سنن النسائي حدیث نمبر: 2114
Sunan an-Nasa'i 2114
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
8: بَابُ : قَبُولِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ الْوَاحِدِ عَلَى هِلاَلِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ فِيهِ عَلَى سُفْيَانَ فِي حَدِيثِ سِمَاكٍ
باب: ماہ رمضان کے چاند (دیکھنے) پر ایک آدمی کی گواہی قبول کرنے کا بیان اور سماک (والی) حدیث میں راویوں کے سفیان پر اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: رَأَيْتُ الْهِلَالَ، فَقَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"، قَالَ: نَعَمْ، فَنَادَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صُومُوا.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور ) کہنے لگا : میں نے چاند دیکھا ہے ، تو آپ نے کہا : ” کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں روزہ رکھنے کا اعلان کر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2114]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2340) ترمذي (691) ابن ماجه (1652) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصیام 14 (2340، 2341) مرسلاً، سنن الترمذی/الصیام 7 (691)، سنن ابن ماجہ/الصیام 6 (1652)، (تحفة الأشراف: 6104)، سنن الدارمی/الصوم 6 (1734) (ضعیف) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں بڑا اضطراب پایا جاتا ہے، نیز سماک کے اکثر تلامذہ اسے عن عکرمہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم مرسلاً روایت کرتے ہیں جیسا کہ رقم 2116: میں آ رہا ہے)