سنن النسائي حدیث نمبر: 2239
Sunan an-Nasa'i 2239
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
43: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ فِي فَضْلِ الصَّائِمِ
باب: روزہ دار کی فضیلت کے سلسلے میں ابوامامہ رضی الله عنہ والی حدیث میں محمد بن ابی یعقوب پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَهْلٌ، " أَنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا , يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ يُقَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الصَّائِمُونَ هَلْ لَكُمْ إِلَى الرَّيَّانِ مَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَدْخُلْ فِيهِ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ".
سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے ، قیامت کے دن پکار کر کہا جائے گا ، روزہ دارو ! کہاں ہو ؟ کیا تمہیں ریان کی طرف آنے کی رغبت ہے ؟ جو شخص اس میں داخل ہو گا ، اور ( اس کے چشمے ( ریان ) کا پانی پئے گا ) وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا ، جب وہ داخل ہو جائیں گے تو وہ بند کر دیا جائے گا ۔ اس دروازے سے روزہ دار کے سوا کوئی اور داخل نہ ہو گا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2239]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد موقوف ق مرفوعا دون جملة الظمأ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 4791 (صحیح الإسناد) (یہ حدیث مرفوعا متفق علیہ ہے، من دخله لم يظمأ أبدا مرفوع حدیث میں ثابت نہیں ہے، صحیح الترغیب 969، تراجع الالبانی 351)