سنن النسائي حدیث نمبر: 2387
Sunan an-Nasa'i 2387
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
75: بَابُ : صَوْمِ ثُلُثَىِ الدَّهْرِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَجُلٌ يَصُومُ الدَّهْرَ , قَالَ: " وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ"، قَالُوا: فَثُلُثَيْهِ، قَالَ: " أَكْثَرَ"، قَالُوا: فَنِصْفَهُ، قَالَ: " أَكْثَرَ"، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
عمرو بن شرجبیل ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : ایک آدمی ہے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” میری خواہش ہے کہ وہ کبھی کھاتا ہی نہیں “ ۱؎ ، لوگوں نے عرض کیا : دو تہائی ایام رکھے تو ؟ ۲؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ بھی زیادہ ہے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اور آدھا رکھے تو ؟ ۳؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ بھی زیادہ ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں اتنے روزوں نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دیں ، یہ ہر مہینے کے تین دن کے روزے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2387]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نہ دن میں نہ رات میں یہاں تک کہ بھوک سے مر جائے، اس سے مقصود اس کے اس عمل پر اپنی ناگواری کا اظہار ہے اور یہ بتانا ہے کہ یہ ایک ایسا مذموم عمل ہے کہ اس کے لیے بھوک سے مر جانے کی تمنا کی جائے۔ ۲؎: یعنی دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟ ۳؎: یعنی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15652) (صحیح)