سنن النسائي حدیث نمبر: 2418
Sunan an-Nasa'i 2418
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
83: بَابُ : كَيْفَ يَصُومُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: ہر مہینے تین روزے کس طرح رکھے؟ اس سلسلے کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَشْجَعِيُّ كُوفِيٌّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: " أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صِيَامَ عَاشُورَاءَ، وَالْعَشْرَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ چار باتیں ایسی ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے : ۱- عاشوراء کے روزے کو ۲- ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کے روزے کو ۱؎ ۳- ہر مہینہ کے تین روزے ۴- اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2418]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں، ذی الحجہ کی دسویں تاریخ اس سے خارج ہے کیونکہ یوم النحر کو روزے رکھنا جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق الأشجعي: لم أجد من وثقه،والحديث الآتي (2419) يغني عن حديثه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15813)، مسند احمد 6/287 (ضعیف) (اس کے راوی ”ابو اسحاق اشجعی‘‘ لین الحدیث ہیں)