سنن النسائي حدیث نمبر: 2176
Sunan an-Nasa'i 2176
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
32: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَلَى أَبِي سَلَمَةَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں ابوسلمہ سے روایت کرنے میں یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِصِيَامِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ يَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( رمضان ) سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ مت رکھو ، البتہ سوائے اس کے کہ یہ اس دن آ پڑے جس دن تم میں کا کوئی ( پہلے سے ) روزہ رکھتا رہا ہو “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ سند غلط ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2176]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6564) (حسن صحیح) (اصل حدیث صحیح ہے، مؤلف نے اس سند کو غلط بتایا ہے، اس لئے کہ بیشتر راویوں نے اسے ’’عن ابی سلمہ عن ابن عباس‘‘ کے بجائے ’’عن ابی سلمہ عن ابی ہریرة‘‘ روایت کیا ہے، واللہ اعلم