سنن النسائي حدیث نمبر: 2283
Sunan an-Nasa'i 2283
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
51: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ وَعَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں معاویہ بن سلام اور علی بن المبارک کے یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ، وَأَنَا صَائِمٌ , فَقَالَ: " هَلُمَّ"، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ: " أَتَدْرِي مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ؟" , قُلْتُ: وَمَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ؟ قَالَ: " الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ کھانا کھا رہے تھے اور میں روزے سے تھا ، آپ نے فرمایا : آؤ ( کھانا کھا لو ) میں نے کہا : میں روزے سے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہیں وہ چیز معلوم ہے جس کی اللہ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ؟ ، میں نے کہا : کس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ؟ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزے اور آدھی نماز کی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2283]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2281 (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ھانی‘‘ لین الحدیث ہیں)