سنن النسائي حدیث نمبر: 2328
Sunan an-Nasa'i 2328
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
67: بَابُ : النِّيَّةِ فِي الصِّيَامِ وَالاِخْتِلاَفِ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ فِي خَبَرِ عَائِشَةَ فِيهِ .
باب: روزہ میں نیت کا بیان اور اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا والی حدیث میں طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ، فَقَالَ: " أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ تُطْعِمِينِيهِ؟" فَنَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: " إِنِّي صَائِمٌ"، ثُمَّ جَاءَهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ، فَقَالَ: " مَا هِيَ؟"، قَالَتْ: حَيْسٌ، قَالَ: " قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تھے اور آپ روزہ سے ہوتے تھے ( اس کے باوجود ) پوچھتے تھے : ” تمہارے پاس رات کی کوئی چیز ہے جسے تم مجھے کھلا سکو ؟ “ ہم کہتے نہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” میں نے روزہ رکھ لیا “ پھر اس کے بعد ایک بار آپ ان کے پاس آئے ، تو انہوں نے کہا : ہمارے پاس ہدیہ آیا ہوا ہے آپ نے پوچھا : ” کیا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : حیس ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے صبح روزہ کا ارادہ کیا تھا “ پھر آپ نے کھایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2328]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2327 (حسن صحیح)