سنن النسائي حدیث نمبر: 2180
Sunan an-Nasa'i 2180
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
34: بَابُ : الاِخْتِلاَفِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں محمد بن ابراہیم پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ الْهَادِ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ، فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَ حَتَّى يَدْخُلَ شَعْبَانُ، وَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي شَهْرٍ مَا يَصُومُ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : ہم ( ازواج مطہرات ) میں سے کوئی رمضان میں ( حیض کی وجہ سے ) روزہ نہیں رکھتی تو اس کی قضاء نہیں کر پاتی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے جتنا شعبان میں رکھتے تھے ، آپ چند دن چھوڑ کر پورے ماہ روزے رکھتے ، بلکہ ( بسا اوقات ) پورے ( ہی ) ماہ روزے رکھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2180]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 26 (1146)، (تحفة الأشراف: 17741)، مسند احمد 6/89 (صحیح)