سنن النسائي حدیث نمبر: 2187
Sunan an-Nasa'i 2187
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
35: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَائِشَةَ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں عائشہ رضی الله عنہا کی روایت کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ صَوْمٌ مَعْلُومٌ سِوَى رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، وَلَا أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، الا یہ کہ سفر سے ( لوٹ کر ) آتے ، پھر میں نے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان کے علاوہ کوئی متعین روزہ تھا ؟ تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم آپ نے سوائے رمضان کے کسی خاص مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ آپ نے وفات پا لی ، اور نہ ہی پورے ماہ بغیر روزے کے رہے ، کچھ نہ کچھ روزے اس میں ضرور رکھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2187]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 13 (717)، سنن ابی داود/الصلاة 301 (1292)، (تحفة الأشراف: 16211)، مسند احمد 6/218 (صحیح)