📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز) 🏷️ باب: باب: میت پر رونے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 1844 Sunan an-Nasa'i 1844
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
13: بَابُ : فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت پر رونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا حُضِرَتْ بِنْتٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَغِيرَةٌ , فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهَا إِلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَقَضَتْ وَهِيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَتْ أُمُّ أَيْمَنَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أُمَّ أَيْمَنَ أَتَبْكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَكِ"، فَقَالَتْ: مَا لِي لَا أَبْكِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَسْتُ أَبْكِي وَلَكِنَّهَا رَحْمَةٌ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ بِخَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ تُنْزَعُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چھوٹی بچی کے مرنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( اپنی گود میں ) لے کر اپنے سینے سے چمٹا لیا ، پھر اس پر اپنا ہاتھ رکھا ، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی مر گئی ، ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” ام ایمن ! تم رو رہی ہو جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس موجود ہیں ؟ “ تو انہوں نے کہا : میں کیوں نہ روؤں جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( خود ) رو رہے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں رو نہیں رہا ہوں ، البتہ یہ اللہ کی رحمت ہے “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن ہر حال میں اچھا ہے ، اس کی دونوں پسلیوں کے بیچ سے اس کی جان نکالی جاتی ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا رہتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1844]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الشمائل 44 (308)، (تحفة الأشراف: 6156)، مسند احمد 1/268، 273، 297 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #1844
1842 1843 1844 1845 1846

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1845 أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَ...
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر رونے لگی...
#1846 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ...
جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد غزوہ احد کے دن قتل کر دیئے گئے ، می...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ