سنن النسائي حدیث نمبر: 2119
Sunan an-Nasa'i 2119
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
9: بَابُ : إِكْمَالِ شَعْبَانَ ثَلاَثِينَ إِذَا كَانَ غَيْمٌ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
باب: بادل ہونے پر شعبان کے تیس دن پورے کرنے کا بیان اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چاند دیکھ کر روزے رکھو ، اور چاند دیکھ کر افطار کرو ، اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس ( دن ) پورے کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2119]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ۲۹ شعبان کو آسمان میں بادل ہوں اور اس کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے روزوں کی شروعات کرو، اسی طرح ۲۹ رمضان کو اگر عید الفطر کا چاند نظر نہ آ سکے تو تیس روزے پورے کر کے عید الفطر مناؤ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 11 (1909)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1081)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 2 (684)، سنن ابن ماجہ/الصوم 7 (1655)، (تحفة الأشراف: 14382)، مسند احمد 2/ 409، 430، 471، 498، سنن الدارمی/الصیام 2 (1727) (صحیح)