سنن النسائي حدیث نمبر: 1947
Sunan an-Nasa'i 1947
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
56: بَابُ : مَكَانِ الْمَاشِي مِنَ الْجَنَازَةِ
باب: پیدل چلنے والا جنازہ کے کس طرف رہے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَمَنْصُورٌ , وَزِيَادٌ , وَبَكْرٌ هُوَ ابْنُ وَائِلٍ، كُلُّهُمْ ذَكَرُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا مِنَ الزُّهْرِيِّ يُحَدِّثُ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ" رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ يَمْشُونَ بَيْنَ يَدَيِ الْجَنَازَةِ" , بَكْرٌ وَحْدَهُ لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانَ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو جنازے کے آگے ( پیدل ) چلتے دیکھا ہے ۔ صرف راوی بکر نے عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ نسائی کہتے ہیں : اس حدیث کا موصول ہونا غلط ہے ، اور درست مرسل ہونا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1947]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)