سنن النسائي حدیث نمبر: 2328
Sunan an-Nasa'i 2328
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ، فَقَالَ:" أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ تُطْعِمِينِيهِ؟" فَنَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ:" إِنِّي صَائِمٌ"، ثُمَّ جَاءَهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ، فَقَالَ:" مَا هِيَ؟"، قَالَتْ: حَيْسٌ، قَالَ:" قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تھے اور آپ روزہ سے ہوتے تھے ( اس کے باوجود ) پوچھتے تھے : ” تمہارے پاس رات کی کوئی چیز ہے جسے تم مجھے کھلا سکو ؟ “ ہم کہتے نہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” میں نے روزہ رکھ لیا “ پھر اس کے بعد ایک بار آپ ان کے پاس آئے ، تو انہوں نے کہا : ہمارے پاس ہدیہ آیا ہوا ہے آپ نے پوچھا : ” کیا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : حیس ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے صبح روزہ کا ارادہ کیا تھا “ پھر آپ نے کھایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2328]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2327 (حسن صحیح)