سنن النسائي حدیث نمبر: 2195
Sunan an-Nasa'i 2195
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ , قَالَتْ: فَكَانَ يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ، وَيَقُولُ:" مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" , قَالَ: فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو نکلے ، اور آپ نے مسجد میں نماز پڑھائی ۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی ، اس میں یہ بھی تھا کہ انہوں نے کہا : ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دیئے رمضان ( کی راتوں میں ) قیام یعنی صلاۃ تراویح پڑھنے کی ترغیب دیتے ، اور فرماتے : ” جس نے شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب چاہنے کے لیے قیام کیا ، یعنی صلاۃ تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ، اور معاملہ اسی پر قائم رہا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2195]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی تراویح واجب اور ضروری نہیں ہوئی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد لكن قوله متوفى الخ مدرج إنما هو من قول الزهري
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16713)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 29 (924)، صحیح مسلم/المسافرین 25 (761)، مسند احمد 6/232 (صحیح)