سنن النسائي حدیث نمبر: 2292
Sunan an-Nasa'i 2292
کتاب #26: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
55: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مَنْصُورٍ
باب: اس حدیث میں منصور پر رواۃ کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى أَتَى عُسْفَانَ، فَدَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ قَالَ شُعْبَةُ فِي رَمَضَانَ، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: مَنْ شَاءَ صَامَ , وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لیے نکلے ، آپ روزہ رکھے ہوئے تھے ۔ یہاں تک کہ آپ عسفان ۱؎ پہنچے ، تو ایک پیالہ منگایا اور پیا ۔ شعبہ کہتے ہیں : یہ واقعہ رمضان کے مہینے کا ہے ، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے : سفر میں جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2292]
💡 وضاحت:
۱؎: عسفان کے پاس ہی قدید ہے، یہ واقعہ وہی ہے جس کا تذکرہ اوپر روایتوں میں ہے، کسی راوی نے قدید کہا اور کسی نے عسفان۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصوم 10 (1661) مختصراً، (تحفة الأشراف: 6425)، مسند احمد 1/340 (صحیح)