سنن النسائي حدیث نمبر: 2391
Sunan an-Nasa'i 2391
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: أَنْكَحَنِي أَبِي امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ، فَكَانَ يَأْتِيهَا فَيَسْأَلُهَا عَنْ بَعْلِهَا , فَقَالَتْ: نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يَطَأْ لَنَا فِرَاشًا، وَلَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُنْذُ أَتَيْنَاهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ائْتِنِي بِهِ"، فَأَتَيْتُهُ مَعَهُ , فَقَالَ:" كَيْفَ تَصُومُ؟" , قُلْتُ: كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ:" صُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ"، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" صُمْ يَوْمَيْنِ وَأَفْطِرْ يَوْمًا"، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام صَوْمُ يَوْمٍ وَفِطْرُ يَوْمٍ".
مجاہد کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا : میرے والد نے میری شادی ایک اچھے خاندان والی عورت سے کر دی ، چنانچہ وہ اس کے پاس آتے ، اور اس سے اس کے شوہر کے بارے میں پوچھتے ، تو ( ایک دن ) اس نے کہا : یہ بہترین آدمی ہیں ایسے آدمی ہیں کہ جب سے میں ان کے پاس آئی ہوں ، انہوں نے نہ ہمارا بستر روندا ہے اور نہ ہم سے بغل گیر ہوئے ہیں ، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے میرے پاس لے کر آؤ “ ، میں والد کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ، تو آپ نے پوچھا : ” تم کس طرح روزے رکھتے ہو ؟ “ میں نے عرض کیا : ہر روز ، آپ نے فرمایا : ” ہفتہ میں تین دن روزے رکھا کرو “ ، میں نے کہا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” اچھا دو دن روزہ رہا کرو اور ایک دن افطار کرو “ ، میں نے کہا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا سب سے افضل روزے رکھے کرو جو داود علیہ السلام کے روزے ہیں ، ایک دن روزہ اور ایک دن افطار “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2391]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)