سنن النسائي حدیث نمبر: 2200
Sunan an-Nasa'i 2200
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
39: بَابُ : ثَوَابِ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ وَصَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَالاِخْتِلاَفِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِي الْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (رات کو) قیام کرنے یعنی صلاۃ تراویح پڑھنے اور (دن کو) روزہ رکھنے والے کے ثواب کا بیان اور اس سلسلہ کی حدیث میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ , قَالَ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دئیے ، رمضان میں قیام اللیل کی ترغیب دلاتے تھے ، ( اور ) فرماتے : ” جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام اللیل کی ، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2200]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/ صلاة المسافرین 25 (759)، سنن ابی داود/ صلاة المسافرین 318 (1371)، سنن الترمذی/ صلاة المسافرین 83 (808)، (تحفة الأشراف: 15270)، موطا امام مالک/رمضان 1 (2)، مسند احمد 2/241، 281، 289، 259، وراجع رقم: 1603 (صحیح)