سنن النسائي حدیث نمبر: 2113
Sunan an-Nasa'i 2113
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
7: بَابُ : اخْتِلاَفِ أَهْلِ الآفَاقِ فِي الرُّؤْيَةِ
باب: رویت ہلال میں ایک شہر والوں سے دوسرے شہر والوں کے اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ , قَالَ: " فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتَهَلَّ عَلَيَّ هِلَالُ رَمَضَانَ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمْ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ , قَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآهُ النَّاسُ فَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ؟ قَالَ: لَكِنْ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَأَصْحَابِهِ؟ قَالَ: لَا هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
کریب مولیٰ ابن عباس کہتے ہیں : ام فضل رضی اللہ عنہا نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا ، تو میں شام آیا ، اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی ، اور میں شام ( ہی ) میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا ، میں نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا ، پھر میں مہینہ کے آخری ( ایام ) میں مدینہ آ گیا ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے ( حال چال ) پوچھا ، پھر پہلی تاریخ کے چاند کا ذکر کیا ، ( اور مجھ سے ) پوچھا : تم لوگوں نے چاند کب دیکھا ؟ تو میں نے جواب دیا : ہم نے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا ، انہوں نے ( تاکیداً ) پوچھا : تم نے ( بھی ) اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا ؟ میں نے کہا : ہاں ( میں نے بھی دیکھا تھا ) اور لوگوں نے بھی دیکھا ، تو لوگوں نے ( بھی ) روزے رکھے ، اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی ، ( تو ) انہوں نے کہا : لیکن ہم لوگوں نے ہفتے ( سنیچر ) کی رات کو دیکھا تھا ، ( لہٰذا ) ہم برابر روزہ رکھیں گے یہاں تک کہ ہم ( گنتی کے ) تیس دن پورے کر لیں ، یا ہم ( اپنا چاند ) دیکھ لیں ، تو میں نے کہا : کیا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا چاند دیکھنا کافی نہیں ہے ؟ کہا : نہیں ! ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2113]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصیام 5 (1087)، سنن ابی داود/الصیام 9 (2332)، سنن الترمذی/الصیام 9 (693)، (تحفة الأشراف: 6357)، مسند احمد 1/306 (صحیح)