سنن النسائي حدیث نمبر: 2158
Sunan an-Nasa'i 2158
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
22: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ هِشَامٍ وَسَعِيدٍ عَلَى قَتَادَةَ فِيهِ
باب: قتادہ سے روایت میں ہشام و سعید کے اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: زُعِمَ أَنَّ أَنَسًا الْقَائِلُ مَا كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی ، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، میں نے پوچھا ( کہا جاتا کہ «قلت» کا قائل انس ہیں ۱؎ ) : ان دونوں کے درمیان کتنا ( وقفہ ) تھا ؟ انہوں نے کہا : اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2158]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ جملہ معترضہ ہے جو قول اور مقولہ کے درمیان واقع ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)