سنن النسائي حدیث نمبر: 2373
Sunan an-Nasa'i 2373
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
70: بَابُ : صَوْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي - وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ! أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذَا الْيَوْمِ: " إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ".
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن منبر پر کہتے سنا : ” اے مدینہ والو ! تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن میں کہتے ہوئے سنا کہ میں روزہ سے ہوں تو جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2373]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم69 (2003)، صحیح مسلم/الصوم19 (1125)، (تحفة الأشراف: 11408)، موطا امام مالک/الصوم11 (34)، مسند احمد 4/95، 97 (صحیح)