سنن النسائي حدیث نمبر: 2281
Sunan an-Nasa'i 2281
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
51: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ وَعَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں معاویہ بن سلام اور علی بن المبارک کے یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْحَرِيشٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا صَائِمٌ وَهُوَ يَأْكُلُ , قَالَ: " هَلُمَّ" , قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ: " تَعَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ" , قُلْتُ: وَمَا وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ , قَالَ: " الصَّوْمَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ".
ہانی بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور میں روزے سے تھا ، اور آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” آؤ “ ( کھانے میں شریک ہو جاؤ ) میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ” ادھر آؤ ، کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے “ ۔ میں نے کہا : اللہ نے مسافر کو کیا چھوٹ دی ہے ؟ آپ نے فرمایا : روزے کی ، اور آدھی نماز کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2281]
💡 وضاحت:
۱؎: بلحریش بنی الحریش کا مخفف ہے جیسے بلحارث بنی الحارث کا مخفف ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 5353 (صحیح) (سابقہ متابعت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ھانی بن الشخیر‘‘ لین الحدیث ہیں، نیز اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)