سنن النسائي حدیث نمبر: 1842
Sunan an-Nasa'i 1842
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
11: بَابُ : تَقْبِيلِ الْمَيِّتِ
باب: میت کو بوسہ لینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ مَعْمَرٌ , وَيُونُسُ , قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنُحِ حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يُكَلِّمِ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِبُرْدٍ حِبَرَةٍ" فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ , ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ فَبَكَى" ثُمَّ قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ، وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتَّهَا".
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ نے مجھے خبر دی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ ابوبکر ” سُنح “ میں واقع اپنے مکان سے ایک گھوڑے پر آئے ، اور اتر کر ( سیدھے ) مسجد میں گئے ، لوگوں سے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ( ان کے حجرے میں ) آئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک کھولا ، پھر وہ آپ پر جھکے اور آپ کا بوسہ لیا ، اور رو پڑے ، پھر کہا : میرے باپ آپ پر فدا ہوں ، اللہ کی قسم ! اللہ کبھی آپ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا ، رہی یہ موت جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر لکھ دی تھی تو یہ ہو چکی ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1842]
💡 وضاحت:
۱؎: ”سُنح“ یہ عوالی مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے جہاں نبی حارث بن خزرج کے لوگ رہتے تھے، ابوبکر رضی الله عنہ نے انہیں میں شادی کی تھی، اور یہ رہائش گاہ ان کی اہلیہ کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہاں جانے کی اجازت دی تھی۔ ۲؎: ابوبکر رضی الله عنہ نے یہ جملہ عمر رضی الله عنہ کی تردید میں کہا تھا جو کہہ رہے تھے کہ آپ پھر دنیا میں واپس آئیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 3 (1241)، والمغازي 83 (4452)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 65 (1627) مطولاً، (تحفة الأشراف: 6632)، مسند احمد 6/117 (صحیح)