سنن النسائي حدیث نمبر: 2173
Sunan an-Nasa'i 2173
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
30: بَابُ : كَيْفَ الْفَجْرُ
باب: فجر کیسے ہوتی ہے؟
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ، حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا، يَعْنِي مُعْتَرِضًا , قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَبَسَطَ بِيَدَيْهِ يَمِينًا وَشِمَالًا مَادًّا يَدَيْهِ".
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال کی اذان تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈالے ، اور نہ یہ سفیدی یہاں تک کہ فجر کی روشنی اس طرح اور اس طرح “ ، یعنی چوڑائی میں پھوٹ پڑے ۔ ابوداؤد ( طیالسی ) کہتے ہیں : ( شعبہ ) نے اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں بڑھا کر پھیلائے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2173]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 8 (1094)، سنن ابی داود/الصوم 17 (2346)، سنن الترمذی/الصوم 15 (706)، (تحفة الأشراف: 4624)، مسند احمد 5/7، 9، 13، 18 (صحیح)