سنن النسائي حدیث نمبر: 2110
Sunan an-Nasa'i 2110
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
5: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مَعْمَرٍ فِيهِ
باب: اس حدیث میں معمر پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: كُنْتُ فِي بَيْتٍ فِيهِ عُتْبَةُ بْنُ فَرْقَدٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَ بِحَدِيثٍ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّهُ أَوْلَى بِالْحَدِيثِ مِنِّي، فَحَدَّثَ الرَّجُلُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي رَمَضَانَ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ، وَيُصَفَّدُ فِيهِ كُلُّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ، وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا طَالِبَ الْخَيْرِ هَلُمَّ، وَيَا طَالِبَ الشَّرِّ أَمْسِكْ".
عرفجہ کہتے ہیں : میں ایک گھر میں تھا جس میں عتبہ بن فرقد بھی تھے ، میں نے ایک حدیث بیان کرنی چاہی حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ( صاحب وہاں ) موجود تھے گویا وہ حدیث بیان کرنے کا مجھ سے زیادہ مستحق تھے ، چنانچہ ( انہوں ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں ، اور ہر سرکش شیطان کو بیڑی لگا دی جاتی ہے ، اور پکارنے والا ہر رات پکارتا ہے : اے خیر ( بھلائی ) کے طلب گار ! نیکی میں لگا رہ ، اور اے شر ( برائی ) کے طلب گار ! باز آ جا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2110]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)