سنن النسائي حدیث نمبر: 2172
Sunan an-Nasa'i 2172
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
30: بَابُ : كَيْفَ الْفَجْرُ
باب: فجر کیسے ہوتی ہے؟
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ، وَيُرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِكَفِّهِ، وَلَكِنِ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَتَيْنِ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں ، تاکہ وہ تم میں سونے والوں کو ہوشیار کر دیں ، ( تہجد پڑھنے یا سحری کھانے کے لیے ) اور تہجد پڑھنے والوں کو ( گھر ) لوٹا دیں ، اور فجر اس طرح ظاہر نہیں ہوتی “ ، انہوں اپنی ہتھیلی سے اشارہ کیا ، ” بلکہ فجر اس طرح ظاہر ہوتی ہے “ انہوں نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2172]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 642 (صحیح)