سنن النسائي حدیث نمبر: 2326
Sunan an-Nasa'i 2326
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
67: بَابُ : النِّيَّةِ فِي الصِّيَامِ وَالاِخْتِلاَفِ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ فِي خَبَرِ عَائِشَةَ فِيهِ .
باب: روزہ میں نیت کا بیان اور اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا والی حدیث میں طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ وَيَقُولُ: " هَلْ عِنْدَكُمْ غَدَاءٌ؟"، فَنَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: " إِنِّي صَائِمٌ"، فَأَتَانَا يَوْمًا وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟"، قُلْنَا: نَعَمْ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، قَالَ: " أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ فَأَكَلَ" , خَالَفَهُ قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تھے اور پوچھتے تھے : ” کیا تمہارے پاس کھانا ہے ؟ “ میں کہتی تھی : نہیں ، تو آپ فرماتے تھے : ” میں روزہ سے ہوں “ ، ایک دن آپ ہمارے پاس تشریف لائے ، اس دن ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا تھا ، آپ نے کہا : ” کیا تم لوگوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے ؟ “ ہم نے کہا : جی ہاں ہے ، ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے ، آپ نے فرمایا : ” میں نے صبح روزہ رکھنے کا ارادہ کیا تھا “ ، پھر آپ نے ( اسے ) کھایا ۔ قاسم بن یزید نے ان کی یعنی ابوبکر حنفی کی مخالفت کی ہے ۱؎ ، ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2326]
💡 وضاحت:
۱؎: سند میں مخالفت اس طرح ہے کہ ابوبکر والی روایت میں طلحہ بن یحییٰ اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے درمیان مجاہد کا واسطہ ہے اور قاسم کی روایت میں عائشہ بنت طلحہ کا، نیز دونوں روایتوں کے متن کے الفاظ بھی مختلف ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2324 (حسن صحیح)