سنن النسائي حدیث نمبر: 2402
Sunan an-Nasa'i 2402
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
78: بَابُ : صَوْمِ عَشْرَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِيهِ
باب: مہینے میں دس دن کا روزہ اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ: " فِي خَمْسَةِ أَيَّامٍ"، وَقَالَ: " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ، فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ: " صُمْ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” قرآن ایک مہینہ میں پڑھا کرو “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، اور پھر میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا ، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : ” پانچ دن میں پڑھا کرو ، اور مہینہ میں تین دن روزہ رکھو “ ، میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، تو میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : ” داود علیہ السلام کا روزہ رکھو ، جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے ، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2402]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2390 (صحیح)