📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل (كتاب الصيام) 🏷️ باب: باب: اس سلسلے میں ابوسلمہ کی حدیث کا ذکر۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 2177 Sunan an-Nasa'i 2177
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
33: بَابُ : ذِكْرِ حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ فِي ذَلِكَ
باب: اس سلسلے میں ابوسلمہ کی حدیث کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی لگاتار دو مہینہ روزے رکھتے نہیں دیکھا ، البتہ آپ شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2177]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ شعبان میں برابر روزے رکھتے کہ وہ رمضان کے روزوں سے مل جاتا تھا، چونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لیے روزے آپ کے لیے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا، لیکن امت کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ شعبان کے نصف ثانی میں روزہ نہ رکھیں، تاکہ ان کی قوت و توانائی رمضان کے فرض روزوں کے لیے برقرار رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 11 (2336)، سنن الترمذی/الصوم 37 (736)، سنن ابن ماجہ/الصوم 4 (1648)، (تحفة الأشراف: 18232)، مسند احمد 6/293، 300، 311، سنن الدارمی/الصوم 33 (1780)، ویأتی عند المؤلف برقم: 2354 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #2177
2175 2176 2177 2178 2179
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ