سنن النسائي حدیث نمبر: 2109
Sunan an-Nasa'i 2109
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
5: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مَعْمَرٍ فِيهِ
باب: اس حدیث میں معمر پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: عُدْنَا عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ فَتَذَاكَرْنَا شَهْرَ رَمَضَانَ , فَقَالَ: مَا تَذْكُرُونَ، قُلْنَا: شَهْرَ رَمَضَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ هَلُمَّ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ.
عرفجہ کہتے ہیں کہ ہم نے عتبہ بن فرقد کی عیادت کی تو ہم نے ماہ رمضان کا تذکرہ کیا ، تو انہوں نے پوچھا : تم لوگ کیا ذکر کر رہے ہو ؟ ہم نے کہا : ماہ رمضان کا ، تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ، اور شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں ، اور ہر رات منادی آواز لگاتا ہے : اے خیر ( بھلائی ) کے طلب گار ! خیر کے کام میں لگ جا ۱؎ ، اور اے شر ( برائی ) کے طلب گار ! برائی سے باز آ جا “ ۲؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں : یہ غلط ہے ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2109]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہی اس کا وقت ہے کیونکہ اس وقت معمولی عمل پر بہت زیادہ ثواب دیا جاتا ہے۔ ۲؎: اور توبہ کر لے کیونکہ یہی توبہ کا وقت ہے۔ ۳؎: غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس روایت میں ہے کہ عرفجہ نے اسے عتبہ بن فرقد رضی الله عنہ کی روایت بنا دیا ہے، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کسی اور صحابی سے مروی ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9758)، مسند احمد 4/311، 312، 5/411 (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)