سنن النسائي حدیث نمبر: 2397
Sunan an-Nasa'i 2397
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
77: بَابُ : ذِكْرِ الزِّيَادَةِ فِي الصِّيَامِ وَالنُّقْصَانِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِيهِ
باب: روزہ میں زیادتی و کمی کا بیان اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: ذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْمَ , فَقَالَ: " صُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ التِّسْعَةِ" , فَقُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " صُمْ مِنْ كُلِّ تِسْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ الثَّمَانِيَةِ" , قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مَنْ ذَلِكَ , قَالَ: " فَصُمْ مِنْ كُلِّ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ السَّبْعَةِ" , قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى , قَالَ: " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : ” ہر دس دن پر ایک دن روزہ رکھو ، تمہیں ان باقی نو دنوں کا اجر و ثواب ملے گا “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” ہر نو دن پر ایک دن روزہ رکھو اور تمہیں ان آٹھ دنوں کا بھی ثواب ملے گا “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” ہر آٹھ دن پر ایک دن روزہ رکھ اور تجھے باقی سات دنوں کا بھی ثواب ملے گا “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ برابر اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : ” ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2397]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8971)، مسند احمد 2 224 (صحیح)