سنن النسائي حدیث نمبر: 2266
Sunan an-Nasa'i 2266
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
49: بَابُ : ذِكْرِ اسْمِ الرَّجُلِ
باب: اوپر والی جابر رضی الله عنہ کی حدیث میں مبہم راوی کے نام کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ , فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: " أَدْنِيَا فَكُلَا"، فَقَالَا: إِنَّا صَائِمَانِ، فَقَالَ: " ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمُ اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مرالظہران ( مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے ) میں کھانا لایا گیا ، تو آپ نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا : ” تم دونوں قریب آ جاؤ اور کھاؤ “ ، انہوں نے عرض کیا : ہم روزہ سے ہیں ، تو آپ نے لوگوں سے کہا : ” اپنے دونوں ساتھیوں کے کجاوے کس دو ، اور اپنے دونوں ساتھیوں کے کام کر دو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2266]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے سفر میں روزہ رکھنے کا جواز ثابت ہوا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ روزہ دار کو سہولت پہنچائی جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن وهو مدلس،والصواب أنه مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج دارالدعوہ:
مسند احمد 2/336 (صحیح)