سنن النسائي حدیث نمبر: 2111
Sunan an-Nasa'i 2111
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
6: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي أَنْ يُقَالَ لِشَهْرِ رَمَضَانَ رَمَضَانُ
باب: ماہ رمضان کو صرف رمضان کہنے کی رخصت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُهَلَّبُ بْنُ أَبِي حَبِيبَةَ. ح وَأَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ صُمْتُ رَمَضَانَ، وَلَا قُمْتُهُ كُلَّهُ"، وَلَا أَدْرِي كَرِهَ التَّزْكِيَةَ، أَوْ قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ غَفْلَةٍ وَرَقْدَةٍ اللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ.
ابوبکرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں کوئی ہرگز یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے ، اور اس کی پوری راتوں میں قیام کیا “ ( راوی کہتے ہیں ) میں نہیں جانتا کہ آپ نے آپ اپنی تعریف کرنے کو ناپسند کیا ، یا آپ نے سمجھا ضرور کوئی نہ کوئی غفلت اور لاپرواہی ہوئی ہو گی ( پھر یہ کہنا کہ میں نے پورے رمضان میں عبادت کی کہاں صحیح ہوا ) یہ الفاظ عبیداللہ کے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2111]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2415) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم 47 (2415)، (تحفة الأشراف: 11664)، مسند احمد 5/39، 30، 41، 48، 52 (ضعیف) (اس کے راوی ’’حسن بصری‘‘ مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)