سنن النسائي حدیث نمبر: 2404
Sunan an-Nasa'i 2404
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
79: بَابُ : صِيَامِ خَمْسَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ
باب: مہینے میں پانچ دن روزہ رکھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ زَيْدٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَيَّ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةَ أَدَمٍ رَبْعَةً حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ , قَالَ: " أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " خَمْسًا" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " سَبْعًا" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " تِسْعًا" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " إِحْدَى عَشْرَةَ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ شَطْرَ الدَّهْرِ، صِيَامُ يَوْمٍ وَفِطْرُ يَوْمٍ".
ابوقلابۃ ابوالملیح سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : میں تمہارے والد زید کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ، تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے روزہ کا ذکر کیا گیا تو آپ میرے پاس تشریف لائے ، میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک درمیانی تکیہ لا کر رکھا جس کا بھراؤ کھجور کی پیتاں تھیں ، آپ زمین پر بیٹھ گئے ، اور تکیہ ہمارے اور آپ کے درمیان ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا ہر مہینے میں تین دن تمہارے روزہ کے لیے کافی نہیں ہیں ؟ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا : ” پانچ دن کر لو “ ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا : ” سات دن کر لو “ ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! کچھ اور بڑھا دیجئیے ! آپ نے فرمایا : ” نو دن “ ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( کچھ اور بڑھا دیجئیے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گیارہ دن کر لو “ ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا : ” داود علیہ السلام کے روزہ سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں ہے ، اور وہ اس طرح ہے ایک دن روزہ رکھا جائے ، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2404]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 59 (1980)، الاستئذان 38 (6277)، صحیح مسلم/الصوم 35 (1159)، (تحفة الأشراف: 8969) (صحیح)