سنن النسائي حدیث نمبر: 2407
Sunan an-Nasa'i 2407
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
81: بَابُ : صَوْمِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ
باب: مہینے میں تین دن کے روزہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: بِنَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا ہے : وتر پڑھ کر سونے کا ، جمعہ کے دن غسل کرنے کا ۱؎ ، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2407]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی ٹکڑا منکر ہے، صحیح صلاۃ الضحیٰ ”چاشت کی نماز“ ہے جیسا کہ اگلی روایت میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
منكر بذكر الغسل والمحفوظ صلاة الضحى
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2371 (منکر) (جمعہ کے غسل کا تذکرہ منکر ہے، صحیح ’’چاشت کی صلاة“ ہے)