سنن النسائي حدیث نمبر: 1965
Sunan an-Nasa'i 1965
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
67: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ
باب: مقروض آدمی کی نماز جنازہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ سَأَلَ: " هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ؟" فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنْ قَالُوا: لَا قَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" , فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن مرتا اور اس پر قرض ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے : ” کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے ؟ “ اگر لوگ کہتے : جی ہاں ، تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے ، اور اگر کہتے : نہیں ، تو آپ کہتے : ” تم اپنے ساتھی پر نماز ( جنازہ ) پڑھ لو “ ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح و نصرت کا دروازہ کھولا ، تو آپ نے فرمایا : ” میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں ، تو جو وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو ، تو ( اس کی ادائیگی ) مجھ پر ہے ، اور اگر کوئی مال چھوڑ کر گیا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1965]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکفالة 5 (2298)، والنفقات 15 (2398)، صحیح مسلم/الفرائض 4 (1619)، سنن الترمذی/الجنائز 69 (1070)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 13 (2415)، (تحفة الأشراف: 15257، 15315)، مسند احمد 2/290، 453 (صحیح)