سنن النسائي حدیث نمبر: 2265
Sunan an-Nasa'i 2265
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
49: بَابُ : ذِكْرِ اسْمِ الرَّجُلِ
باب: اوپر والی جابر رضی الله عنہ کی حدیث میں مبہم راوی کے نام کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ، فَبَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ، فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنَ الْمَاءِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ وَصَامَ بَعْضٌ فَبَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا , فَقَالَ: " أُولَئِكَ الْعُصَاةُ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کے لیے نکلے ، تو آپ نے روزہ رکھا ، یہاں تک کہ آپ کراع الغمیم پر پہنچے ، تو لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا ، تو آپ کو خبر ملی کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہو گیا ہے ، تو آپ نے عصر کے بعد پانی سے بھرا ہوا پیالہ منگایا ، پھر پانی پیا ، اور لوگ دیکھ رہے تھے ، تو ( آپ کو دیکھ کر ) بعض لوگوں نے روزہ توڑ دیا ، اور بعض رکھے رہ گئے ، آپ کو یہ بات پہنچی کہ کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـ : ” یہی لوگ نافرمان ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2265]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم15 (1114)، سنن الترمذی/الصوم18 (710)، (تحفة الأشراف: 2598) (صحیح)