهْلِكَ حَظًّا، وَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ" , قَالَ: إِنِّي أَقْوَى لِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " صُمْ صِيَامَ دَاوُدَ" , إِذًا قَالَ: وَكَيْفَ كَانَ صِيَامُ دَاوُدَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى" , قَالَ: وَمَنْ لِي بِهَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں اور مسلسل رکھتا ہوں ، اور رات میں نماز تہجد پڑھتا ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا ، یا آپ ان سے ملے تو آپ نے فرمایا : ” کیا مجھے خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم ( ہمیشہ ) روزہ رکھتے ہو ، اور کبھی بغیر روزہ کے نہیں رہتے ، اور رات میں تہجد کی نماز پڑھتے ہو ، تم ایسا نہ کرو کیونکہ تمہاری آنکھ کا بھی ایک حصہ ہے ، اور تمہارے نفس کا بھی ایک حصہ ہے ، تمہاری بیوی کا بھی ایک حصہ ہے ، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو ، نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی ، ہر دس دن میں ایک دن روزہ رکھو ، تمہیں باقی نو دنوں کا بھی ثواب ملے گا “ ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ” پھر تو تم روزہ داود رکھا کرو “ ، پوچھا : اللہ کے نبی ! داود علیہ السلام کے روزہ کیسے ہوا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے “ ، انہوں نے کہا : کون ایسا کر سکتا ہے ؟ اللہ کے نبی ! ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2403]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد ق نحوه دون قوله قال ومن لي
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر رقم 2390 (صحیح الإسناد)
|
|
|
79: بَابُ : صِيَامِ خَمْسَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ
باب: مہینے میں پانچ دن روزہ رکھنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ زَيْدٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَيَّ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةَ أَدَمٍ رَبْعَةً حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ , قَالَ: " أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " خَمْسًا" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " سَبْعًا" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " تِسْعًا" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " إِحْدَى عَشْرَةَ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ شَطْرَ الدَّهْرِ، صِيَامُ يَوْمٍ وَفِطْرُ يَوْمٍ".
ابوقلابۃ ابوالملیح سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : میں تمہارے والد زید کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ، تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے روزہ کا ذکر کیا گیا تو آپ میرے پاس تشریف لائے ، میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک درمیانی تکیہ لا کر رکھا جس کا بھراؤ کھجور کی پیتاں تھیں ، آپ زمین پر بیٹھ گئے ، اور تکیہ ہمارے اور آپ کے درمیان ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا ہر مہینے میں تین دن تمہارے روزہ کے لیے کافی نہیں ہیں ؟ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا : ” پانچ دن کر لو “ ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا : ” سات دن کر لو “ ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! کچھ اور بڑھا دیجئیے ! آپ نے فرمایا : ” نو دن “ ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( کچھ اور بڑھا دیجئیے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گیارہ دن کر لو “ ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا : ” داود علیہ السلام کے روزہ سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں ہے ، اور وہ اس طرح ہے ایک دن روزہ رکھا جائے ، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2404]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 59 (1980)، الاستئذان 38 (6277)، صحیح مسلم/الصوم 35 (1159)، (تحفة الأشراف: 8969) (صحیح)
|
|
|
80: بَابُ : صِيَامِ أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ
باب: مہینے میں چار دن روزہ رکھنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُمْ مِنَ الشَّهْرِ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " فَصُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الصَّوْمِ صَوْمُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” مہینے میں ایک دن روزہ رکھو تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” دو دن رکھ لیا کر ، تجھے باقی دنوں کا ثواب مل جایا کرے گا “ ، میں نے کہا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” تو تین دن رکھ لیا کرو تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملا کرے گا “ ، میں نے کہا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، تو آپ نے فرمایا : ” چار دن رکھ لیا کرو باقی دنوں کا بھی اجر بھی تمہیں ملا کرے گا “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے افضل روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2405]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2396 (صحیح)
|
|
|
81: بَابُ : صَوْمِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ
باب: مہینے میں تین دن کے روزہ کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: " أَوْصَانِي حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةٍ لَا أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَبَدًا: أَوْصَانِي بِصَلَاةِ الضُّحَى، وَبِالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَبِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے میں انہیں ان شاءاللہ کبھی چھوڑ نہیں سکتا : آپ نے مجھے صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھنے کی وصیت کی ، اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی ، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2406]
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق دون قوله لا أدعهن أبدا وعند خ معناه
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11970)، مسند احمد 5/173 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: بِنَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا ہے : وتر پڑھ کر سونے کا ، جمعہ کے دن غسل کرنے کا ۱؎ ، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2407]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی ٹکڑا منکر ہے، صحیح صلاۃ الضحیٰ ”چاشت کی نماز“ ہے جیسا کہ اگلی روایت میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
منكر بذكر الغسل والمحفوظ صلاة الضحى
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2371 (منکر) (جمعہ کے غسل کا تذکرہ منکر ہے، صحیح ’’چاشت کی صلاة“ ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) دو رکعتیں پڑھنے کا ، اور بغیر وتر پڑھے نہ سونے کا ، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2408]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2371 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَوْمٍ عَلَى وَتْرٍ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وتر پڑھ کر سونے ، جمعہ کے دن غسل کرنے ، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2409]
قال الشيخ الألباني:
منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2371 (منکر)
|
|
|
82: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي عُثْمَانَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي صِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ كُلِّ شَهْرٍ
باب: ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کے سلسلہ میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں ابوعثمان نہدی پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " شَهْرُ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ".
ابوعثمان سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا : ” صبر کے مہینے کے ، اور ہر مہینے سے تین دن کے روزے صوم الدهر ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2410]
💡 وضاحت:
۱؎: صبر کے مہینہ سے مراد رمضان کا مہینہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13621)، مسند احمد 2/263، 384، 513 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ اللَّانِيُّ بِالْكُوفَةِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ"، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے مہینے کے تین دن روزہ رکھے تو گویا اس نے صوم الدهر رکھے “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سچ فرمایا ہے : «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» ” جو کوئی ایک نیکی لائے گا اسے دس گنا ثواب ملے گا “ ( الانعام : ۱۶۰ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2411]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، ضعيف، ترمذي (762) ابن ماجه (1708) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصوم54 (762)، سنن ابن ماجہ/الصوم29 (1708)، (تحفة الأشراف: 11967)، مسند احمد 5/145 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، فَقَدْ تَمَّ صَوْمُ الشَّهْرِ، أَوْ فَلَهُ صَوْمُ الشَّهْرِ" , شَكَّ عَاصِمٌ".
ابوعثمان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس نے ہر مہینے میں تین روزہ رکھے تو اس نے ( گویا ) پورے مہینے کے روزہ رکھے “ ، یا یہ ( فرمایا ) : ” اس کے لیے پورے مہینے کے روزہ کا ثواب ہے “ ، عاصم راوی کو یہاں شک ہوا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2412]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، ضعيف، رجل: مجهول انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، مگر ابو عثمان نہدی کا براہ راست سماع ابو ذر رضی الله عنہ سے ثابت ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ مُطَرِّفًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صِيَامٌ حَسَنٌ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ".
عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” ہر مہینے کے تین دن کے روزہ بہترین روزہ ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2413]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9772)، مسند احمد 4/217 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ: نَحْوَهُ مُرْسَلٌ.
اس سند سے سعید بن ابی ہند نے روایت کی ہے کہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کہا ہے ، اور یہ مرسل ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2414]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف وانظر ما قبلہ (ضعیف) (مؤلف نے اسے مرسل کہا ہے، مرسل ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے مگر پچھلی روایت مرفوع متصل ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2415]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6685)، مسند احمد 2/90 (صحیح) (سند میں حجاج بن ارطاة اور شریک قاضی ضعیف ہیں، لیکن آنے والی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
83: بَابُ : كَيْفَ يَصُومُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: ہر مہینے تین روزے کس طرح رکھے؟ اس سلسلے کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، يَوْمَ الِاثْنَيْنِ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ، وَالْخَمِيسِ الَّذِي يَلِيهِ، ثُمَّ الْخَمِيسِ الَّذِي يَلِيهِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے ، مہینے کے پہلے دوشنبہ ( پیر ) کو ، اور اس کے بعد کے قریبی جمعرات کو ، پھر اس کے بعد کے جمعرات کو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2416]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيَّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعْتُهَا , تَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ، ثُمَّ الْخَمِيسَ، ثُمَّ الْخَمِيسَ الَّذِي يَلِيهِ".
ہنیدہ خزاعی کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین کے پاس آیا ، اور میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے ۔ مہینے کے پہلے کہ دوشنبہ ( پیر ) کو ، پھر جمعرات کو ، پھر اس کے بعد کے آنے والے جمعرات کو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2417]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15814) (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَشْجَعِيُّ كُوفِيٌّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: " أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صِيَامَ عَاشُورَاءَ، وَالْعَشْرَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ چار باتیں ایسی ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے : ۱- عاشوراء کے روزے کو ۲- ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کے روزے کو ۱؎ ۳- ہر مہینہ کے تین روزے ۴- اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2418]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں، ذی الحجہ کی دسویں تاریخ اس سے خارج ہے کیونکہ یوم النحر کو روزے رکھنا جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق الأشجعي: لم أجد من وثقه،والحديث الآتي (2419) يغني عن حديثه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15813)، مسند احمد 6/287 (ضعیف) (اس کے راوی ”ابو اسحاق اشجعی‘‘ لین الحدیث ہیں)
|
|
|
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَصُومُ تِسْعًا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ کے نو روزے ، عاشوراء کے دن ( یعنی دسویں محرم کو ) اور ہر مہینے میں تین روزے رکھتے ۱؎ ہر مہینہ کے پہلے دوشنبہ ( پیر ) کو ، اور دوسرا اس کے بعد والی جمعرات کو ، پھر اس کے بعد والی جمعرات کو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2419]
💡 وضاحت:
۱؎: پہلی تاریخ سے لے کر نویں تاریخ تک۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2374 (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الْعَشْرَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ذی الحجہ کے پہلے ) عشرہ میں روزے رکھتے تھے ، اور ہر مہینہ میں تین دن : دوشنبہ ( پیر ) اور ( دو ) جمعرات کو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2420]
قال الشيخ الألباني:
صحيح بلفظ الخميسين
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2374 (صحیح) (’’الخمیسین‘‘ کے لفظ کے ساتھ صحیح ہے، جیسا کہ اوپر گزرا)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوَّلِ خَمِيسٍ وَالإِثْنَيْنِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن ۔ ہر مہینے کی پہلی جمعرات کو ، اور دو اس کے بعد والے دو شنبہ ( پیر ) کو پھر اس کے بعد والے دوشنبہ ( پیر ) کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2421]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ نے دوشنبہ (پیر) کو مکرر رکھنے کا حکم دیا اور اس سے پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ آپ جمعرات کو مکرر رکھتے تھے، ان دونوں روایتوں کے ملانے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مطلوب ان دونوں دنوں میں تین دن روزے ہیں، خواہ وہ دوشنبہ (پیر) کو مکرر کر کے ہوں یا جمعرات کو، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني:
شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2374 (شاذ) (’’حکم دیتے تھے“ کا لفظ شاذ ہے، محفوظ یہ ہے کہ آپ خود روزے رکھتے تھے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ، وَأَيَّامُ الْبِيضِ صَبِيحَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر مہینے میں تین دن کا روزے پورے سال کا روزے ہے “ ( یعنی ایام بیض کے روزے ) اور ایام بیض ( چاند کی ) تیرہویں چودہویں اور پندرہویں راتیں ہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2422]
💡 وضاحت:
۱؎: انہیں ایام بیض اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی راتیں چاندنی کی وجہ سے سفید اور روشن ہوتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3222) (حسن)
|
|
|
84: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ فِي الْخَبَرِ فِي صِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ
باب: ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے والی حدیث کے سلسلہ میں موسیٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا وَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ" , قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ , قَالَ: " إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الْغُرَّ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا ، اور اسے آپ کے سامنے رکھ دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو روکے رکھا خود نہیں کھایا ، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں ، اور اعرابی ( دیہاتی ) بھی رکا رہا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی ( دیہاتی ) سے پوچھا : ” تم کیوں نہیں کھا رہے ہو ؟ “ اس نے کہا : میں مہینے میں ہر تین دن روزے رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” اگر تم روزے رکھتے ہو تو ان دنوں میں رکھو جن میں راتیں روشن رہتی ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2423]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی چاند کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں میں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، عبدالملك بن عمير مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14624)، مسند احمد 2/336، 346، ویأتی عند المؤلف برقم2430، 2431، مرسلاً، 4315 (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 1567، وتراجع الالبانی 423)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم مہینے کے تین روشن دنوں : تیرہویں ، چودہویں ، اور پندرہویں کو روزے رکھا کریں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2424]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصوم54 (761)، (تحفة الأشراف: 11988)، مسند احمد 5/150، 152، 162، 177 (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ہر مہینے کے ایام بیض یعنی تیرہویں ، چودہویں اور پندرہویں کو روزے رکھیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2425]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صُمْتَ شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ، فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو مقام ربذہ میں کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” جب تم مہینے میں کچھ دن روزے رکھو تو تیرہویں ، چودہویں ، اور پندرہویں کو رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2426]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2424 (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: " عَلَيْكَ بِصِيَامِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ لَيْسَ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ، وَلَعَلَّ سُفْيَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا اثْنَانِ فَسَقَطَ الْأَلِفُ، فَصَارَ بَيَانٌ.
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : ” تم تیرہویں ، چودہویں اور پندرہویں کے روزے کو اپنے اوپر لازم کر لو “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہاں ( راوی سے ) غلطی ہوئی ہے ، یہ بیان کی روایت نہیں ہے ۔ غالباً ایسا ہوا ہے کہ سفیان نے کہا «حدثنا اثنان» کہا ہو تو «اثنان» کا الف گر گیا پھر «ثنان» سے بیان ہو گیا ( جیسا کہ اگلی روایت میں ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2427]
قال الشيخ الألباني:
حسن لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12006)، مسند احمد 5/150، ویأتي عند المؤلف 4316 (حسن) (سند میں ابن الحوتکیہ لین الحدیث ہیں، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی حسن ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلَانِ مُحَمَّدٌ وَحَكِيمٌ , عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا بِصِيَامِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تیرہویں ، چودہویں ، اور پندرہویں کو روزے رکھنے کا حکم دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2428]
قال الشيخ الألباني:
حسن لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (حسن) (دیکھئے پچھلی سند پر کلام)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: قَالَ أَبِي: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَرْنَبٌ قَدْ شَوَاهَا وَخُبْزٌ، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي وَجَدْتُهَا تَدْمَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " لَا يَضُرُّ، كُلُوا"، وَقَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: " كُلْ" , قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ: " صَوْمُ مَاذَا" , قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ , قَالَ: " إِنْ كُنْتَ صَائِمًا، فَعَلَيْكَ بِالْغُرِّ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الصَّوَابُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ وَقَعَ مِنَ الْكُتَّابِ ذَرٌّ، فَقِيلَ أَبِي.
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس کے ساتھ ایک بھنا ہوا خرگوش اور روٹی تھی ، اس نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے لا کر رکھا ۔ پھر اس نے کہا : میں نے دیکھا ہے کہ اسے حیض آتا ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ” کوئی نقصان نہیں تم سب کھاؤ “ ، اور آپ نے اعرابی ( دیہاتی ) سے فرمایا : تم بھی کھاؤ ، اس نے کہا : میں روزے سے ہوں ، آپ نے پوچھا : ” کیسا روزے ؟ “ اس نے کہا : ہر مہینے میں تین دن کا روزے ، آپ نے فرمایا : ” اگر تمہیں یہ روزے رکھنے ہیں تو روشن اور چمکدار راتوں والے دنوں یعنی تیرہویں ، چودہویں ، اور پندرہویں کو لازم پکڑو “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : صحیح «عن ابی ذر» ہے ، قرین قیاس یہ ہے کہ «ذر» کاتبوں سے چھوٹ گیا ۔ اس طرح وہ «ابی بن کعب» ہو گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2429]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن عبد الرحمٰن بن أبى ليلة ضعيف،. والحكم بن عتيبة عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 78 (ضعیف) (ابن الحوتکیہ لین الحدیث ہیں)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ الَّذِي جَاءَ بِهَا: إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَكَفَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لَكَ" , قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَهَلَّا ثَلَاثَ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لے کر آیا ، آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے لانے والے نے کہا : میں نے اس کے ساتھ خون ( حیض ) دیکھا تھا ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا ، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں ، ایک آدمی لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” کیا بات ہے ، تم الگ تھلگ کیوں بیٹھے ہو ؟ “ اس نے کہا : میں روزے سے ہوں ، آپ نے فرمایا : ” پھر تم ایام بیض : تیرہویں ، چودہویں اور پندرہویں کو کیوں نہیں رکھتے ؟ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2430]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، لإرساله موسي بن طلحة رحمه الله تابعي،فالسند مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم: 2423 (ضعیف) (یہ مرسل روایت ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا رَجُلٌ فَلَمَّا قَدَّمَهَا إِلَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَقَالَ لِمَنْ عِنْدَهُ: " كُلُوا فَإِنِّي لَوِ اشْتَهَيْتُهَا أَكَلْتُهَا" وَرَجُلٌ جَالِسٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْنُ فَكُلْ مَعَ الْقَوْمِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ: " فَهَلَّا صُمْتَ الْبِيضَ" , قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: " ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا جسے ایک شخص نے بھون رکھا تھا ، جب اس نے اسے آپ کے سامنے پیش کیا تو کہا : میں نے دیکھا اسے خون ( حیض ) آ رہا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا ، نہیں کھایا ، اور ان لوگوں سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا : ” تم کھاؤ ، اگر مجھے اس کی خواہش ہوتی میں بھی کھاتا “ ، اور وہ شخص ( جو اسے لایا تھا ) بیٹھا ہوا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” قریب آ جاؤ ، اور تم بھی لوگوں کے ساتھ کھاؤ “ ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں روزے سے ہوں ، آپ نے فرمایا : ” تو تم نے بیض کے روزے کیوں نہیں رکھے ؟ “ اس نے پوچھا : وہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” تیرہویں ، چودہویں اور پندرہویں کے روزے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2431]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، لإرساله موسي بن طلحة رحمه الله تابعي،فالسند مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی روایت پر کلام)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِهَذِهِ الْأَيَّامِ الثَّلَاثِ الْبِيضِ , وَيَقُولُ: هُنَّ صِيَامُ الشَّهْرِ".
قتادہ بن ملحان ( ابن منہال ) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیض کے ان تینوں دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے ، اور فرماتے تھے : ” یہ مہینے بھر کے روزے کے برابر ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2432]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2449) ابن ماجه (1707) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم68 (2449)، سنن ابن ماجہ/الصوم29 (1707)، (تحفة الأشراف: 11071)، مسند احمد 4/165، 275، 28 (صحیح) (شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ’’عبدالملک بن قتادہ بن المنھال‘‘ لین الحدیث ہیں)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي الْمِنْهَالِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ الْبِيضِ، قَالَ: هِيَ صَوْمُ الشَّهْرِ".
ابوالمنہال قتادہ بن ملحان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام بیض کے تین روزے کا حکم دیا اور فرمایا : ” یہ مہینہ بھر کے روزے کے برابر ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2433]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (2432) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2432 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ مِلْحَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِصَوْمِ أَيَّامِ اللَّيَالِي الْغُرِّ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
قدامہ ( قتادہ بن ملحان ) بن ملحان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روشن چاندنی راتوں کے دنوں یعنی تیرہویں ، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2434]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (2432) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2432 (صحیح)
|
|
|
85: بَابُ : صَوْمِ يَوْمَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ
باب: مہینہ میں دو دن روزہ رکھنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ مِنْ خِيَارِ الْخَلْقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ , فَقَالَ: " صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي زِدْنِي , قَالَ: " تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي زِدْنِي، يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي زِدْنِي، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَقَالَ: " زِدْنِي زِدْنِي أَجِدُنِي قَوِيًّا"، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيَرُدُّنِي. قَالَ: " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے رکھنے کے بارے پوچھا ، تو آپ نے فرمایا : ” مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے ، میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” تم کہتے ہو : اللہ کے رسول ! کچھ بڑھا دیجئیے ، کچھ بڑھا دیجئیے ، تو ہر مہینے دو دن رکھ لیا کرو “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کچھ اور بڑھا دیجئیے ، کچھ اور بڑھا دیجئیے ، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں ، اس پر آپ نے میری بات ” کچھ اور بڑھا دیجئیے ، کچھ اور بڑھا دیجئیے میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں “ دہرائی پھر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ اب آپ مجھے لوٹا دیں گے ، پھر آپ نے فرمایا : ” ہر مہینے تین دن رکھ لیا کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2435]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2071)، مسند احمد 4/347، 5/67 (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ , عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ , فَقَالَ: " صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَاسْتَزَادَهُ" , قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَزَادَهُ , قَالَ: " صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا"، فَمَا كَادَ أَنْ يَزِيدَهُ فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے بارے پوچھا ، تو آپ نے فرمایا : ” مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو “ ، انہوں نے مزید کی درخواست کی اور کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں ، تو آپ نے اس میں اضافہ فرما دیا ، فرمایا : ” ہر مہینہ دو دن رکھ لیا کرو “ ، تو انہوں نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میری بات ) ” میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں ، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں “ دہرائی ، آپ اضافہ کرنے والے نہ تھے ، مگر جب انہوں نے اصرار کیا تو آپ نے فرمایا : ” ہر مہینہ تین دن رکھ لیا کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2436]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)
|
|
|
1: بَابُ : وُجُوبِ الصِّيَامِ
باب: روزے کی فرضیت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا" , قَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ، قَالَ: " صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا" , قَالَ: أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ، فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ".
طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پراگندہ بال آیا ، ( اور ) اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” پانچ ( وقت کی ) نمازیں ، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفل پڑھنا چاہو “ ، پھر اس نے کہا : مجھے بتلائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” ماہ رمضان کے روزے ، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفلی ( روزے ) رکھنا چاہو “ ، ( پھر ) اس نے پوچھا : مجھے بتلائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی زکاۃ فرض کی ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کے احکام بتائے ، تو اس نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کی تکریم کی ہے ، میں کوئی نفل نہیں کروں اور نہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو فرض کیا ہے اس میں کوئی کمی کروں گا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اس نے سچ کہا تو یہ کامیاب ہو گیا “ ، یا کہا : ” اگر اس نے سچ کہا تو جنت میں داخل ہو گیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2092]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 459 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ الْعَاقِلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَتَانَا رَسُولُكَ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَكَ، قَالَ: " صَدَقَ"، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ قَالَ" اللَّهُ"، قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: " اللَّهُ"، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ فِيهَا الْجِبَالَ؟ قَالَ: " اللَّهُ"، قَالَ: فَمَنْ جَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ؟ قَالَ: " اللَّهُ"، قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ، وَنَصَبَ فِيهَا الْجِبَالَ، وَجَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: " نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، قَالَ: " صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا، قَالَ: " نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةَ أَمْوَالِنَا، قَالَ: " صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا، قَالَ: " نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي كُلِّ سَنَةٍ، قَالَ: " صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا، قَالَ: " نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا الْحَجَّ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ: " صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا، قَالَ: " نَعَمْ"، قَالَ: فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدَنَّ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں : ہمیں قرآن کریم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لایعنی بات پوچھنے سے منع کیا گیا تھا ، تو ہمیں یہ بات اچھی لگتی کہ دیہاتیوں میں سے کوئی عقلمند شخص آئے ، اور آپ سے نئی نئی باتیں پوچھے ، چنانچہ ایک دیہاتی آیا ، اور کہنے لگا : اے محمد ! ہمارے پاس آپ کا قاصد آیا ، اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس نے سچ کہا “ ، اس نے پوچھا : آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ آپ نے کہا : ” اللہ تعالیٰ نے “ ( پھر ) اس نے پوچھا : زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ آپ نے کہا : ” اللہ نے “ ( پھر ) اس نے پوچھا : اس میں پہاڑ کو کس نے نصب کیے ہیں ؟ آپ نے کہا : ” اللہ تعالیٰ نے “ ( پھر ) اس نے پوچھا : اس میں نفع بخش ( چیزیں ) کس نے بنائیں ؟ آپ نے کہا : ” اللہ تعالیٰ نے “ ( پھر ) اس نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ، اور اس میں پہاڑ نصب کیے ، اور اس میں نفع بخش ( چیزیں ) بنائیں کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے ؟ آپ نے کہا : ” ہاں “ ، پھر اس نے کہا : اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہمارے اوپر ہر روز دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس نے سچ کہا “ ، تو اس نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( نمازوں ) کا حکم دیا ہے ؟ آپ نے کہا : ہاں ، ( پھر ) اس نے کہا : آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہم پر اپنے مالوں کی زکاۃ فرض ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس نے سچ کہا ، ( پھر ) اس نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا ! کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ نے کہا : ” ہاں “ ، ( پھر ) اس نے کہا : آپ کے قاصد نے کہا ہے : ہم پر ہر سال ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں ، آپ نے کہا : ” اس نے سچ کہا “ ( پھر ) اس نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( دنوں کے روزوں ) کا حکم دیا ہے ؟ آپ نے کہا : ” ہاں “ ، ( پھر ) اس نے کہا : آپ کے قاصد نے کہا ہے : ہم میں سے جو کعبہ تک جانے کی طاقت رکھتے ہوں ، ان پر حج فرض ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس نے سچ کہا “ ، اس نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ، تو اس نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا فرمایا : میں ہرگز نہ اس میں کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا ، جب وہ لوٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں داخل ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2093]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 6 (63) تعلیقاً، صحیح مسلم/الإیمان 3 (12)، سنن الترمذی/الزکاة 2 (619)، (تحفة الأشراف: 404)، مسند احمد 3/143، 193، سنن الدارمی/الطھارة 1 (676) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ: " بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ , فَقَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، قُلْنَا لَهُ: هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَجَبْتُكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي سَائِلُكَ يَا مُحَمَّدُ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلَا تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ، قَالَ: " سَلْ مَا بَدَا لَكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ، وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ نَعَمْ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، خَالَفَهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں : ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر آیا ، اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا ، ( اور ) لوگوں سے پوچھا : تم میں محمد کون ہیں ؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان ٹیک لگائے بیٹھے تھے ۔ تو ہم نے اس سے کہا : یہ گورے چٹے آدمی ہیں ، جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں ، آپ کو پکار کر اس شخص نے کہا : اے عبدالمطلب کے بیٹے ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” میں نے تمہاری بات سن لی “ ( کہو کیا کہنا چاہتے ہو ) اس نے کہا : محمد ! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں ، ( اور ذرا ) سختی سے پوچھوں گا تو آپ دل میں کچھ محسوس نہ کریں ، آپ نے فرمایا : ” پوچھو جو چاہتے ہو “ ، تو اس نے کہا : میں آپ کو آپ کے ، اور آپ سے پہلے ( جو گزر چکے ہیں ) ان کے رب کی قسم دلاتا ہوں ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” اے اللہ ! ( میری بات پر گواہ رہنا ) ہاں “ ، ( پھر ) اس نے کہا : میں اللہ کی قسم دلاتا ہوں ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن اور رات میں پانچ ( وقت کی ) نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! ( گواہ رہنا ) ہاں “ ، ( پھر ) اس نے کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! ( گواہ رہنا ) ہاں ، “ ( پھر ) اس نے کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو مالداروں سے زکاۃ لے کر غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” اے اللہ ! ( گواہ رہنا ) ہاں “ ، تب ( اس ) شخص نے کہا : میں آپ کی لائی ہوئی ( شریعت ) پر ایمان لایا ، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہیں قاصد ہوں ، اور میں قبیلہ بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں ۔ یعقوب بن ابراہیم نے حماد بن عیسیٰ کی مخالفت کی ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2094]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ مخالفت اس طرح ہے کہ انہوں نے لیث اور سعید کے درمیان ابن عجلان کا واسطہ بڑھایا ہے، ان کی روایت آگے آ رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 6 (63)، سنن ابی داود/الصلاة 23 (486)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 194 (1402)، (تحفة الأشراف: 907)، مسند احمد 3/167، 168 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ وَغَيْرُهُ مِنْ إِخْوَانِنَا، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ: " بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ , ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَهُوَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ , فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَجَبْتُكَ"، قَالَ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، قَالَ: " سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ"، قَالَ: أَنْشُدُكَ بِرَبِّكَ، وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ نَعَمْ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، خَالَفَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر سوار آیا ، اس نے اسے مسجد میں بٹھا کر باندھا ( اور ) لوگوں سے پوچھا : تم میں محمد کون ہیں ؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔ ہم نے اس سے کہا : یہ گورے چٹے آدمی ہیں جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں ، تو ( اس ) شخص نے ( پکار کر ) آپ سے کہا : اے عبدالمطلب کے بیٹے ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” میں نے تمہاری بات سن لی “ ، ( کہو کیا کہنا چاہتے ہو ) تو اس شخص نے کہا : اے محمد ! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں ( اور ذرا ) سختی سے پوچھوں گا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پوچھو جو تم پوچھنا چاہتے ہو “ ، تو اس آدمی نے کہا : میں آپ کو آپ کے ، اور آپ سے پہلے ( جو گزر چکے ہیں ) کے رب کی قسم دلاتا ہوں ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” اے اللہ ! ( گواہ رہنا ) ہاں “ ، پھر اس نے کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! ( گواہ رہنا ! ) ہاں “ ، ( پھر ) اس نے کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں ، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں سے یہ صدقہ لو اور اسے ہمارے غریبوں میں تقسیم کرو ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! ( گواہ رہنا ) ہاں “ ، تب ( اس ) شخص نے کہا : میں آپ کی لائی ہوئی ( شریعت ) پہ ایمان لایا ، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہے قاصد ہوں ، اور میں بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں ۔ عبیداللہ بن عمر نے ابن عجلان کی مخالفت کی ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2095]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ مخالفت اس طرح ہے کہ انہوں نے اسے «عن سعید بن ابی سعید المقبری عن ابی ہریرۃ» کے طریق سے روایت کیا ہے، اور ابن عجلان نے اسے «عن سعید عن شریک عن انس» کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یہ مخالفت ضرر رساں نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ سعید نے دونوں سے سنا ہو تو انہوں نے کبھی اس طرح طریق سے روایت کیا ہو، اور کبھی اس طریق سے (عبیداللہ کی روایت آگے آ رہی ہے)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَارَةَ حَمْزَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَصْحَابِهِ، جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ , قَالَ: أَيُّكُمُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ قَالُوا: هَذَا الْأَمْغَرُ الْمُرْتَفِقُ، قَالَ حَمْزَةُ: الْأَمْغَرُ الْأَبْيَضُ مُشْرَبٌ حُمْرَةً، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدٌّ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، قَالَ: " سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ"، قَالَ: أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ، وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، وَرَبِّ مَنْ بَعْدَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ؟ قَالَ: " اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْ أَمْوَالِ أَغْنِيَائِنَا، فَتَرُدَّهُ عَلَى فُقَرَائِنَا؟ قَالَ: " اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا؟ قَالَ: " اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ يَحُجَّ هَذَا الْبَيْتَ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا؟ قَالَ: " اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَإِنِّي آمَنْتُ وَصَدَّقْتُ، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تھے کہ اسی دوران دیہاتیوں میں ایک شخص آیا ، اور اس نے پوچھا : تم میں عبدالمطلب کے بیٹے کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا : یہ گورے رنگ والے جو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں ( حمزہ کہتے ہیں : «الأمغر» سرخی مائل کو کہتے ہیں ) تو اس شخص نے کہا : میں آپ سے کچھ پوچھنے ولا ہوں ، اور پوچھنے میں آپ سے سختی کروں گا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” پوچھو جو چاہو “ ، اس نے کہا : میں آپ سے آپ کے رب کا اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کا اور آپ کے بعد کے لوگوں کے رب کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں : کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ تو گواہ رہ ، ہاں “ ، اس نے کہا : تو میں اسی کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھیں ؟ آپ نے کہا : ” اے اللہ تو گواہ رہ ، ہاں “ ، اس نے کہا : کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں کے مالوں میں سے ( زکاۃ ) لیں ، پھر اسے ہمارے فقیروں کو لوٹا دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ تو گواہ رہنا ، ہاں “ ، اس نے کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں ، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے بارہ مہینوں میں سے اس مہینہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” اے اللہ تو گواہ رہنا ، ہاں “ ، اس نے کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں کیا اللہ تعالیٰ نے آپ حکم دیا ہے کہ جو اس خانہ کعبہ تک پہنچنے کی طاقت رکھے وہ اس کا حج کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” اے اللہ گواہ رہنا ہاں “ ، تب اس شخص نے کہا : میں ایمان لایا اور میں نے تصدیق کی ، میں ضمام بن ثعلبہ ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2096]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12993) (صحیح الإسناد)
|
|
|
2: بَابُ : الْفَضْلِ وَالْجُودِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ
باب: ماہ رمضان میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی مہربانی اور جود و سخا کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ , كَانَ يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ، حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی آدمی تھے ، اور رمضان میں جس وقت جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملتے تھے آپ اور زیادہ سخی ہو جاتے تھے ، جبرائیل علیہ السلام آپ سے ماہ رمضان میں ہر رات ملاقات کرتے ( اور ) قرآن کا دور کراتے تھے ۔ ( راوی ) کہتے ہیں : جس وقت جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2097]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الوحي 5 (6)، والصوم 7 (1902)، وبدء الخلق 6 (3220)، والمناقب 23 (3554)، وفضائل القرآن 7 (4997)، صحیح مسلم/الفضائل 12 (2308)، سنن الترمذی/الشمائل 47 (336)، (تحفة الأشراف: 5840)، مسند احمد 1/230، 231، 288، 326، 363، 366، 367، 373 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ، كَانَ إِذَا كَانَ قَرِيبَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يُدَارِسُهُ، كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، وَأَدْخَلَ هَذَا حَدِيثًا فِي حَدِيثٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی لعنت ایسی نہیں کی جسے ذکر کیا جائے ، ( اور ) جب جبرائیل علیہ السلام کے آپ کو قرآن دور کرانے کا زمانہ آتا تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ ( روایت ) غلط ہے ، اور صحیح یونس بن یزید والی حدیث ہے ( جو اوپر گزری ) راوی نے اس حدیث میں ایک ( دوسری ) حدیث داخل کر دی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2098]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16673)، مسند احمد 6/130 (صحیح الإسناد)
|
|
|
3: بَابُ : فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ
باب: ماہ رمضان کی فضیلت۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2099]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 5 (1898، 1899)، وبدء الخلق 11 (3277)، صحیح مسلم/الصوم 1 (1079)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 1 (682)، سنن ابن ماجہ/الصوم 2 (1642)، (تحفة الأشراف: 14342)، موطا امام مالک/الصوم 22 (59) (موقوفاً)، مسند احمد 2/281، 292، 357، 378، 401، سنن الدارمی/الصوم 53 (1816) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2100]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
4: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِيهِ
باب: (اس حدیث) میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ، اور شیاطین زنجیر میں جکڑ دئیے جاتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2101]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2099 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ مَوْلَى التَّيْمِيِّينَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2102]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2099 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ فِي حَدِيثِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ" , رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں “ ۔ اسے ابن اسحاق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2103]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2099 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ إِسْحَاقَ خَطَأٌ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ ابْنُ إِسْحَاقَ مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَالصَّوَابُ مَا تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ ابن اسحاق ( والی ) حدیث غلط ہے ، اسے ابن اسحاق نے زہری سے نہیں سنا ہے ، اور صحیح ( روایت ) وہ ہے جس کا ذکر ہم ( اوپر ) کر چکے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2104]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2099 (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: وَذَكَرَ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ أُوَيْسِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَدِيدِ بَنِي تَيْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هَذَا رَمَضَانُ قَدْ جَاءَكُمْ، تُفَتَّحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُغَلَّقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ، وَتُسَلْسَلُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ خَطَأٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ رمضان ہے جو تمہارے پاس آپ پہنچا ہے اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ حدیث غلط ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2105]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 240)، مسند احمد 3/236 (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
5: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مَعْمَرٍ فِيهِ
باب: اس حدیث میں معمر پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ عَزِيمَةٍ وَقَالَ: " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَسُلْسِلَتْ فِيهِ الشَّيَاطِينُ" , أَرْسَلَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عزیمت و تاکید بغیر واجب کئے قیام رمضان کی ترغیب دیتے تھے ، اور فرماتے تھے : ” جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ، اور اس میں شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں “ ۔ ابن مبارک نے اسے مرسلاً ( منقطعاً ) روایت کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2106]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 25 (759)، سنن ابی داود/الصلاة 318 (1371)، سنن الترمذی/الصوم 83 (808)، (تحفة الأشراف: 15270)، مسند احمد 2/281، ویأتي عند المؤلف برقم: 2200، لکن عندھم الجزء الأخیر ’’من قام رمضان إیمانا الخ بدل ’’إذا دخل رمضان الخ‘‘ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى خُرَاسَانِيٌّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ، فُتِحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2107]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14604) (صحیح) (سند میں زہری اور ابوہریرہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ، فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ لِلَّهِ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان کا مبارک مہینہ تمہارے پاس آ چکا ہے ، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کر دیئے ہیں ، اس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ، اور سرکش شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں ، اور اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، جو اس کے خیر سے محروم رہا تو وہ بس محروم ہی رہا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2108]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، قال العلائي فى رواية أبى قلابة عن أبى هريرة: ’’والظاهر فى ذلك كله الإرسال‘‘ (جامع التحصيل ص 211) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
تخریج دارالدعوہ:
تفرد النسائي، (تحفة الأشراف: 13564)، مسند احمد 2/230، 385، 425 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: عُدْنَا عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ فَتَذَاكَرْنَا شَهْرَ رَمَضَانَ , فَقَالَ: مَا تَذْكُرُونَ، قُلْنَا: شَهْرَ رَمَضَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ هَلُمَّ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ.
عرفجہ کہتے ہیں کہ ہم نے عتبہ بن فرقد کی عیادت کی تو ہم نے ماہ رمضان کا تذکرہ کیا ، تو انہوں نے پوچھا : تم لوگ کیا ذکر کر رہے ہو ؟ ہم نے کہا : ماہ رمضان کا ، تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ، اور شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں ، اور ہر رات منادی آواز لگاتا ہے : اے خیر ( بھلائی ) کے طلب گار ! خیر کے کام میں لگ جا ۱؎ ، اور اے شر ( برائی ) کے طلب گار ! برائی سے باز آ جا “ ۲؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں : یہ غلط ہے ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2109]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہی اس کا وقت ہے کیونکہ اس وقت معمولی عمل پر بہت زیادہ ثواب دیا جاتا ہے۔ ۲؎: اور توبہ کر لے کیونکہ یہی توبہ کا وقت ہے۔ ۳؎: غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس روایت میں ہے کہ عرفجہ نے اسے عتبہ بن فرقد رضی الله عنہ کی روایت بنا دیا ہے، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کسی اور صحابی سے مروی ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9758)، مسند احمد 4/311، 312، 5/411 (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: كُنْتُ فِي بَيْتٍ فِيهِ عُتْبَةُ بْنُ فَرْقَدٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَ بِحَدِيثٍ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّهُ أَوْلَى بِالْحَدِيثِ مِنِّي، فَحَدَّثَ الرَّجُلُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي رَمَضَانَ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ، وَيُصَفَّدُ فِيهِ كُلُّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ، وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا طَالِبَ الْخَيْرِ هَلُمَّ، وَيَا طَالِبَ الشَّرِّ أَمْسِكْ".
عرفجہ کہتے ہیں : میں ایک گھر میں تھا جس میں عتبہ بن فرقد بھی تھے ، میں نے ایک حدیث بیان کرنی چاہی حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ( صاحب وہاں ) موجود تھے گویا وہ حدیث بیان کرنے کا مجھ سے زیادہ مستحق تھے ، چنانچہ ( انہوں ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں ، اور ہر سرکش شیطان کو بیڑی لگا دی جاتی ہے ، اور پکارنے والا ہر رات پکارتا ہے : اے خیر ( بھلائی ) کے طلب گار ! نیکی میں لگا رہ ، اور اے شر ( برائی ) کے طلب گار ! باز آ جا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2110]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)
|
|
|
6: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي أَنْ يُقَالَ لِشَهْرِ رَمَضَانَ رَمَضَانُ
باب: ماہ رمضان کو صرف رمضان کہنے کی رخصت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُهَلَّبُ بْنُ أَبِي حَبِيبَةَ. ح وَأَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ صُمْتُ رَمَضَانَ، وَلَا قُمْتُهُ كُلَّهُ"، وَلَا أَدْرِي كَرِهَ التَّزْكِيَةَ، أَوْ قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ غَفْلَةٍ وَرَقْدَةٍ اللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ.
ابوبکرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں کوئی ہرگز یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے ، اور اس کی پوری راتوں میں قیام کیا “ ( راوی کہتے ہیں ) میں نہیں جانتا کہ آپ نے آپ اپنی تعریف کرنے کو ناپسند کیا ، یا آپ نے سمجھا ضرور کوئی نہ کوئی غفلت اور لاپرواہی ہوئی ہو گی ( پھر یہ کہنا کہ میں نے پورے رمضان میں عبادت کی کہاں صحیح ہوا ) یہ الفاظ عبیداللہ کے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2111]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2415) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم 47 (2415)، (تحفة الأشراف: 11664)، مسند احمد 5/39، 30، 41، 48، 52 (ضعیف) (اس کے راوی ’’حسن بصری‘‘ مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُنَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: " إِذَا كَانَ رَمَضَانُ، فَاعْتَمِرِي فِيهِ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً".
عطا کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو سنا ، وہ ہمیں بتا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے کہا : ” جب رمضان آئے تو اس میں عمرہ کر لو ، کیونکہ ( ماہ رمضان میں ) ایک عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2112]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العمرة 4 (1782)، وجزء الصید 26 (1863)، صحیح مسلم/الحج 36 (1256)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 45 (2994)، (تحفة الأشراف: 5913)، مسند احمد 1/229، 308، سنن الدارمی/المناسک 40 (1901) (صحیح)
|
|
|
7: بَابُ : اخْتِلاَفِ أَهْلِ الآفَاقِ فِي الرُّؤْيَةِ
باب: رویت ہلال میں ایک شہر والوں سے دوسرے شہر والوں کے اختلاف کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ , قَالَ: " فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتَهَلَّ عَلَيَّ هِلَالُ رَمَضَانَ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمْ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ , قَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآهُ النَّاسُ فَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ؟ قَالَ: لَكِنْ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَأَصْحَابِهِ؟ قَالَ: لَا هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
کریب مولیٰ ابن عباس کہتے ہیں : ام فضل رضی اللہ عنہا نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا ، تو میں شام آیا ، اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی ، اور میں شام ( ہی ) میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا ، میں نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا ، پھر میں مہینہ کے آخری ( ایام ) میں مدینہ آ گیا ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے ( حال چال ) پوچھا ، پھر پہلی تاریخ کے چاند کا ذکر کیا ، ( اور مجھ سے ) پوچھا : تم لوگوں نے چاند کب دیکھا ؟ تو میں نے جواب دیا : ہم نے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا ، انہوں نے ( تاکیداً ) پوچھا : تم نے ( بھی ) اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا ؟ میں نے کہا : ہاں ( میں نے بھی دیکھا تھا ) اور لوگوں نے بھی دیکھا ، تو لوگوں نے ( بھی ) روزے رکھے ، اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی ، ( تو ) انہوں نے کہا : لیکن ہم لوگوں نے ہفتے ( سنیچر ) کی رات کو دیکھا تھا ، ( لہٰذا ) ہم برابر روزہ رکھیں گے یہاں تک کہ ہم ( گنتی کے ) تیس دن پورے کر لیں ، یا ہم ( اپنا چاند ) دیکھ لیں ، تو میں نے کہا : کیا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا چاند دیکھنا کافی نہیں ہے ؟ کہا : نہیں ! ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2113]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصیام 5 (1087)، سنن ابی داود/الصیام 9 (2332)، سنن الترمذی/الصیام 9 (693)، (تحفة الأشراف: 6357)، مسند احمد 1/306 (صحیح)
|
|
|
8: بَابُ : قَبُولِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ الْوَاحِدِ عَلَى هِلاَلِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ فِيهِ عَلَى سُفْيَانَ فِي حَدِيثِ سِمَاكٍ
باب: ماہ رمضان کے چاند (دیکھنے) پر ایک آدمی کی گواہی قبول کرنے کا بیان اور سماک (والی) حدیث میں راویوں کے سفیان پر اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: رَأَيْتُ الْهِلَالَ، فَقَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"، قَالَ: نَعَمْ، فَنَادَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صُومُوا.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور ) کہنے لگا : میں نے چاند دیکھا ہے ، تو آپ نے کہا : ” کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں روزہ رکھنے کا اعلان کر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2114]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2340) ترمذي (691) ابن ماجه (1652) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصیام 14 (2340، 2341) مرسلاً، سنن الترمذی/الصیام 7 (691)، سنن ابن ماجہ/الصیام 6 (1652)، (تحفة الأشراف: 6104)، سنن الدارمی/الصوم 6 (1734) (ضعیف) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں بڑا اضطراب پایا جاتا ہے، نیز سماک کے اکثر تلامذہ اسے عن عکرمہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم مرسلاً روایت کرتے ہیں جیسا کہ رقم 2116: میں آ رہا ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَبْصَرْتُ الْهِلَالَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" , قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " يَا بِلَالُ , أَذِّنْ فِي النَّاسِ، فَلْيَصُومُوا غَدًا" ,
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : میں نے آج رات چاند دیکھا ہے ، آپ نے پوچھا : ” کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، تو آپ نے فرمایا : ” بلال ! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل سے روزے رکھیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2115]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2341) وانظر الحديث السابق (2114) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (ضعیف)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ ,
اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2116]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، وانظر الحديث السابق (2114) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2114 (ضعیف) (ارسال کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، جیسا کہ مولف نے بیان کیا)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ مِصِّيصِيٌّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ.
اس سند سے بھی عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2117]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، وانظر الحديث السابق (2114) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2114 (ضعیف) (ارسال کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، جیسا کہ مولف نے بیان کیا)
|
|
|
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شَبِيبٍ أَبُو عُثْمَانَ وَكَانَ شَيْخًا صَالِحًا بِطَرَسُوسَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ خَطَبَ النَّاسَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ , فَقَالَ: أَلَا إِنِّي جَالَسْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاءَلْتُهُمْ، وَإِنَّهُمْ حَدَّثُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَانْسُكُوا لَهَا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ، فَإِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ، فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا".
عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک ایسے دن میں جس میں شک تھا ( کہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے یا شعبان کی آخری ) لوگوں سے خطاب کیا تو کہا : سنو ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ہم نشینی کی ، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا تو میں نے ان سے سوالات کئے ، اور انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو ، اور چاند دیکھ کر افطار کرو ، اور اسی طرح حج بھی کرو ، اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو تیس ( کی گنتی ) پوری کرو ، ( اور ) اگر دو گواہ ( چاند دیکھنے کی ) شہادت دے دیں تو روزے رکھو ، اور افطار ( یعنی عید ) کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2118]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، و للحديث علة قادحة عند أحمد (4/ 321) رواه يحيي بن زكريا بن أبى زائدة عن الحجاج بن أرطاة (وهو ضعيف، مدلس) عن حسين بن الحارث الجدلي به. وحديث أبى داود (2339) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15621)، مسند احمد 4/321 (صحیح)
|
|
|
9: بَابُ : إِكْمَالِ شَعْبَانَ ثَلاَثِينَ إِذَا كَانَ غَيْمٌ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
باب: بادل ہونے پر شعبان کے تیس دن پورے کرنے کا بیان اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چاند دیکھ کر روزے رکھو ، اور چاند دیکھ کر افطار کرو ، اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس ( دن ) پورے کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2119]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ۲۹ شعبان کو آسمان میں بادل ہوں اور اس کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے روزوں کی شروعات کرو، اسی طرح ۲۹ رمضان کو اگر عید الفطر کا چاند نظر نہ آ سکے تو تیس روزے پورے کر کے عید الفطر مناؤ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 11 (1909)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1081)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 2 (684)، سنن ابن ماجہ/الصوم 7 (1655)، (تحفة الأشراف: 14382)، مسند احمد 2/ 409، 430، 471، 498، سنن الدارمی/الصیام 2 (1727) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا ثَلَاثِينَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چاند دیکھ کر روزہ رکھو ، اور چاند دیکھ کر افطار کرو ، ( اور ) اگر مطلع تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس دن پورے کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2120]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
10: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ، فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ، فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ، فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزہ رکھو ، اور جب ( شوال کا ) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو ، ( اور ) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو ( پورے ) تیس دن روزہ رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2121]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/ الصوم 2 (1081)، سنن ابن ماجہ/الصوم 7 (1655)، (تحفة الأشراف: 13102)، مسند احمد 2/263، 281 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ، فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ، فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو ، اور جب ( شوال کا ) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو ، ( اور ) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو اس کا اندازہ لگاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2122]
قال الشيخ الألباني:
سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 5 (1900) تعلیقاً، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 4 (2320)، سنن ابن ماجہ/الصوم 7 (1654)، (تحفة الأشراف: 6983)، مسند احمد 2/152 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ , فَقَالَ: " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا : ” تم روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو ، اور روزہ رکھنا بند کرو یہاں تک کہ ( چاند ) دیکھ لو ، ( اور ) اگر فضا ابر آلود ہو تو اس کا حساب لگا لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2123]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 11 (1906)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، (تحفة الأشراف: 8362)، موطا امام مالک/الصوم 1 (1)، مسند احمد 2/63، سنن الدارمی/الصوم 2 (1726) (صحیح)
|
|
|
11: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں عبیداللہ بن عمر سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ( رمضان کے ) روزے نہ رکھو یہاں تک کہ ( چاند ) دیکھ لو اور نہ ہی روزے رکھنا بند کرو یہاں تک کہ ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو ( اور ) اگر آسمان میں بادل ہوں تو اس ( مہینے ) کا حساب لگا لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2124]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8214)، مسند احمد 2/13 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ صَاحِبَ حِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِلَالَ , فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا ذکر کیا تو فرمایا : ” جب تم اسے ( یعنی رمضان کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ رکھو ، اور جب اسے ( یعنی عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو ، ( اور ) اگر آسمان میں بادل ہوں تو تیس دن پورے شمار کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2125]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 2 (1081)، (تحفة الأشراف: 13797)، مسند احمد 2/287 (صحیح)
|
|
|
12: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں عمرو بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَوْزَاءِ وَهُوَ ثِقَةٌ بَصْرِيٌّ أَخُو أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے ( رمضان کا چاند ) دیکھ کر روزہ رکھو ، اور اسے ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ کر روزہ بند کرو ، ( اور ) اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2126]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6307) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: عَجِبْتُ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں : مجھے حیرت ہوتی ہے اس شخص پر جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے ( ہی ) روزہ رکھنے لگتا ہے ، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو ، ( اسی طرح ) جب ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو ، ( اور ) جب تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2127]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6435) (صحیح)
|
|
|
13: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مَنْصُورٍ فِي حَدِيثِ رِبْعِيٍّ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں ربعی کی حدیث میں منصور پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَهُ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ قَبْلَهُ".
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو ۱؎ یہاں تک کہ ( روزہ رکھنے سے ) پہلے چاند دیکھ لو ، یا ( شعبان کی ) تیس کی تعداد پوری کر لو ، پھر روزہ رکھو ، یہاں تک کہ ( عید الفطر کا ) چاند دیکھ لو ، یا اس سے پہلے رمضان کی تیس کی تعداد پوری کر لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2128]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم 6 (2326)، (تحفة الأشراف: 3316)، مسند احمد 4/314 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ، أَوْ تَرَوْا الْهِلَالَ، ثُمَّ صُومُوا وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ" , أَرْسَلَهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ.
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ شعبان کی گنتی پوری کر لو ، یا رمضان کا چاند دیکھ لو پھر روزہ رکھو ، اور نہ روزہ بند کرو یہاں تک کہ تم عید الفطر کا چاند دیکھ لو ، یا رمضان کی تیس ( دن ) کی گنتی پوری کر لو “ ۔ حجاج بن ارطاۃ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2129]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ، إِلَّا أَنْ تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ صُومُوا رَمَضَانَ ثَلَاثِينَ، إِلَّا أَنْ تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ".
ربعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو ، اور جب اسے ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو ، ( اور ) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو شعبان کے تیس دن پورے کرو ، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو ، پھر رمضان کے تیس روزے رکھو ، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2130]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2128 (صحیح) (ربعی نے صحابی کا ذکر نہیں کیا اس لیے سند ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے ( رمضان کے چاند کو ) دیکھ کر روزہ رکھو ، اور اسے ( یعنی عید الفطر کے چاند کو ) دیکھ کر روزہ بند کرو ، ( اور ) اگر تمہارے اور اس کے بیچ بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو ، اور ( ایک یا دو دن پہلے سے رمضان کے ) مہینہ کا استقبال نہ کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2131]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم 7 (2327)، سنن الترمذی/الصوم 5 (688)، (تحفة الأشراف: 6105)، مسند احمد 1/226، 258، سنن الدارمی/الصوم 1 (1725)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 2132، 2191 (صحیح) (اس کے راوی سماک کے عکرمہ سے سماع میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن روایت رقم: 2126 سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ صُومُوا لِلرُّؤْيَةِ، وَأَفْطِرُوا لِلرُّؤْيَةِ، فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان سے پہلے روزہ مت رکھو ، چاند دیکھ کر روزہ رکھو ، اور ( چاند ) دیکھ کر ( روزہ ) بند کرو ، ( پس ) اگر چاند سے ورے بادل حائل ہو جائے تو تیس ( دن ) پورے کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2132]
💡 وضاحت:
۱؎: ”رمضان سے پہلے“ سے مراد شعبان کا آخری دن ہے، مطلب یہ ہے کہ صرف یہ خیال کر کے روزہ مت شروع کر دو کہ آج ۲۹ شعبان ہے تو ممکن ہے کہ کل سے رمضان شروع ہو جائے گا، بلکہ یقینی طور پر چاند دیکھ کر ہی روزہ شروع کرو، یا پھر تیس کی گنتی پوری کرو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2131 (صحیح)
|
|
|
14: بَابُ : كَمِ الشَّهْرُ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِي الْخَبَرِ عَنْ عَائِشَةَ
باب: مہینہ کتنے دنوں کا ہوتا ہے؟ نیز عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں زہری پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا، فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ شَهْرًا، فَعَدَدْتُ الْأَيَّامَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک ماہ ( تک ) اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے ، چنانچہ آپ انتیس دن ٹھہرے رہے ، تو میں نے عرض کیا : کیا آپ نے ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی ؟ میں نے شمار کیا ہے ، ابھی انتیس دن ( ہوئے ) ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2133]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصیام 4 (1083)، والطلاق 5 (1479)، سنن الترمذی/تفسیر سورة التحریم (3318)، (تحفة الأشراف: 16635)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطلاق 24 (2059)، مسند احمد 6/163 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ حَدَّثَهُ. ح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ , قَالَ اللَّهُ لَهُمَا: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 , وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: فَاعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ قَالَ: مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ، حِينَ حَدَّثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَدِيثَهُنَّ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: إِنَّكَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِنَّا أَصْبَحْنَا مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً نَعُدُّهَا عَدَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں : مجھے برابر اس بات کا اشتیاق رہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ : «إن تتوبا إلى اللہ فقد صغت قلوبكما» ” اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لو ( تو بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں “ ( التحریم : ۴ ) میں کیا ہے ، پھر پوری حدیث بیان کی ، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے انتیس راتوں تک اس بات کی وجہ سے جو حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ظاہر کر دی تھی کنارہ کشی اختیار کر لی ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : آپ نے اپنی اس ناراضگی کی وجہ سے جو آپ کو اپنی عورتوں سے اس وقت ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی بات آپ کو بتلائی یہ کہہ دیا تھا کہ میں ان کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا ، تو جب انتیس راتیں گزر گئیں تو آپ سب سے پہلے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے تو ایک مہینے تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی ، اور ہم نے ( ابھی ) انتیسویں رات کی ( ہی ) صبح کی ہے ، ہم ایک ایک کر کے اسے گن رہے ہیں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2134]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 27 (89)، والمظالم 25 (2468)، وتفسیر سورة التحریم 2-4 (4914، 4915)، وانکاح 83 (5191)، واللباس 31 (5843)، صحیح مسلم/الطلاق 5 (1479)، سنن الترمذی/تفسیر التحریم (3318)، (تحفة الأشراف: 10507)، مسند احمد 1/33 (صحیح)
|
|
|
15: بَابُ : ذِكْرِ خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ
باب: اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ هُوَ أَبُو بُرَيْدٍ الْجَرْمِيُّ بَصْرِيٌّ، عَنْ بَهْزٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا : مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2135]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6322)، مسند احمد 1/218، 235، 240 (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2136]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
16: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى إِسْمَاعِيلَ فِي خَبَرِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فِيهِ
باب: اس بارے میں سعد بن ابی وقاص (مالک) رضی الله عنہ کی روایت میں اسماعیل بن ابی خالد پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأُخْرَى وَقَالَ: " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَنَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ( ایک ) ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا : ” مہینہ اس طرح ہے ، اس طرح ہے ، اور اس طرح ہے “ ، اور تیسری بار میں ایک انگلی دبا لی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2137]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ نے دونوں ہاتھوں کی دسوں انگلیوں سے دو بار اشارہ کیا، اور تیسری بار میں ایک انگلی گرا لی، تو یہ کل انتیس دن ہوئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم4 (1086)، سنن ابن ماجہ/فیہ8 (1657)، (تحفة الأشراف: 3920)، مسند احمد 1/184 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، يَعْنِي تِسْعَةً وَعِشْرِينَ" , رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ اس طرح ہے ، اس طرح ہے اور اس طرح ہے “ ، یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔ اسے یحییٰ بن سعید وغیرہ نے اسماعیل سے ، انہوں نے محمد بن سعد بن ابی وقاص سے ، اور محمد بن سعد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2138]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا"، وَصَفَّقَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ بِيَدَيْهِ يَنْعَتُهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَبَضَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ فِي الْيُسْرَى , قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قُلْتُ: لِإِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَا.
محمد بن سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ اس طرح ہے ، اس طرح ہے ، اور اس طرح ہے “ ۔ اور محمد بن عبید نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار ملا کر بتلایا ، پھر تیسری بار میں بائیں ہاتھ کا انگوٹھا بند کر لیا ، یحییٰ بن سعید کہتے ہیں : میں نے اسماعیل بن ابی خالد سے «عن أبیہ» کی زیادتی کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا : نہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2139]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2137 (صحیح) (اس سند میں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، اس لیے ارسال کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، لیکن اوپر گزرا کہ محمد بن سعد نے اپنے والد سعد بن ابی وقاص سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس لیے اصل حدیث صحیح ہے)
|
|
|
17: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فِي خَبَرِ أَبِي سَلَمَةَ فِيهِ
باب: ابوسلمہ کی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرنے میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ، وَيَكُونُ ثَلَاثِينَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ ( کبھی ) انتیس دن کا ہوتا ہے ، اور ( کبھی ) تیس دن کا ، اور جب تم ( چاند ) دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو ، ( اور ) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو ( تیس کی ) گنتی پوری کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2140]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15410) (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ. ح وأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2141]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 11 (1907)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، (تحفة الأشراف: 8583)، مسند احمد 2/40، 75 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ، هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثًا حَتَّى ذَكَرَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم «اُمّی» لوگ ہیں ، نہ ہم لکھتے پڑھتے ہیں اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں ، مہینہ اس طرح ہے ، اس طرح ہے ، اور اس طرح ہے “ ، ( ایسا تین بار کیا ) یہاں تک کہ انتیس دن کا ذکر کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2142]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 13 (1913)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، سنن ابی داود/الصوم 4 (2319)، (تحفة الأشراف: 7075)، مسند احمد 2/43، 52، 122، 129 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَحْسُبُ وَلَا نَكْتُبُ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا"، وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا تَمَامَ الثَّلَاثِينَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا : ” ہم «اُمّی» لوگ ہیں ، نہ تو ہم لکھتے ہیں ، اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں ، مہینہ اس طرح ہے ، اس طرح ہے اور اس طرح ہے “ ، اور تیسری بار انگوٹھا بند کر لیا ، ” مہینہ اس طرح ہے ، اس طرح ہے ، اور اس طرح ہے ، پورے تیس دن “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2143]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مہینہ کبھی ۲۹ دن کا ہوتا ہے، اور کبھی تیس دن کا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الشَّهْرُ هَكَذَا"، وَوَصَفَ شُعْبَةُ، عَنْ صِفَةِ جَبَلَةَ، عَنْ صِفَةِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فِيمَا حَكَى مِنْ صَنِيعِهِ مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ، وَنَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا مِنْ أَصَابِعِ يَدَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ اس طرح ہے “ ۔ شعبہ نے جبلہ سے نقل کیا ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ مہینہ انتیس دن کا ( بھی ) ہوتا ہے ، اس طرح کہ انہوں نے دو بار اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا ، اور تیسری بار ایک انگلی دبا لی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2144]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 11 (1908)، والطلاق 25 (5302)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، (تحفة الأشراف: 6668)، مسند احمد 2/44، 18 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ يَعْنِي ابْنَ حُرَيْثٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2145]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، (تحفة الأشراف: 7340)، مسند احمد 2/77 (صحیح)
|
|
|
18: بَابُ : الْحَثِّ عَلَى السَّحُورِ
باب: سحری کھانے کی ترغیب۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً" , وَقَفَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سحری کھاؤ ، کیونکہ سحری میں برکت ہے “ ۔ عبیداللہ بن سعید نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2146]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9218) (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " تَسَحَّرُوا"، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: لَا أَدْرِي كَيْفَ لَفْظُهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں : سحری کھاؤ ۔ عبیداللہ کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ اس کے الفاظ کیا تھے ؟ [سنن نسائي/حدیث: 2147]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، انظر ما قبلہ (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سحری کھاؤ ، کیونکہ سحری میں برکت ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2148]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 20 (1923)، صحیح مسلم/الصوم 9 (1095)، سنن الترمذی/الصوم 17 (708)، سنن ابن ماجہ/الصوم 22 (1692)، (تحفة الأشراف: 1068)، مسند احمد 3/229، سنن الدارمی/الصوم 9 (1738) (صحیح)
|
|
|
19: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَرِيرٍ نَسَائِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سحری کھاؤ ، کیونکہ سحری میں برکت ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2149]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14187)، مسند احمد 2/377، 477 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً" , رَفَعَهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سحری کھاؤ ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔ ابن ابی لیلیٰ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2150]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ موقوف روایت صحیح ہے، اور مرفوع اس سے زیادہ صحیح ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً".
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سحری کھاؤ ، کیونکہ سحری میں برکت ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2151]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14202)، مسند احمد 2/377، 477 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سحری کھاؤ ، کیونکہ سحری میں برکت ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2152]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ هَذَا إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَهُوَ مُنْكَرٌ، وَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ الْغَلَطُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سحری کھاؤ ، کیونکہ سحری میں برکت ہے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید کی اس حدیث کی سند تو حسن ہے ، مگر یہ منکر ہے ، اور مجھے محمد بن فضیل کی طرف سے غلطی کا اندیشہ ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2153]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: «عطاء عن أبي هريرة» کی بجائے «أبو سلمة عن أبي هريرة» محمد بن فضیل کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15354) (صحیح) (اصل حدیث صحیح ہے، مؤلف نے سند میں غلطی کا اشارہ دیا ہے)
|
|
|
20: بَابُ : تَأْخِيرِ السَّحُورِ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى زِرٍّ فِيهِ
باب: سحری دیر سے کھانے کا بیان اور اس حدیث میں زر بن حبیش پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ: " أَيَّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ".
زر حبیش کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ( تقریباً ) دن ۱؎ مگر سورج ۲؎ نکلا نہیں تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2154]
💡 وضاحت:
۱؎: دن سے مراد شرعی دن ہے جو طلوع صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔ ۲؎: سورج سے مراد طلوع فجر ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ سحر اس وقت کھاتے جب طلوع فجر قریب ہو جاتی۔ حذیفہ رضی الله عنہ کی اگلی روایت سے یہی معنی متعین ہوتا ہے، نہ یہ کہ دن کا سورج نکلنے کے قریب ہونا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصوم 23 (1695)، (تحفة الأشراف: 3325)، مسند احمد 5/396، 399، 400، 405 (حسن الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، قَالَ: " تَسَحَّرْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا إِلَّا هُنَيْهَةٌ".
زر بن حبیش کہتے ہیں : میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سحری کھائی ، پھر ہم نماز کے لیے نکلے ، تو جب ہم مسجد پہنچے تو دو رکعت سنت پڑھی ہی تھی کہ نماز شروع ہو گئی ، اور ان دونوں کے درمیان ذرا سا ہی وقفہ رہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2155]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ: " تَسَحَّرْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّيْنَا".
صلہ بن زفر کہتے ہیں : میں نے حذیفہ رضی الله عنہ کے ساتھ سحری کھائی ، پھر ہم مسجد کی طرف نکلے ، اور ہم نے فجر کی دونوں رکعتیں پڑھیں ، ( اتنے میں ) نماز کھڑی کر دی گئی تو ہم نے نماز پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2156]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2154 (صحیح الإسناد)
|
|
|
21: بَابُ : قَدْرِ مَا بَيْنَ السُّحُورِ وَبَيْنَ صَلاَةِ الصُّبْحِ
باب: سحری اور نماز فجر کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہئے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی ، پھر ہم اٹھ کر نماز کے لیے گئے ، انس کہتے ہیں : میں نے پوچھا : ان دونوں کے درمیان کتنا ( وقفہ ) تھا ؟ تو انہوں نے کہا : اس قدر جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2157]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 27 (575)، والصوم 19 (1921)، صحیح مسلم/الصوم 9 (1097)، سنن الترمذی/الصوم 14 (703)، سنن ابن ماجہ/الصوم 23 (1694)، (تحفة الأشراف: 3696)، مسند احمد 5/182، 185، 186، 188، 192، سنن الدارمی/الصوم 8 (1737) (صحیح)
|
|
|
22: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ هِشَامٍ وَسَعِيدٍ عَلَى قَتَادَةَ فِيهِ
باب: قتادہ سے روایت میں ہشام و سعید کے اختلاف کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: زُعِمَ أَنَّ أَنَسًا الْقَائِلُ مَا كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی ، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، میں نے پوچھا ( کہا جاتا کہ «قلت» کا قائل انس ہیں ۱؎ ) : ان دونوں کے درمیان کتنا ( وقفہ ) تھا ؟ انہوں نے کہا : اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2158]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ جملہ معترضہ ہے جو قول اور مقولہ کے درمیان واقع ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " تَسَحَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، ثُمَّ قَامَا فَدَخَلَا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ: كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا، وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الْإِنْسَانُ خَمْسِينَ آيَةً".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت نے سحری کھائی ، پھر وہ دونوں اٹھے ، اور جا کر نماز فجر پڑھنی شروع کر دی ۔ قتادہ کہتے ہیں : ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ان دونوں کے ( سحری سے ) فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے میں کتنا ( وقفہ ) تھا ؟ تو انہوں نے کہا : اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2159]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 27 (576)، والتھجد 8 (1134)، (تحفة الأشراف: 1187)، مسند احمد 3/170، 234 (صحیح)
|
|
|
23: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ فِي تَأْخِيرِ السُّحُورِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِهِمْ
باب: سحری میں تاخیر سے متعلق عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں سلیمان بن مہران اعمش پر راویوں اور ان کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: " فِينَا رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ، قَالَتْ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ؟ قُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ".
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ہم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں ان دونوں میں سے ایک افطار میں جلدی کرتا ہے ، اور سحری میں تاخیر ، اور دوسرا افطار میں تاخیر کرتا ہے ، اور سحری میں جلدی ، انہوں نے پوچھا : ان دونوں میں کون ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہے ، اور سحری میں تاخیر ؟ میں نے کہا : وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ، اس پر انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2160]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 9 (1099)، سنن ابی داود/الصوم 20 (2354)، سنن الترمذی/الصوم 13 (702)، (تحفة الأشراف: 17799)، مسند احمد 6/48، 173 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: " فِينَا رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْفِطْرَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ، قَالَتْ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، قُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ".
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ہم میں دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطار جلدی اور سحری تاخیر سے کرتے ہیں ، اور دوسرے افطار تاخیر سے کرتے ہیں اور سحری جلدی ، انہوں نے پوچھا : کون ہیں جو افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتے ہیں ؟ میں نے کہا : وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2161]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ: " رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلَاهُمَا لَا يَأْلُو عَنِ الْخَيْرِ، أَحَدُهُمَا يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، وَالْآخَرُ يُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، قَالَ مَسْرُوقٌ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں : میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، مسروق نے ان سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخص ہیں ، یہ دونوں نیک کام میں کوتاہی نہیں کرتے ، ( لیکن ) ان میں سے ایک نماز اور افطار دونوں میں تاخیر کرتے ہیں ، اور دوسرے نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : کون ہیں جو نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں ؟ مسروق نے کہا : وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2162]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2160 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْنَا لَهَا" يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ، فَقَالَتْ: أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ قُلْنَا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا".
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں : میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، ہم نے ان سے کہا : ام المؤمنین ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں ، ان میں سے ایک افطار میں جلدی کرتے ہیں اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں ، اور دوسرے افطار میں تاخیر کرتے ہیں اور نماز میں بھی تاخیر کرتے ہیں ، انہوں نے پوچھا : کون ہیں جو افطار میں جلدی کرتے اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں ؟ ہم نے کہا : وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۔ ( دوسرے شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے ۔ ) [سنن نسائي/حدیث: 2163]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2160 (صحیح)
|
|
|
24: بَابُ : فَضْلِ السُّحُورِ
باب: سحری کرنے کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ، فَقَالَ: " إِنَّهَا بَرَكَةٌ أَعْطَاكُمُ اللَّهُ إِيَّاهَا فَلَا تَدَعُوهُ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ اس وقت سحری کھا رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” یہ برکت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے تو تم اسے مت چھوڑو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2164]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15605)، مسند احمد 5/367، 370، 371 (صحیح)
|
|
|
25: بَابُ : دَعْوَةِ السُّحُورِ
باب: سحری کی دعوت دینے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ بَصْرِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَدْعُو إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ , وَقَالَ: " هَلُمُّوا إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ".
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : آپ رمضان کے مہینہ میں سحری کھانے کے لیے بلا رہے تھے ، اور فرما رہے تھے : ” آؤ صبح کے مبارک کھانے پر “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2165]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم16 (2344)، (تحفة الأشراف: 9883)، مسند احمد 4/126، 127 (صحیح) (سند میں یونس بن سیف مقبول راوی ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناپر صحیح لغیرہ ہے)
|
|
|
26: بَابُ : تَسْمِيَةِ السَّحُورِ غَدَاءً
باب: سحری کو صبح کا کھانا کہنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِغَدَاءِ السُّحُورِ، فَإِنَّهُ هُوَ الْغَدَاءُ الْمُبَارَكُ".
مقدام بن معد یکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم صبح کا کھانا ( سحری کو ) لازم پکڑو ، کیونکہ یہ مبارک کھانا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2166]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11560)، مسند احمد 4/132 (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: " هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ، يَعْنِي السَّحُورَ".
( تابعی ) خالد بن معدان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا : ” صبح کے مبارک کھانے یعنی سحری کے لیے آؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2167]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
27: بَابُ : فَصْلِ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ
باب: ہمارے (مسلمانوں) اور اہل کتاب کے روزہ میں فرق کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السُّحُورِ".
عمرو بن العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارے اور اہل کتاب کے صیام میں جو فرق ہے ، ( وہ ہے ) سحری کھانا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2168]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 9 (1096)، سنن ابی داود/الصوم 15 (2343)، سنن الترمذی/الصوم 17 (709)، (تحفة الأشراف: 10749)، مسند احمد 4/197، 202، سنن الدارمی/الصوم 9 (1739) (صحیح)
|
|
|
28: بَابُ : السُّحُورِ بِالسَّوِيقِ وَالتَّمْرِ
باب: ستو اور کھجور سے سحری کھانے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ عِنْدَ السُّحُورِ: " يَا أَنَسُ! إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ أَطْعِمْنِي شَيْئًا"، فَأَتَيْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلَالٌ، فَقَالَ: " يَا أَنَسُ! انْظُرْ رَجُلًا يَأْكُلْ مَعِي"، فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَجَاءَ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ، وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ"، فَتَسَحَّرَ مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے وقت فرمایا : ” اے انس ! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں ، مجھے کچھ کھلاؤ “ ، تو میں کچھ کھجور اور ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا ، اور یہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دینے کے بعد کا وقت تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے انس ! کسی اور شخص کو تلاش کرو جو میرے ساتھ ( سحری ) کھائے “ ، تو میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا ، چنانچہ وہ آئے ( اور ) کہنے لگے : میں نے ستو کا ایک گھونٹ پی لیا ہے ، اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ( بھی ) روزہ رکھنا چاہتا ہوں “ ، ( پھر ) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ سحری کھائی ، پھر آپ اٹھے ، اور ( فجر کی ) دو رکعت ( سنت ) پڑھی ، پھر آپ فرض نماز کے لیے نکل گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2169]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة مدلس وعنعن. وحديث البخاري (1134) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1348)، مسند احمد 3/197 (صحیح الإسناد)
|
|
|
29: بَابُ : تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى { وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ }
باب: آیت کریمہ «كلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» کی تفسیر۔
|
|
|
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، " أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ إِذَا نَامَ قَبْلَ أَنْ يَتَعَشَّى، لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ شَيْئًا، وَلَا يَشْرَبَ لَيْلَتَهُ وَيَوْمَهُ مِنَ الْغَدِ، حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا إِلَى الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 , قَالَ: وَنَزَلَتْ فِي أَبِي قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو أَتَى أَهْلَهُ وَهُوَ صَائِمٌ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ، وَلَكِنْ أَخْرُجُ أَلْتَمِسُ لَكَ عَشَاءً، فَخَرَجَتْ وَوَضَعَ رَأْسَهُ، فَنَامَ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِ، فَوَجَدَتْهُ نَائِمًا وَأَيْقَظَتْهُ فَلَمْ يَطْعَمْ شَيْئًا، وَبَاتَ وَأَصْبَحَ صَائِمًا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ، فَغُشِيَ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ هَذِهِ الْآيَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ".
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان میں سے کوئی جب شام کا کھانا کھانے سے پہلے سو جاتا تو رات بھر اور دوسرے دن سورج ڈوبنے تک اس کے لیے کھانا پینا جائز نہ ہوتا ، یہاں تک کہ آیت کریمہ : « وكلوا واشربوا» سے لے کر «الخيط الأسود» ” تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سیاہ دھاری سے سفید دھاری نظر آنے لگے “ تک نازل ہوئی ، یہ آیت ابوقیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ، ( ہوا یہ کہ ) وہ مغرب بعد اپنے گھر آئے ، وہ روزے سے تھے ، انہوں نے ( گھر والوں سے ) پوچھا : کچھ کھانا ہے ؟ ان کی بیوی نے کہا : ہمارے پاس تو کچھ ( بھی ) نہیں ہے ، لیکن میں جا کر آپ کے لیے رات کا کھانا ڈھونڈ کر لاتی ہوں ، چنانچہ وہ نکل گئی ، اور یہ اپنا سر رکھ کر سو گئے ، وہ لوٹ کر آئی تو انہیں سویا ہوا پایا ، ( تو ) انہیں جگایا ( لیکن ) انہوں نے کچھ ( بھی ) نہیں کھایا ، اور ( اسی حال میں ) رات گزار دی ، اور روزے ہی کی حالت ) میں صبح کی یہاں تک کہ دوپہر ہوئی ، تو ان پر غشی طاری ہو گئی ، یہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ، اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) انہیں کے سلسلہ میں اتاری ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2170]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1843)، مسند احمد 4/295، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 15 (1915)، سنن ابی داود/الصوم 1 (2314)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2972)، سنن الدارمی/الصوم 7 (1735) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 , قَالَ: " هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ، وَبَيَاضُ النَّهَارِ".
عدی بن حاتم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کریمہ : «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» کے متعلق سوال کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «خيط الأسود» ( سیاہ دھاری ) رات کی تاریکی ہے ، ( اور «خيط الأسود» سفید دھاری ) دن کا اجالا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2171]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 16 (1916)، وتفسیر البقرة 28 (4510)، (تحفة الأشراف: 9869)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصیام 8 (1090)، سنن ابی داود/الصیام 17 (2349)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2974)، مسند احمد 4/377، سنن الدارمی/الصوم 7 (1736) (صحیح)
|
|
|
30: بَابُ : كَيْفَ الْفَجْرُ
باب: فجر کیسے ہوتی ہے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ، وَيُرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِكَفِّهِ، وَلَكِنِ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَتَيْنِ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں ، تاکہ وہ تم میں سونے والوں کو ہوشیار کر دیں ، ( تہجد پڑھنے یا سحری کھانے کے لیے ) اور تہجد پڑھنے والوں کو ( گھر ) لوٹا دیں ، اور فجر اس طرح ظاہر نہیں ہوتی “ ، انہوں اپنی ہتھیلی سے اشارہ کیا ، ” بلکہ فجر اس طرح ظاہر ہوتی ہے “ انہوں نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2172]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 642 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ، حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا، يَعْنِي مُعْتَرِضًا , قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَبَسَطَ بِيَدَيْهِ يَمِينًا وَشِمَالًا مَادًّا يَدَيْهِ".
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال کی اذان تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈالے ، اور نہ یہ سفیدی یہاں تک کہ فجر کی روشنی اس طرح اور اس طرح “ ، یعنی چوڑائی میں پھوٹ پڑے ۔ ابوداؤد ( طیالسی ) کہتے ہیں : ( شعبہ ) نے اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں بڑھا کر پھیلائے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2173]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 8 (1094)، سنن ابی داود/الصوم 17 (2346)، سنن الترمذی/الصوم 15 (706)، (تحفة الأشراف: 4624)، مسند احمد 5/7، 9، 13، 18 (صحیح)
|
|
|
31: بَابُ : التَّقَدُّمِ قَبْلَ شَهْرِ رَمَضَانَ
باب: ماہ رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقَدَّمُوا قَبْلَ الشَّهْرِ بِصِيَامٍ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا أَتَى ذَلِكَ الْيَوْمُ عَلَى صِيَامِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان کا مہینہ ( شروع ہونے ) سے پہلے تم روزہ نہ رکھو ، سوائے اس آدمی کے جو کسی خاص دن روزہ رکھتا ہو ، اور ( اتفاق سے ) وہ دن رمضان کے روزہ سے پہلے آ پڑے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2174]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 14 (1914)، صحیح مسلم/الصوم 3 (1082)، سنن ابی داود/الصوم 11 (2335)، سنن الترمذی/الصوم 2 (684)، سنن ابن ماجہ/الصوم 5 (1650)، (تحفة الأشراف: 15391)، مسند احمد 2/234، 437، 408، 438، 477، 497، 513، سنن الدارمی/الصوم 4 (1731)، ویأتی عند المؤلف برقم: 2192 (صحیح)
|
|
|
32: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَلَى أَبِي سَلَمَةَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں ابوسلمہ سے روایت کرنے میں یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدٌ الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَحَدٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا قَبْلَهُ فَلْيَصُمْهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ماہ رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے کوئی روزہ نہ رکھے ، البتہ جو اس سے پہلے ( اس دن ) روزہ رکھتا رہا ہو تو وہ رکھے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2175]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ اس دن کا روزہ رکھنا اگر پہلے سے اس کے معمولات میں داخل ہو تو وہ رکھے کیونکہ یہ استقبال رمضان کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ اس کے مستقل معمولات کا ایک حصہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِصِيَامِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ يَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( رمضان ) سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ مت رکھو ، البتہ سوائے اس کے کہ یہ اس دن آ پڑے جس دن تم میں کا کوئی ( پہلے سے ) روزہ رکھتا رہا ہو “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ سند غلط ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2176]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6564) (حسن صحیح) (اصل حدیث صحیح ہے، مؤلف نے اس سند کو غلط بتایا ہے، اس لئے کہ بیشتر راویوں نے اسے ’’عن ابی سلمہ عن ابن عباس‘‘ کے بجائے ’’عن ابی سلمہ عن ابی ہریرة‘‘ روایت کیا ہے، واللہ اعلم
|
|
|
33: بَابُ : ذِكْرِ حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ فِي ذَلِكَ
باب: اس سلسلے میں ابوسلمہ کی حدیث کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی لگاتار دو مہینہ روزے رکھتے نہیں دیکھا ، البتہ آپ شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2177]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ شعبان میں برابر روزے رکھتے کہ وہ رمضان کے روزوں سے مل جاتا تھا، چونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لیے روزے آپ کے لیے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا، لیکن امت کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ شعبان کے نصف ثانی میں روزہ نہ رکھیں، تاکہ ان کی قوت و توانائی رمضان کے فرض روزوں کے لیے برقرار رہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 11 (2336)، سنن الترمذی/الصوم 37 (736)، سنن ابن ماجہ/الصوم 4 (1648)، (تحفة الأشراف: 18232)، مسند احمد 6/293، 300، 311، سنن الدارمی/الصوم 33 (1780)، ویأتی عند المؤلف برقم: 2354 (صحیح)
|
|
|
34: بَابُ : الاِخْتِلاَفِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں محمد بن ابراہیم پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعنبري , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2178]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم 11 (2336)، (تحفة الأشراف: 18238)، مسند احمد 6/311 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ، وَكَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ أَوْ عَامَّةَ شَعْبَانَ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق سوال کیا ، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پے در پے اتنے ) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ روزہ رکھنا بند نہیں کریں گے ، اور ( پھر ) اتنے دنوں تک بغیر روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ روزے نہیں رکھیں گے ، اور آپ ( پورے ) شعبان میں یا شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2179]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم 11 (2336)، (تحفة الأشراف: 18238)، مسند احمد 6/311 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ الْهَادِ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ، فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَ حَتَّى يَدْخُلَ شَعْبَانُ، وَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي شَهْرٍ مَا يَصُومُ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : ہم ( ازواج مطہرات ) میں سے کوئی رمضان میں ( حیض کی وجہ سے ) روزہ نہیں رکھتی تو اس کی قضاء نہیں کر پاتی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے جتنا شعبان میں رکھتے تھے ، آپ چند دن چھوڑ کر پورے ماہ روزے رکھتے ، بلکہ ( بسا اوقات ) پورے ( ہی ) ماہ روزے رکھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2180]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 26 (1146)، (تحفة الأشراف: 17741)، مسند احمد 6/89 (صحیح)
|
|
|
35: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَائِشَةَ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں عائشہ رضی الله عنہا کی روایت کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: " أَخْبِرِينِي عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ يَكُنْ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ، میں نے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں بتائیے ؟ تو انہوں نے کہا : آپ ( اس تسلسل سے ) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے اب آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے ، اور آپ ( اس تسلسل سے ) بلا روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ بغیر روزے ہی کے رہیں گے ، آپ کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے ، سوائے چند دنوں چھوڑ کے آپ پورے شعبان ہی روزے رکھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2181]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 34 (1156)، سنن ابن ماجہ/الصوم 30 (1710)، (تحفة الأشراف: 17729)، مسند احمد 6/39 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے ، آپ ( تقریباً ) پورے شعبان ہی روزے رکھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2182]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 52 (1970)، صحیح مسلم/الصیام 34 (782)، (تحفة الأشراف: 17780)، مسند احمد 6/84، 128، 189، 233، 244، 249 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں روزہ رکھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2183]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16063) (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " لَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک ہی رات میں سارا قرآن پڑھا ہو ، یا پوری رات صبح تک قیام کیا ہو ، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2184]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1642، 2350 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ حَرَّانِيٌّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ: سَأَلْتُهَا عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ أَتَى الْمَدِينَةَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانُ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں : میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا : ( تو ) انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس تسلسل سے ) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ روزے ( ہی ) رکھتے رہیں گے ، اور ( کبھی آپ اس تسلسل سے ) بغیر روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ بغیر روزے کے رہیں گے ، اور آپ جب سے مدینہ آئے کبھی آپ نے پورے مہینے روزے نہیں رکھے سوائے اس کے کہ وہ رمضان ہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2185]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 34 (1156)، (تحفة الأشراف: 16223) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟ قَالَتْ: لَا، مَا عَلِمْتُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ، وَلَا أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، الا یہ کہ سفر سے ( لوٹ کر ) آتے ، ( پھر ) میں نے سوال کیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پورے ماہ روزے رکھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : نہیں ، میں نہیں جانتی کہ آپ نے رمضان کے علاوہ کبھی پورے ماہ کے روزے رکھے ہوں ، اور اور نہ ایسا ہی ہوتا کہ آپ پورے ماہ بغیر روزے کے رہے ہوں ، کچھ نہ کچھ روزے ضرور رکھتے یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2186]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 13 (717)، والصوم 34 (1156)، (تحفة الأشراف: 16217)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 301 (1292)، سنن الترمذی/الشمائل 42 (4)، مسند احمد 6/171، 218، 204 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ صَوْمٌ مَعْلُومٌ سِوَى رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، وَلَا أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، الا یہ کہ سفر سے ( لوٹ کر ) آتے ، پھر میں نے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان کے علاوہ کوئی متعین روزہ تھا ؟ تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم آپ نے سوائے رمضان کے کسی خاص مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ آپ نے وفات پا لی ، اور نہ ہی پورے ماہ بغیر روزے کے رہے ، کچھ نہ کچھ روزے اس میں ضرور رکھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2187]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 13 (717)، سنن ابی داود/الصلاة 301 (1292)، (تحفة الأشراف: 16211)، مسند احمد 6/218 (صحیح)
|
|
|
36: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں خالد بن معدان پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَتْ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَيَتَحَرَّى صِيَامَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ".
جبیر بن نفیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزوں کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے ، اور دو شنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے روزے کا اہتمام فرماتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2188]
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق الشطر الأول فقط
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16050)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 44 (745)، سنن ابن ماجہ/الصوم 42 (1739)، مسند احمد 6/80، 89، 106 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ، وَيَتَحَرَّى الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان اور رمضان میں روزے رکھتے ، اور پیر اور جمعرات کے روزے کا خاص خیال رکھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2189]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصوم 44 (745)، سنن ابن ماجہ/الصوم 42 (1739)، (تحفة الأشراف: 16081)، ویأتي عند المؤلف: 2363 (صحیح)
|
|
|
37: بَابُ : صِيَامِ يَوْمِ الشَّكِّ
باب: شک والے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، قَالَ: " كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَقَالَ: كُلُوا فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ. قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عَمَّارٌ: " مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
صلہ بن زفر کہتے ہیں : ہم عمار رضی الله عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی ، تو انہوں نے کہا : آؤ تم لوگ بھی کھاؤ ، تو لوگوں میں سے ایک شخص الگ ہٹ گیا ، اور اس نے کہا : میں روزے سے ہوں ، تو عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : جس نے شک والے دن روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2190]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، ضعيف، ابو داود (2334) ترمذي (686) ابن ماجه (1645) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 11 (1906) (تعلیقاً)، سنن ابی داود/الصوم 10 (2334)، سنن الترمذی/الصوم 3 (686)، سنن ابن ماجہ/الصوم 3 (1645)، (تحفة الأشراف: 10354)، سنن الدارمی/الصوم 1 (1724) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي يَوْمٍ قَدْ أُشْكِلَ مِنْ رَمَضَانَ هُوَ أَمْ مِنْ شَعْبَانَ، وَهُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَبَقْلًا وَلَبَنًا، فَقَالَ لِي: هَلُمَّ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ: وَحَلَفَ بِاللَّهِ لَتُفْطِرَنَّ، قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ يَحْلِفُ لَا يَسْتَثْنِي تَقَدَّمْتُ، قُلْتُ: هَاتِ الْآنَ مَا عِنْدَكَ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابَةٌ أَوْ ظُلْمَةٌ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ عِدَّةَ شَعْبَانَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا، وَلَا تَصِلُوا رَمَضَانَ بِيَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ".
سماک کہتے ہیں : میں عکرمہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں شک تھا کہ یہ رمضان کا ہے یا شعبان کا ، وہ روٹی سبزی ، اور دودھ کھا رہے تھے ، انہوں نے مجھ سے کہا : آؤ کھاؤ ، تو میں نے کہا : میں روزے سے ہوں ، تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! تم ضرور روزہ توڑو گے ، تو میں نے دو مرتبہ سبحان اللہ کہا ، اور جب میں نے دیکھا کہ وہ قسم پہ قسم کھائے جا رہے ہیں اور ان شاءاللہ نہیں کہہ رہے ہیں تو میں آگے بڑھا ، اور میں نے کہا : اب لائیے جو آپ کے پاس ہے ، انہوں نے کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” روزہ رکھو ( چاند ) دیکھ کر ، اور افطار کرو ( چاند ) دیکھ کر ، اور اگر تمہارے اور چاند کے بیچ کوئی بدلی یا سیاہی حائل ہو جائے تو شعبان کی تیس کی گنتی پوری کرو ، اور ایک دن پہلے روزہ رکھ کر مہینے کا استقبال مت کرو ، اور نہ رمضان کو شعبان کے کسی دن سے ملاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2191]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2131 (صحیح)
|
|
|
38: بَابُ : التَّسْهِيلِ فِي صِيَامِ يَوْمِ الشَّكِّ
باب: شک کے دن روزہ رکھنے میں نرمی کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " أَلَا لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِيَوْمٍ أَوِ اثْنَيْنِ إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا فَلْيَصُمْهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے : ” سنو ! رمضان کے مہینہ سے ایک یا دو روز پہلے روزہ مت رکھو ، البتہ جو شخص پہلے سے روزہ رکھتا رہا ہو تو وہ رکھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2192]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2174 (صحیح)
|
|
|
39: بَابُ : ثَوَابِ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ وَصَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَالاِخْتِلاَفِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِي الْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (رات کو) قیام کرنے یعنی صلاۃ تراویح پڑھنے اور (دن کو) روزہ رکھنے والے کے ثواب کا بیان اور اس سلسلہ کی حدیث میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
( تابعی ) سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان میں ( رات کو ) ایمان کے ساتھ اور ثواب چاہنے کے لیے قیام اللیل کیا ، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2193]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18742) (صحیح) (سعید بن مسیب تابعی کی یہ روایت مرسل ہے، جن کی مراسیل کو سب سے زیادہ صحیح مانا جاتا ہے، اگلی روایت سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَغِّبُ النَّاسَ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةِ أَمْرٍ فِيهِ، فَيَقُولُ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دئیے رمضان ( کی راتوں میں ) قیام کی ترغیب دیتے ، آپ فرماتے : ” جس نے رمضان میں ( رات کو ) ایمان کے ساتھ اور ثواب چاہنے کے لیے قیام کیا ، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2194]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16411)، مسند احمد 6/281 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ , قَالَتْ: فَكَانَ يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ، وَيَقُولُ: " مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" , قَالَ: فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو نکلے ، اور آپ نے مسجد میں نماز پڑھائی ۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی ، اس میں یہ بھی تھا کہ انہوں نے کہا : ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دیئے رمضان ( کی راتوں میں ) قیام یعنی صلاۃ تراویح پڑھنے کی ترغیب دیتے ، اور فرماتے : ” جس نے شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب چاہنے کے لیے قیام کیا ، یعنی صلاۃ تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ، اور معاملہ اسی پر قائم رہا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2195]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی تراویح واجب اور ضروری نہیں ہوئی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد لكن قوله متوفى الخ مدرج إنما هو من قول الزهري
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16713)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 29 (924)، صحیح مسلم/المسافرین 25 (761)، مسند احمد 6/232 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رَمَضَانَ: " مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے بارے میں فرماتے سنا : ” جس نے اس میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کیا ، یعنی صلاۃ تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2196]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15345) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةِ أَمْرٍ فِيهِ، فَيَقُولُ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو نکلے تو مسجد میں نماز پڑھی ۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی ، اس میں ہے : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بغیر تاکیدی حکم دیئے رمضان میں قیام اللیل کرنے یعنی تہجد پڑھنے کی ترغیب دلاتے تھے ، اور فرماتے تھے : ” جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام اللیل کیا یعنی تراویح پڑھی تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2197]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16488) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِرَمَضَانَ: " مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے متعلق فرماتے سنا : ” جس نے اس میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام اللیل کی ، یعنی تہجد پڑھی تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2198]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15181) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا یعنی تہجد پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2199]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15194) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ , قَالَ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دئیے ، رمضان میں قیام اللیل کی ترغیب دلاتے تھے ، ( اور ) فرماتے : ” جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام اللیل کی ، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2200]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/ صلاة المسافرین 25 (759)، سنن ابی داود/ صلاة المسافرین 318 (1371)، سنن الترمذی/ صلاة المسافرین 83 (808)، (تحفة الأشراف: 15270)، موطا امام مالک/رمضان 1 (2)، مسند احمد 2/241، 281، 289، 259، وراجع رقم: 1603 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا ، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2201]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1603 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا ، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2202]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1603 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا ، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2203]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1603 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان میں روزے رکھے ، ( اور قتیبہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان کے مہینہ میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا ، یعنی نماز تراویح پڑھی ، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا ، یعنی نماز تراویح پڑھی ، اس کے ( بھی ) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2204]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 27 (37)، 28 (38)، ولیلة القدر 1 (2014)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 25 (759)، سنن ابی داود/الصلاة 318 (1372)، سنن الترمذی/الصوم 1 (683)، سنن ابن ماجہ/إقامة ال صلاة 173 (1326)، والصوم 2 (1641)، (تحفة الأشراف: 15145)، مسند احمد 2/232، 241، 385، 473، 503، ویأتي عند المؤلف برقم: 5027 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2205]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا ، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2206]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2204 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا ، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2207]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 28 (38)، سنن ابن ماجہ/الصوم 2 (1641)، (تحفة الأشراف: 15353)، مسند احمد 2/232 (صحیح)
|
|
|
40: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَالنَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر اور نضر بن شیبان کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ , وَأَبُو الْأَشْعَثِ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کرے گا ، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کرے گا اس کے ( بھی ) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2208]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 6 (1901)، صحیح مسلم/المسافرین 25 (760)، (تحفة الأشراف: 15424)، مسند احمد 2/473، سنن الدارمی/الصوم 54 (1817)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5030 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَرْوَانَ، أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان کے مہینہ میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا ، یعنی نماز تراویح پڑھی ، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے ، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے ( عبادت پر ) کمربستہ ہو گا اس کے ( بھی ) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2209]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 15418 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ، أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ لَهُ: حَدِّثْنِي بِأَفْضَلِ شَيْءٍ سَمِعْتَهُ يُذْكَرُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ , فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَفَضَّلَهُ عَلَى الشُّهُورِ، وَقَالَ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
نصر بن علی کہتے ہیں : مجھ سے نضر بن شیبان نے بیان کیا کہ وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ملے ، تو ان سے انہوں نے کہا : آپ نے ماہ رمضان کے سلسلے میں جو سب سے افضل قابل ذکر چیز سنی ہوا سے بیان کیجئے تو ابوسلمہ نے کہا : مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ آپ نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو اسے تمام مہینوں میں افضل قرار دیا اور فرمایا : ” جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا ، یعنی نماز تراویح پڑھی ، تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے ہی نکل جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ غلط ہے «أبوسلمة حدثني عبدالرحمٰن» کے بجائے صحیح «أبوسلمة عن أبي هريرة» ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2210]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1328) النضر بن شيبان: لين الحديث (تقريب: 7136) وقال ابن معين: ’’ليس حديثه بشيء‘‘ (الجرح والتعديل 8 476 وسنده صحيح) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الإقامة173 (1328)، (تحفة الأشراف: 9729)، مسند احمد 1/191، 194، 195 (ضعیف) (اس کے راوی ’’نضر بن شیبان‘‘ ضعیف ہیں)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَقَالَ: مَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا.
اس سند سے بھی ابوسلمہ سے اسی کے مثل حدیث مروی ہے اس میں «من صامه وقامه إيمانا واحتسابا» ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2211]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (2210) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (ضعیف)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكَ، سَمِعَهُ أَبُوكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ بَيْنَ أَبِيكَ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: نَعَمْ , حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ عَلَيْكُمْ، وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
نضر بن شیبان کہتے ہیں : میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے کہا کہ آپ مجھ سے ماہ رمضان کے متعلق کوئی ایسی بات بیان کریں جو آپ نے اپنے والد ( عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ) سے سنی ہو ، اور اسے آپ کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہو ، آپ کے والد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ کوئی اور حائل نہ ہو ۔ انہوں نے کہا : اچھا سنو ! مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے فرض کیے ہیں ، اور میں نے تمہارے لیے اس میں قیام کرنے کو سنت قرار دیا ہے اس میں جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھے گا اور ( عبادت پر ) کمربستہ ہو گا تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2212]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1328) وانظر الحديث السابق (2210) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2210 (ضعیف) (اس کے راوی ’’نضر‘‘ ضعیف ہیں)
|
|
|
41: بَابُ : فَضْلِ الصِّيَامِ وَالاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ فِي حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي ذَلِكَ
باب: روزے کی فضیلت اور اس سلسلے میں علی رضی الله عنہ کی حدیث کے بارے میں ابواسحاق سبیعی پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ حِينَ يُفْطِرُ وَحِينَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تبارک و تعالیٰ کہتا ہے : روزہ میرے لیے ہے ، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ۔ اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں : ایک جس وقت وہ روزہ کھولتا ہے ، اور دوسری جس وقت وہ اپنے رب سے ملے گا ، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2213]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 10166 (صحیح) (آگے آنے والی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’العلاء بن ھلال باھلی‘‘ ضعیف ہیں)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے : روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ، اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں : ایک وقت وہ اپنے رب سے ملے گا ، اور دوسری خوشی وہ جو اسے روزہ کھولنے کے وقت حاصل ہوتی ہے ۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2214]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، حم1/446 (صحیح الإسناد) (یہ موقوف روایت مرفوع کے حکم میں ہے، اس لیے کہ کوئی صحابی خود سے غیب کی بات نہیں کہہ سکتا، جب کہ اس حدیث قدسی میں صائم کے اجر وثواب کا ذکر ہے)
|
|
|
42: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي صَالِحٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں ابوصالح پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کہتا ہے : روزہ میرے لیے ہے ۔ اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ، اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں : ایک جب وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے ، اور ( دوسری ) جب وہ ( قیامت میں ) اللہ سے ملے گا اور وہ اسے بدلہ دے گا تو وہ خوش ہو گا ، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2215]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم30 (1151)، (تحفة الأشراف: 4027)، مسند احمد 3/5 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ الْمُنْذِرَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصَّائِمُ يَفْرَحُ مَرَّتَيْنِ: عِنْدَ فِطْرِهِ، وَيَوْمَ يَلْقَى اللَّهَ وَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) روزہ میرے لیے ہے ، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ، روزہ دار دو بار خوش ہوتا ہے : ایک اپنے روزے کو کھولنے کے وقت ، اور دوسرے جس دن وہ اللہ سے ملے گا ، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے یہاں مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2216]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12884، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم2 (1894)، 9 (1904)، واللباس78 (5927)، والتوحید35 (7492)، 50 (7538)، صحیح مسلم/الصوم30 (1151)، سنن ابی داود/الصوم25 (2363)، سنن الترمذی/الصوم55 (764)، سنن ابن ماجہ/الصوم1 (1638)، موطا امام مالک/الصوم22 (58)، مسند احمد 2/232، 257، 266، 273، 293، 352، 312، 443، 445، 475، 477، 480، 501، 510، 516 (صحیح) (مؤلف کی اس سند میں ’’منذر‘‘ لین الحدیث ہیں، جن کی متابعت موجود ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ حَسَنَةٍ عَمِلَهَا ابْنُ آدَمَ، إِلَّا كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي، الصِّيَامُ جُنَّةٌ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن آدم جو بھی نیکی کرتا ہے ان اس کے لیے دس سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا کر لکھی جاتی ہیں ۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے : سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ، وہ اپنی شہوت اور اپنا کھانا پینا میری خاطر چھوڑتا ہے ، روزہ ڈھال ہے ، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ۔ ایک خوشی اسے اپنے افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اسے اپنے رب سے ملنے کے وقت حاصل ہو گی ، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2217]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 30 (1151)، تحفة الأشراف: 12340، مسند احمد 2/474 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، إِذَا كَانَ يَوْمُ صِيَامِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ، وَلَا يَصْخَبْ فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرِحَ بِصَوْمِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے ، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ، روزہ ڈھال ہے ، جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش گوئی نہ کرے ، شور و شغب نہ کرے ، اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے مار پیٹ کرے تو اس سے کہہ دے ( بھائی ) میں روزے سے ہوں ، ( مار پیٹ گالی گلوچ کچھ نہیں کر سکتا ) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے یہاں قیامت کے دن مشک کی بو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی ، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے : ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے تو اپنے روزہ کھولنے سے خوش ہوتا ہے ، اور دوسری جب وہ اپنے بزرگ و برتر رب سے ملے گا تو اپنے روزہ ( کا ثواب ) دیکھ کر خوش ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2218]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 9 (1904)، صحیح مسلم/الصیام 30 (1151)، تحفة الأشراف: 2853، مسند احمد 2 273، 516، 6/244، ویأتی عندالمؤلف بأرقام: 2230 و2231 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ الزَّيَّاتُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ الصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ، وَلَا يَصْخَبْ فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ابن آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہوتا ہے سوائے روزے کے ، وہ خالص میرے لیے ہے ، اور میں خود ہی اسے اس کا بدلہ دوں گا ، روزہ ڈھال ہے ، تو جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش اور لایعنی بات نہ کرے ، اور نہ ہی شور و غل مچائے ، اگر کوئی اس سے گالی گلوچ کرے یا اس کے ساتھ مار پیٹ کرے تو اس سے کہے : میں روزہ دار آدمی ہوں ( گالی گلوچ مار پیٹ نہیں کر سکتا ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بوسے زیادہ عمدہ ہے ۔ یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سعید بن مسیب نے روایت کی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2219]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آدمی کا ہر عمل اسی کے لیے ہے ، سوائے روزہ کے وہ میرے لیے ہے ، اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2220]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 30 (1151)، تحفة الأشراف: 13345 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا ابْنُ آدَمَ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا، إِلَّا الصِّيَامَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) ہر وہ نیکی جسے آدمی کرتا ہے تو اسے اس کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہے ، سوائے روزے کے ، روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2221]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 13090 (صحیح)
|
|
|
43: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ فِي فَضْلِ الصَّائِمِ
باب: روزہ دار کی فضیلت کے سلسلے میں ابوامامہ رضی الله عنہ والی حدیث میں محمد بن ابی یعقوب پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مُرْنِي بِأَمْرٍ آخُذُهُ عَنْكَ قَالَ: " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ".
ابو امامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا حکم دیجئیے جسے میں آپ سے براہ راست اخذ کروں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے اوپر روزہ لازم کر لو کیونکہ اس کے برابر کوئی ( عبادت ) نہیں ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2222]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی شہوت کے توڑنے اور نفس امارہ اور شیطان کے دفع کرنے کے سلسلہ میں روزے کے برابر کوئی عبادت نہیں، یا کثرت ثواب میں اس کے برابر کوئی عبادت نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4861)، مسند احمد 5/248، 249، 255، 257، 258، 264، وانظر الأرقام التالیة (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيّ حَدَّثَهُ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مُرْنِي بِأَمْرٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ , قَالَ: " عَلَيْكَ بِالصِّيَامِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ".
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کسی ایسی چیز کا حکم دیجئیے جس سے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ پہنچائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی ( عبادت ) نہیں ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2223]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّعِيفُ شَيْخٌ صَالِحٌ وَالضَّعِيفُ لَقَبٌ لِكَثْرَةِ عِبَادَتِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ".
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2224]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2222 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ السَّكَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ الْهِلَالِيِّ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مُرْنِي بِعَمَلٍ , قَالَ: " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا عَدْلَ لَهُ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مُرْنِي بِعَمَلٍ , قَالَ: " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ".
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کسی کام کا حکم فرمایئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس جیسا کوئی ( عمل ) نہیں ہے “ ۔ میں نے ( پھر ) عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کسی کام کا حکم دیجئیے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2225]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2222 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ فِطْرٍ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّوْمُ جُنَّةٌ".
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ ڈھال ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2226]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11367)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الإیمان8 (2616)، سنن ابن ماجہ/الفتن12 (3973)، مسند احمد 5/231، 237 (صحیح) (سند میں راوی میمون کثیر الارسال ہیں، لیکن ابوہریرہ رضی الله عنہ کے آگے آنے والی شاہد (2230، 2231) سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , وَالْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّوْمُ جُنَّةٌ".
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ ڈھال ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2227]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جہنم کی آگ سے بچاؤ کرتا ہے یا شیطان کے وار اور گناہوں کے ارتکاب سے بچاتا ہے جیسے ڈھال دشمن کے وار سے بچاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح) (ابوہریرہ رضی الله عنہ کے آگے آنے والی شاہد (2230) سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ النَّزَّالِ يُحَدِّثُ , عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّوْمُ جُنَّةٌ" ,
معاذ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ ڈھال ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2228]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 11347 (صحیح) (سند میں راوی عروة بن نزال لین الحدیث ہیں، لیکن آگے آنے والے شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ لِي الْحَكَمُ، سَمِعْتُهُ مِنْهُ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ قَالَ الْحَكَمُ: وَحَدَّثَنِي بِهِ مَيْمُونُ بْنُ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.
شعبہ کہتے ہیں کہ حکم نے مجھ سے کہا کہ میں نے یہ حدیث ان سے یعنی معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے چالیس سال پہلے سنی تھی ، پھر حکم نے کہا نیز مجھ سے اسے میمون بن ابی شبیب نے بیان کیا انہوں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2229]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ حَجَّاجٍ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2226 (صحیح) (سند میں حجاج بن ارطاة ضعیف راوی ہے، لیکن آگے آنے والی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصِّيَامُ جُنَّةٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ ڈھال ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2230]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2218 (صحیح)
|
|
|
وأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَطَاءٌ الزَّيَّاتُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصِّيَامُ جُنَّةٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” روزہ ڈھال ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2231]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2218 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ مُطَرِّفًا رَجُلًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ لِيَسْقِيَهُ، فَقَالَ مُطَرِّفٌ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الصِّيَامُ جُنَّةٌ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ".
بنی عامر بن صعصعہ کی اولاد میں سے مطرف نامی ایک شخص کہتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے دودھ منگوایا تاکہ وہ انہیں پلائیں تو مطرف نے کہا : میں تو روزے سے ہوں ۔ تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” روزہ ڈھال ہے جس طرح کہ لڑائی کے موقع پر تم میں سے کسی کے پاس ڈھال ہوتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2232]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصوم1 (1639)، (تحفة الأشراف: 9771)، مسند احمد 4/ 21، 22، 217، 218 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ فَدَعَا بِلَبَنٍ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ".
مطرف کہتے ہیں کہ میں عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے ( میری ضیافت کے لیے ) دودھ منگوایا ، تو میں نے کہا : میں روزے سے ہوں ، تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” روزہ آگ سے بچاؤ کے لیے کی ڈھال ہے جس طرح کہ تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں دشمن کے وار سے بچاؤ کے لیے ڈھال ہوتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2233]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2232 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ: دَخَلَ مُطَرِّفٌ عَلَى عُثْمَانَ نَحْوَهُ مُرْسَلٌ.
سعید بن ابی ہند کہتے ہیں کہ مطرف عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔ آگے راوی نے اس طرح کی روایت بیان کی ، یہ روایت مرسل ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2234]
قال الشيخ الألباني:
سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2232 (صحیح) (مؤلف نے اسے مرسل کہا ہے، یعنی یہ موقوف ہے، اس معنی میں کہ عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہ نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف نسبت کئے بغیر ہی اسے موقوفاً روایت کیا ہے، نیز احتمال ہے کہ ارسال یہاں انقطاع کے معنی میں ہو کیونکہ مطرف کا عثمان کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس میں سعید موجود تھے اس بارے میں عبداللہ بن سعید کی روایت صریح نہیں ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ، قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا".
ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ الجراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے ( جھوٹ و غیبت وغیرہ کے ذریعہ ) پھاڑ نہ دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2235]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5047)، مسند احمد 1/195، 196، یأتي عند المؤلف برقم2237 (ضعیف) (اس کے رواة بشار اور عیاض دونوں لین الحدیث ہیں)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْآدَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ فَمَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا، فَلَا يَجْهَلْ يَوْمَئِذٍ، وَإِنِ امْرُؤٌ جَهِلَ عَلَيْهِ فَلَا يَشْتُمْهُ وَلَا يَسُبَّهُ وَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے ڈھال ہے ، جو شخص روزہ دار ہو کر صبح کرے تو وہ اس دن جہالت و نادانی کی کوئی بات نہ کرے ، اور اگر کوئی شخص اس کے ساتھ جہالت و نادانی کی بات کرنے لگے تو اسے گالی نہ دے ، برا بھلا نہ کہے ۔ اس کے لیے مناسب ہو گا کہ وہ اس سے کہے ، ( بھائی ) میں روزے سے ہوں ، ( میں تم سے لڑائی جھگڑا نہیں کر سکتا ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2236]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 17358 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: " الصِّيَامُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا".
ابوعبیدہ بن الجراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے پھاڑ نہ دے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2237]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2235 (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِلصَّائِمِينَ بَابٌ فِي الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ، لَا يَدْخُلُ فِيهِ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ مَنْ دَخَلَ فِيهِ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا".
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ دار کے لیے جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے ، روزہ دار کے سوا کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہو گا ، اور جب آخری روزہ دار دروازہ کے اندر پہنچ جائے گا تو دروازہ بند کر دیا جائے گا ، جو وہاں پہنچ جائے گا وہ پئے گا اور جو پئے گا ، وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2238]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4679)،، حم5/333، 335، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم4 (1896)، وبدء الخلق9 (3257)، صحیح مسلم/الصوم30 (1152)، سنن الترمذی/الصوم55 (765) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَهْلٌ، " أَنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا , يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ يُقَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الصَّائِمُونَ هَلْ لَكُمْ إِلَى الرَّيَّانِ مَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَدْخُلْ فِيهِ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ".
سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے ، قیامت کے دن پکار کر کہا جائے گا ، روزہ دارو ! کہاں ہو ؟ کیا تمہیں ریان کی طرف آنے کی رغبت ہے ؟ جو شخص اس میں داخل ہو گا ، اور ( اس کے چشمے ( ریان ) کا پانی پئے گا ) وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا ، جب وہ داخل ہو جائیں گے تو وہ بند کر دیا جائے گا ۔ اس دروازے سے روزہ دار کے سوا کوئی اور داخل نہ ہو گا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2239]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد موقوف ق مرفوعا دون جملة الظمأ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 4791 (صحیح الإسناد) (یہ حدیث مرفوعا متفق علیہ ہے، من دخله لم يظمأ أبدا مرفوع حدیث میں ثابت نہیں ہے، صحیح الترغیب 969، تراجع الالبانی 351)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَيُونُسُ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ , هَذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ يُدْعَى مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ يُدْعَى مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ يُدْعَى مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا عَلَى أَحَدٍ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا دے گا ۱؎ اسے جنت میں بلا کر پکارا جائے گا ، اے اللہ کے بندے ! یہ تیری نیکی ہے ، تو جو شخص نمازی ہو گا وہ صلاۃ کے دروازے سے بلایا جائے گا ، اور جو مجاہدین میں سے ہو گا وہ جہاد والے دروازہ سے بلایا جائے گا ، اور جو صدقہ دینے والوں میں سے ہو گا وہ صدقہ والے دروازے سے بلایا جائے گا ، اور جو روزہ داروں میں سے ہو گا وہ باب ریان سے بلایا جائے گا ۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کسی کے لیے ضرورت تو ۲؎ نہیں کہ وہ ان سبھی دروازوں سے بلایا جائے ، لیکن کیا کوئی ان سبھی دروازوں سے بھی بلایا جائے گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2240]
💡 وضاحت:
۱؎: ـ مثلاً دو دینار، دو گھوڑے، دو کپڑے، دو روٹیاں، دو غلام اور دو لونڈیاں وغیرہ وغیرہ دے گا۔ ۲؎: کیونکہ ایک دروازے سے بلایا جانا جنت میں داخل ہونے کے لیے کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 4 (1897)، الجھاد 37 (2841)، بدء الخلق 6 (3216)، فضائل الصحابة 5 (3666)، صحیح مسلم/الزکاة 27 (1027)، سنن الترمذی/المناقب 16 (3674)، (تحفة الأشراف: 12279) موطا امام مالک/الجھاد 19 (49)، مسند احمد 2/268، 366، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2441، 3137 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَابٌ لَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ، قَالَ: " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! عَلَيْكُمْ بِالْبَاءَةِ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، اور ہم سب نوجوان تھے ۔ ہم ( جوانی کے جوش میں ) کسی چیز پر قابو نہیں رکھ پاتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے نوجوانوں کی جماعت ! تم اپنے اوپر شادی کرنے کو لازم پکڑو کیونکہ یہ نظر کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے ، اور جو نہ کر سکتا ہو ( یعنی نان ، نفقے کا بوجھ نہ اٹھا سکتا ہو ) وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے کیونکہ یہ اس کے لیے بمنزلہ خصی بنا دینے کے ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2241]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 10 (1905)، 3 (5066)، صحیح مسلم/الصوم 1 (1400)، سنن الترمذی/الصوم 1 (1081)، تحفة الأشراف: 9385)، مسند احمد 1/592، حم1/378، 424، 425، 432، سنن الدارمی/النکاح2 (8211)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2244، 3211، 3212 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَقِيَ عُثْمَانَ بِعَرَفَاتٍ فَخَلَا بِهِ فَحَدَّثَهُ , وَأَنَّ عُثْمَانَ , قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا؟ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ".
علقمہ سے روایت ہے کہ ابن مسعود ( رضی اللہ عنہ ) ، عثمان ( رضی اللہ عنہ ) سے عرفات میں ملے ، تو وہ انہیں لے کر تنہائی میں چلے گئے اور ان سے باتیں کیں ، عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ کو کسی دوشیزہ کی خواہش ہے کہ میں آپ کی اس سے شادی کرا دوں ؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بھی بلا لیا ( آ جاؤ کوئی خاص بات نہیں ہے اور جب وہ آ گئے ) تو انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے اسے چاہیئے کہ وہ شادی کر لے کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے ، اور جو طاقت نہ رکھے ، تو اسے چاہیئے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے «وجاء» ہے “ ( یعنی وہ اسے خصی بنا دے گا ، اس کی شہوت کو توڑ دے گا ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2242]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 10 (1905) مختصراً، النکاح2 (5065)، صحیح مسلم/الصوم1 (1400)، سنن ابی داود/النکاح1 (2046)، سنن الترمذی/الصوم1 (1081) تعلیقًا، سنن ابن ماجہ/الصوم1 (1845) مطولًا، تحفة الأشراف: 9417، مسند احمد 1/ 378، 447، سنن الدارمی/النکاح2 (2212)، ویأتي عند المؤلف 3209، 3210، 3213 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے ، تو وہ شادی کر لے اور جو نہ رکھے ، وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے ، کیونکہ یہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2243]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَمَعَنَا عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ وَجَمَاعَةٌ، فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثٍ مَا رَأَيْتُهُ حَدَّثَ بِهِ الْقَوْمَ، إِلَّا مِنْ أَجْلِي لِأَنِّي كُنْتُ أَحْدَثَهُمْ سِنًّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ" , قَالَ عَلِيٌّ: وَسُئِلَ الْأَعْمَشِ عَنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ , قَالَ: نَعَمْ.
عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت ہے کہ ہم عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ علقمہ ، اسود اور ایک جماعت تھی ، تو انہوں نے ہم سے ایک حدیث بیان کی ، اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے وہ حدیث میرے ہی لیے بیان کی تھی کیونکہ میں ان لوگوں میں سب سے زیادہ نوعمر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے نوجوانوں کی جماعت ! جو تم میں بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے ، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے “ ۔ علی بن ہاشم ( راوی ) کہتے ہیں کہ اعمش سے ابراہیم والی روایت کے بارے میں پوچھا گیا ، سائل نے پوچھا : «عن إبراهيم عن علقمة عن عبداللہ» اسی کے مثل مروی ہے ، اعمش نے کہا : ہاں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2244]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2241 (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’علا باہلی“ ضعیف ہیں)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ عِنْدَ عُثْمَانَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِتْيَةٍ , فَقَالَ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا فَالصَّوْمُ لَهُ وِجَاءٌ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو مَعْشَرٍ: هَذَا اسْمُهُ زِيَادُ بْنُ كُلَيْبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَهُوَ صَاحِبُ إِبْرَاهِيمَ رَوَى عَنْهُ مَنْصُورٌ، وَمُغِيرَةُ، وَشُعْبَةُ، وَأَبُو مَعْشَرٍ الْمَدَنِيُّ: اسْمُهُ نَجِيحٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَمَعَ ضَعْفِهِ أَيْضًا كَانَ قَدِ اخْتَلَطَ عِنْدَهُ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ، مِنْهَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ" , وَمِنْهَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ وَلَكِنِ انْهَسُوا نَهْسًا".
علقمہ کہتے ہیں : میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو ثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ” تم میں سے جو شخص وسعت والا ہو وہ شادی کر لے ۔ کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے ، اور جو شخص ایسا نہ ہو تو روزہ اس کی شہوت کو کچل دینے کا ذریعہ ہے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : سند میں مذکور ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے ، وہ ثقہ ہیں اور وہ ابراہیم ( نخعی ) کے تلامذہ میں سے ہیں ، اور ان سے منصور ، مغیرہ اور شعبہ نے روایت کی ہے ۔ اور ( ایک دوسرے ) ابومعشر جو مدنی ہیں ان کا نام نجیح ( نجیح بن عبدالرحمٰن سندی ) ہے ، وہ ضعیف ہیں ، اور ضعف کے ساتھ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے ان کے یہاں کچھ منکر احادیث بھی ہیں جن میں سے ایک وہ ہے جو انہوں نے محمد بن عمرو سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے ، ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے وہ قبلہ ہے “ ۱؎ ۔ نیز اسی میں سے ایک حدیث وہ ہے جو انہوں نے ہشام بن عروہ سے ، ہشام نے اپنے والد عروہ سے ، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گوشت چھری سے نہ کاٹو بلکہ نوچ نوچ کر کھاؤ “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2245]
💡 وضاحت:
۱؎: أخرجه الترمذي (342) وابن ماجه (1011) (تحفة الأشراف 15124) (حافظ ابن حجر النکت الظراف میں لکھتے ہیں کہ خلیلی نے ارشاد میں ایک دوسرے طریقے سے اسے بسند ابو معشر عن ہشام عن ابیہ عن عائشہ روایت کیا ہے، اس حدیث میں ابو معشر نجیح بن عبدالرحمٰن سندی ہیں، جو ضعیف راوی ہیں، اسی لیے حافظ ابن حجر نے ان کے بارے میں کہا: ضعیف أسن واختلط یعنی ضعیف ہیں، عمر دراز ہوئے اور اختلاط کا شکار ہوئے، اسی وجہ سے امام نسائی نے باب میں موجود ابو معشر زیاد بن کلیب کی توثیق کے بعد اسی کنیت کے دوسرے راوی یعنی نجیح بن عبدالرحمٰن سندی کا تذکرہ ان کی منکر احادیث کے ساتھ دیا تاکہ دونوں میں تمیز ہو جائے، اور یہ امام نسائی کی کتاب کی خوبی ہے کہ وہ اس طرح کے افادات رقم فرماتے ہیں، لیکن مذکور حدیث دوسرے طرق کی وجہ سے صحیح ہے، تفصیل کے ملاحظہ ہو: الإرواء: ۲۹۲) ۲؎: حدیث «لأستغفرن لك ما لم أنه عنك» اس کی تخریج ابوداؤد اور بیہقی نے سنن کبریٰ میں کی ہے، اور شیخ البانی نے اسے ضعیف الجامع (۶۲۵۶) میں داخل کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (لم يذكر المزي طرف الحديث في ترجمة أبي معشر زياد بن كليب عن إبراهيم عن علقمة عن ابن مسعود /تحفة الأشراف 6/ 363) حم1/58 ویأتی عند المؤلف 3208 (صحیح الإسناد)
|
|