سنن النسائي حدیث نمبر: 2214
Sunan an-Nasa'i 2214
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
41: بَابُ : فَضْلِ الصِّيَامِ وَالاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ فِي حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي ذَلِكَ
باب: روزے کی فضیلت اور اس سلسلے میں علی رضی الله عنہ کی حدیث کے بارے میں ابواسحاق سبیعی پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے : روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ، اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں : ایک وقت وہ اپنے رب سے ملے گا ، اور دوسری خوشی وہ جو اسے روزہ کھولنے کے وقت حاصل ہوتی ہے ۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2214]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، حم1/446 (صحیح الإسناد) (یہ موقوف روایت مرفوع کے حکم میں ہے، اس لیے کہ کوئی صحابی خود سے غیب کی بات نہیں کہہ سکتا، جب کہ اس حدیث قدسی میں صائم کے اجر وثواب کا ذکر ہے)