سنن النسائي حدیث نمبر: 2320
Sunan an-Nasa'i 2320
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
64: بَابُ : وَضْعِ الصِّيَامِ عَنِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ کو روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، " أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ إِذَا طَهُرَتْ؟ قَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَطْهُرُ فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّوْمِ، وَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ".
معاذہ عدویہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا عورت جب حیض سے پاک ہو جائے تو نماز کی قضاء کرے ؟ انہوں نے کہا : کیا تو حروریہ ۱؎ ہے ؟ ہم عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حیض سے ہوتی تھیں ، پھر ہم پاک ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روزہ کی قضاء کا حکم دیتے تھے ، اور نماز کی قضاء کے لیے نہیں کہتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2320]
💡 وضاحت:
۱؎: حروریۃ حروراء کی طرف منسوب ہے، جو کوفہ کے قریب ایک جگہ ہے، چونکہ خوارج یہیں جمع تھے اس لیے اسی کی طرف منسوب کر کے حروری کہلاتے تھے، یہ لوگ حیض کے دنوں میں فوت شدہ نمازوں کی قضاء کو واجب قرار دیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 382 (صحیح)