سنن النسائي حدیث نمبر: 2389
Sunan an-Nasa'i 2389
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
75: بَابُ : صَوْمِ ثُلُثَىِ الدَّهْرِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ قَالَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ، أَوْ لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: " أَوَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ"، قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: " ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام"، قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ: " وَدِدْتُ أَنِّي أُطِيقُ ذَلِكَ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ هَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو صیام الدھر رکھتا ہو ؟ آپ نے فرمایا : ” اس نے نہ روزے رکھے ، اور نہ ہی افطار کیا “ ۔ ( راوی کو شک ہے «لاصيام ولا أفطر» کہا ، یا «لم يصم ولم يفطر» کہا ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” کیا اس کی کوئی طاقت رکھتا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : ( اچھا ) اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے “ ، انہوں نے کہا : اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے ؟ آپ نے فرمایا : ” میری خواہش ہے کہ میں اس کی طاقت رکھوں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا ، اور رمضان کے روزے رکھنا یہی صیام الدھر ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2389]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2385 (صحیح)