سنن النسائي حدیث نمبر: 2332
Sunan an-Nasa'i 2332
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
67: بَابُ : النِّيَّةِ فِي الصِّيَامِ وَالاِخْتِلاَفِ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ فِي خَبَرِ عَائِشَةَ فِيهِ .
باب: روزہ میں نیت کا بیان اور اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا والی حدیث میں طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ طَعَامٍ؟"، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " إِذًا أَصُومُ"، قَالَتْ: وَدَخَلَ عَلَيَّ مَرَّةً أُخْرَى، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَقَالَ: " إِذًا أُفْطِرُ الْيَوْمَ، وَقَدْ فَرَضْتُ الصَّوْمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا : ” کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں “ ، پھر دوسری بار آپ میرے پاس تشریف لے آئے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب تو میں آج روزہ توڑ دوں گا حالانکہ میں نے روزہ کی نیت کر لی تھی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2332]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17884) (صحیح) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)