سنن النسائي حدیث نمبر: 2216
Sunan an-Nasa'i 2216
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
42: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي صَالِحٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں ابوصالح پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ الْمُنْذِرَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصَّائِمُ يَفْرَحُ مَرَّتَيْنِ: عِنْدَ فِطْرِهِ، وَيَوْمَ يَلْقَى اللَّهَ وَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) روزہ میرے لیے ہے ، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ، روزہ دار دو بار خوش ہوتا ہے : ایک اپنے روزے کو کھولنے کے وقت ، اور دوسرے جس دن وہ اللہ سے ملے گا ، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے یہاں مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2216]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12884، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم2 (1894)، 9 (1904)، واللباس78 (5927)، والتوحید35 (7492)، 50 (7538)، صحیح مسلم/الصوم30 (1151)، سنن ابی داود/الصوم25 (2363)، سنن الترمذی/الصوم55 (764)، سنن ابن ماجہ/الصوم1 (1638)، موطا امام مالک/الصوم22 (58)، مسند احمد 2/232، 257، 266، 273، 293، 352، 312، 443، 445، 475، 477، 480، 501، 510، 516 (صحیح) (مؤلف کی اس سند میں ’’منذر‘‘ لین الحدیث ہیں، جن کی متابعت موجود ہے)