سنن النسائي حدیث نمبر: 2132
Sunan an-Nasa'i 2132
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
13: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مَنْصُورٍ فِي حَدِيثِ رِبْعِيٍّ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں ربعی کی حدیث میں منصور پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ صُومُوا لِلرُّؤْيَةِ، وَأَفْطِرُوا لِلرُّؤْيَةِ، فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان سے پہلے روزہ مت رکھو ، چاند دیکھ کر روزہ رکھو ، اور ( چاند ) دیکھ کر ( روزہ ) بند کرو ، ( پس ) اگر چاند سے ورے بادل حائل ہو جائے تو تیس ( دن ) پورے کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2132]
💡 وضاحت:
۱؎: ”رمضان سے پہلے“ سے مراد شعبان کا آخری دن ہے، مطلب یہ ہے کہ صرف یہ خیال کر کے روزہ مت شروع کر دو کہ آج ۲۹ شعبان ہے تو ممکن ہے کہ کل سے رمضان شروع ہو جائے گا، بلکہ یقینی طور پر چاند دیکھ کر ہی روزہ شروع کرو، یا پھر تیس کی گنتی پوری کرو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2131 (صحیح)