سنن النسائي حدیث نمبر: 2385
Sunan an-Nasa'i 2385
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
73: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں غیلان بن جریر پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ فَغَضِبَ , فَقَالَ عُمَرُ: " رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا" , وَسُئِلَ عَمَّنْ صَامَ الدَّهْرَ , فَقَالَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ ناراض ہو گئے ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم اللہ کے رب ( حقیقی معبود ) ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے پر ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر ، راضی ہیں ، نیز آپ سے ہمیشہ روزہ رکھنے والے کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” اس نے نہ روزہ رکھا ، نہ ہی افطار کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2385]
قال الشيخ الألباني:
سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 36 (1162)، سنن ابی داود/الصوم53 (2426)، سنن الترمذی/الصوم 56 (767)، (سنن ابن ماجہ/الصوم 31 (1713)، 40 (1730)، 41 (1738)، (تحفة الأشراف: 12117)، مسند احمد 5/295، 296، 297، 299، 303، 308، 310، ویأتی عند المؤلف برقم: 2389 (صحیح)