سنن النسائي حدیث نمبر: 2305
Sunan an-Nasa'i 2305
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
57: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عُرْوَةَ فِي حَدِيثِ حَمْزَةَ فِيهِ
باب: حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کی حدیث میں عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو، وَذَكَرَ آخَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجِدُ فِيَّ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ قَالَ: " هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : میں اپنے اندر سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں ، تو کیا ( اگر میں روزہ رکھوں تو ) مجھ پر گناہ ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اللہ عزوجل کی جانب سے رخصت ہے ، تو جس نے اس رخصت کو اختیار کیا تو یہ اچھا ہے ، اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی حرج نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2305]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)