سنن النسائي حدیث نمبر: 2388
Sunan an-Nasa'i 2388
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
75: بَابُ : صَوْمِ ثُلُثَىِ الدَّهْرِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ شَيْئًا"، قَالَ: فَثُلُثَيْهِ، قَالَ: " أَكْثَرَ"، قَالَ: فَنِصْفَهُ، قَالَ: " أَكْثَرَ"، قَالَ: " أَفَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ"، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو صیام الدھر رکھے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تو یہ چاہوں گا کہ کبھی کچھ کھائے ہی نہ “ ، اس نے کہا : اس کا دو تہائی رکھے تو ؟ آپ نے فرمایا : ” زیادہ ہے “ ، اس نے کہا : آدھے ایام رکھے تو ؟ آپ نے فرمایا : ” زیادہ ہے “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دے “ ، لوگوں نے کہا : جی ہاں ( ضرور بتائیے ) آپ نے فرمایا : ” یہ ہر مہینے میں تین دن کا روزہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2388]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، پچھلی روایت سے تقویت پاکر صحیح ہے)