سنن النسائي حدیث نمبر: 2347
Sunan an-Nasa'i 2347
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
70: بَابُ : صَوْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي - وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُفْطِرُ أَيَّامَ الْبِيضِ فِي حَضَرٍ، وَلَا سَفَرٍ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضر میں ہوں یا سفر میں ایام بیض میں بغیر روزہ کے نہیں رہتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2347]
💡 وضاحت:
۱؎: قمری مہینہ کی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخ کو ایام بیض (روشن راتوں والے دن) کہا جاتا ہے، کیونکہ ان راتوں میں چاند ڈوبنے کے وقت سے لے کر صبح تک پوری رات رہتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5470) (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 580، وتراجع الالبانی 404)