سنن النسائي حدیث نمبر: 2179
Sunan an-Nasa'i 2179
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
34: بَابُ : الاِخْتِلاَفِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں محمد بن ابراہیم پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ، وَكَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ أَوْ عَامَّةَ شَعْبَانَ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق سوال کیا ، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پے در پے اتنے ) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ روزہ رکھنا بند نہیں کریں گے ، اور ( پھر ) اتنے دنوں تک بغیر روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ روزے نہیں رکھیں گے ، اور آپ ( پورے ) شعبان میں یا شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2179]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم 11 (2336)، (تحفة الأشراف: 18238)، مسند احمد 6/311 (صحیح)