سنن النسائي حدیث نمبر: 2215
Sunan an-Nasa'i 2215
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
42: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي صَالِحٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں ابوصالح پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کہتا ہے : روزہ میرے لیے ہے ۔ اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ، اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں : ایک جب وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے ، اور ( دوسری ) جب وہ ( قیامت میں ) اللہ سے ملے گا اور وہ اسے بدلہ دے گا تو وہ خوش ہو گا ، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2215]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم30 (1151)، (تحفة الأشراف: 4027)، مسند احمد 3/5 (صحیح)