سنن النسائي حدیث نمبر: 2175
Sunan an-Nasa'i 2175
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
32: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَلَى أَبِي سَلَمَةَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں ابوسلمہ سے روایت کرنے میں یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدٌ الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَحَدٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا قَبْلَهُ فَلْيَصُمْهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ماہ رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے کوئی روزہ نہ رکھے ، البتہ جو اس سے پہلے ( اس دن ) روزہ رکھتا رہا ہو تو وہ رکھے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2175]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ اس دن کا روزہ رکھنا اگر پہلے سے اس کے معمولات میں داخل ہو تو وہ رکھے کیونکہ یہ استقبال رمضان کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ اس کے مستقل معمولات کا ایک حصہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)